زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
زکوۃ نکالنے کاآسان طریقہ
فتوی نمبر:WAT-171
تاریخ اجراء:09ربیع الاول 1443ھ/16اکتوبر2021ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زکوۃ نکالنے کا طریقہ بتا دیجئے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زکوۃ نکالنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ جس اسلامی تاریخ کو اور جس وقت کسی کے پاس نصاب کے برابر وہ مال آیا، جس پر زکاۃ بنتی ہے، جیسے روپے، پیسے، پرائز بانڈ، سونا، چاندی، تجارتی مال وغیرہ، اس اسلامی تاریخ اور ٹائم کو نوٹ کر لیا جائے، جب آئندہ سال وہی اسلامی تاریخ اور وہی ٹائم آئے گا تو اب سال مکمل ہوجائے گا، اس وقت جتنا مال ہے، سب کی قیمت لگا کر ٹوٹل کر لیا جائے اور جو قرض دینا ہے، وہ مائنس کرلیا جائے اگر اب بھی نصاب کے برابر یا اس سے زائد مال بچتا ہے، تو اب کل اماؤنٹ کو چالیس پہ تقسیم کر دیں، جو جواب آئے، اتنی زکوٰۃ ادا کرنا آپ پہ فرض ہوگی۔ اور یہ یاد رہے کہ نصاب پر جب سال شروع ہو جائے تو سال مکمل ہونے سے پہلے کل یا تھوڑی تھوڑی زکاۃ نکالی جا سکتی ہے اور سال پورا ہونے پر حساب لگا لیا جائے اگر مکمل زکاۃ ادا ہوچکی تو ٹھیک ورنہ جتنی رہتی ہے یا ابھی کچھ بھی ادانہیں کی تو اب فورا بلا تاخیر زکاۃ کسی مستحق زکاۃ کو ادا کرنا لازم ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم