دی گئی زکوۃ مہتمم کا خود استعمال کر لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طلبا کے لئے دی گئی زکوۃ مہتمم کا خود استعمال کر لینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر ہم زکوة کی رقم مدرسے میں طلبا کے لیے دیتے ہیں، اس کے لیے جو مدرسے کا انچارج یا مہتمم ہے، ہم اسے اپنا وکیل بنا کر زکوة، ان کے ہاتھ میں دیتے ہیں، اب اگر وہ صاحب آگے پیسے طلبا کو نہیں دیتے، بلکہ خود استعمال کر لیتے ہیں، تو کیا ہماری طرف سے زکوة ادا ہوجائے گی؟
جواب
وکیلِ زکوۃ کا مذکورہ رقم خود رکھ لینا، نا جائز و حرام ہے، اس پر لازم ہے کہ جن کیلئے زکوۃ دہندہ گان نے زکوۃ دی ہے، انہیں زکوۃ دے، اگر خود استعمال کرے گا، تو جنہوں نے زکوۃ دی تھی، ان کی زکوۃ ادا نہ ہوگی بلکہ ایسی صورت میں زکوۃ دہندہ گان کو اطلاع دینے کےساتھ ساتھ تاوان دینا بھی لازم ہے۔
عموماً مدارس میں کسی خاص طالب علم کیلئے زکوۃ نہیں لی جاتی، بلکہ تمام طلبہ یا مدرسہ کے تمام اخراجات کیلئے زکوۃ لی جاتی ہے اور پھر اس کا شرعی طریقہ کار کے مطابق شرعی حیلہ کر کے اس سے تمام اخراجات ادا کئے جاتے ہیں، ایسا کرنا درست ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے: وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے، ہاں اگر زکوٰۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 888، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1544
تاریخ اجراء: 26 شعبان المعظم 1445 ھ/08 مارچ 2024 ء