logo logo
AI Search

چھ رکعت نوافل ایک سلام سے پڑھ سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

چھ رکعات نوافل ایک سلام کے ساتھ ادا کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

دن کے نوافل ہوں یا رات کے، بہر صورت چار رکعتوں پر سلام پھیر نا افضل ہے، جبکہ چار رکعتوں سے زائد ایک سلام کے ساتھ نوافل پڑھنے کے حوالے سے یہ تفصیل ہے کہ:

دن کے نوافل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعتوں سے زائد پڑھنا، اور رات کے نوافل میں ایک سلام کے ساتھ آٹھ رکعتوں سے زائد پڑھنا، ظاہرامکروہ تحریمی (یعنی ناجائز و گناہ) ہے۔

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ ایک سلام کے ساتھ چھ نوافل پڑھنے کا حکم دن اور رات کے اعتبار سے مختلف ہے، اگر دن میں پڑھ رہے ہوں تو چھ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے، اور رات کے نوافل پڑھ رہے ہوں، تو چھ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں لیکن خلاف افضل ہے۔

نیزیہ یاد رہے کہ! نوافل جب دوسے زائد پڑھے جائیں، خواہ وہ دن کے ہوں یا رات کے، بہر صورت آخری قعدے کی طرح پہلے والے قعدوں میں بھی درود شریف پڑھا جائے، اور اگلی رکعت میں ثنا اور تعوذ بھی پڑھا جائے۔

تنوير الابصار و در مختار میں ہے (و تكره الزيادة على أربع في نفل النهار، و على ثمان ليلا بتسليمة) لأنه لم يرد (و الأفضل فيهما الرباع بتسليمة) ترجمہ: دن کے نوافل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے، اور رات کے نوافل میں ایک سلام کے ساتھ آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے، کیونکہ (اس سے زیادہ پڑھنا) وارد نہیں ہے۔ البتہ دن اور رات دونوں میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت پڑھنا افضل ہے۔

لأنه لم يرد کے تحت رد المحتار میں ہے أي لم يرد عنه صلى اللہ عليه وسلم أنه زاد على ذلك. و الأصل فيه التوقيف كما في فتح القدير: أي فما لم يوقف على دليل المشروعية لا يحل فعله بل يكره أي اتفاقا كما في منية المصلي أي من أئمتنا الثلاثة، نعم وقع الاختلاف بين المشايخ المتأخرين في الزيادة على الثمانية ليلا، فقال بعضهم لا يكره و إليه ذهب شمس الأئمة السرخسي و صححه في الخلاصة، و صحح في البدائع الكراهة. قال: و عليه عامة المشايخ، و تمامه في الحلية و البحر

 ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے ایک سلام کے ساتھ اس سے زیادہ رکعات ادا فرمائی ہوں۔ اس میں اصل یہ ہے کہ عبادات توقیفی ہیں، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے؛ یعنی جس عمل کی مشروعیت پر کوئی دلیل موجود نہ ہو، اس کا کرنا جائز نہیں بلکہ مکروہ ہے، ہمارے تینوں ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ) کا اس پر اتفاق ہے۔ جیسا کہ منیة المصلی میں ہے۔ ہاں! بعض متاخرین مشائخ کے مابین رات کے نفل میں ایک سلام کے ساتھ آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہوا۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ مکروہ نہیں ہے، اور امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسی کو اختیار کیا، اورخلاصہ میں اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدائع الصنائع میں کراہت کی تصحیح کی گئی ہے، مصنف فرماتے ہیں کہ: جمہور مشائخ اسی پر ہیں، اور اس کی مکمل بحث حلیہ اور بحر الرائق میں مذکور ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 550، 551، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: واضح رہے کہ نوافل مطلقہ میں ہر دورکعت نماز جداگانہ ہے، تو جتنی رکعات ایک نیت سے پڑھی جائیں ہر قعدے میں التحیات کے بعد درود و دعا سب کچھ ہو، اور ہر تیسری کے آغاز میں: سبحانک اللّٰھم و اعوذ (ثناء و تعوذ) بھی ہو۔ ثم اقول: ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیک ایک نیت میں دن کوچار رکعت سے زیادہ مکروہ ہے اور رات کو آٹھ سے زائد و ظاھر اطلاق الکراھۃ کراھۃ التحریم و قد نص فی رد المحتار علی انہ لایحل فعلہ۔ (کراہت کومطلق رکھنے سے ظاہریہ ہے کہ یہ کراہت تحریمی ہے، اور رد المحتار میں اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اس طرح کرنا، جائز نہیں ہے۔)" (فضائل دعا، ص 305، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے دن کے نفل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت سے زيادہ اور رات میں آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے اور افضل یہ ہے کہ دن ہو یا رات ہو چار چار رکعت پر سلام پھیرے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 667، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے جو سنت مؤکدہ چار رکعتی ہے اس کے قعدۂ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھے اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے اور ان سنتوں میں جب تیسری رکعت کے ليے کھڑا ہوا تو سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی نہ پڑھے اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسری رکعت میں سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ بھی پڑھے، بشرطیکہ دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا سُبْحٰنَکَ اور اَعُوْذُ کافی ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 667، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5213
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1448ھ / 25 جولائی 2026ء