logo logo
AI Search

کیا زکوٰۃ کے پیسے سے عمرہ کرانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زکوۃ کے پیسوں سے عمرہ کروانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی کو زکوٰۃ کے پیسوں سے عمرہ کروائیں تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

جواب

زکوٰۃ کے پیسے سے کسی کو عمرہ نہیں کرواسکتے کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا دینا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی لہذا اگر مستحق زکوٰۃ کی ملکیت و قبضہ میں پیسے دئیے بغیر ہی اس کو عمرہ کروادیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اور اگر اتنی نقدی رقم کا کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا دیا، اس طرح کہ وہ اس رقم کا جو چاہے کرے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ البتہ کسی شرعی فقیر کو بلا ضرورت اتنی زکوٰۃ دے دینا کہ وہ خود نصاب کا مالک ہوجائے یہ مکروہ ہے، اور اگر وہ مدیون ہو کہ دَین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے یا صاحب عیال ہو کہ اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو یہ مکروہ بھی نہیں۔

فتاوٰی اہلسنت میں اسی سوال کے جواب میں ہے: زکوٰۃ کے پیسے سے کسی کو عمرہ نہیں کرواسکتے، فقیر شرعی کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ پھر وہ جو چاہے کرے۔ (فتاوٰی اہلسنت احکام زکوٰۃ، ص 414، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے: ایک شخص کو بقدرِ نصاب دے دینا مکروہ، مگر دے دیا تو ادا ہوگئی۔ ایک شخص کو بقدرِ نصاب دینا مکروہ اُس وقت ہے کہ وہ فقیر مدیُون نہ ہو اور مدیُون ہو تو اتنا دے دینا کہ دَین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے مکروہ نہیں۔ یوہیں اگر وہ فقیر بال بچوں والا ہے کہ اگرچہ نصاب یا زیادہ ہے، مگر اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو اس صورت میں بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 05، ص 927، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1895
تاریخ اجراء:30 محرم الحرام 1445ھ/18 اگست 2023ء