logo logo
AI Search

کیا پھوپھی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

تحفے کے نام پرزکوۃ دینا 

مجیب: ابو مصطفیٰ کفیل عطاری مدنی  
فتوی نمبر: Web-148
تاریخ اجراء13 رمضان المبارک1443 ھ  /15 اپریل2022ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا میں اپنی پھوپھی کو تحفے کے نام سے زکوۃ دے سکتا ہوں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی پھوپھی شرعی طور پر زکوۃ کی مستحق ہیں یعنی وہ شرعی فقیر ہیں اور ہاشمی نہیں، تو انہیں زکوۃ کی نیت سے تحفے کے نام پر بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے، زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ زکوۃ بتا کر دینا کہ یہ زکوۃ ہے، ضروری نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

ومن اعطی مسکینادراھم وسما ھا  ھبۃ  او قرضاونوی الزکوۃ  فانھا تجزیہ

یعنی جس نے مسکین کو دراہم  دیے اور اس کو ہبہ یا قرض کا نام دیا اور زکوۃ کی نیت کی تو یہ (نیت) اس کو کفایت کرے گی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد:1، صفحہ:171، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم