جمعہ کی نماز میں امام کا کھڑے ہو کر اقامت سننا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمعہ کے خطبہ کے بعد امام کا کھڑے ہو کر اقامت سننا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جمعہ کے خطبہ کے بعد امام صاحب کھڑے کھڑے اقامت سن سکتے ہیں؟
جواب
امام صاحب اگر وقتِ اقامت اپنے مصلے پر موجود ہوں، جیسا کہ ہمارے یہاں عموماً نمازِ پنجگانہ میں ہوتا ہے، تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں سب کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ ’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘ پر کھڑے ہوں، کتبِ فقہیہ میں اس کی واضح تصریحات موجود ہیں۔
البتہ جمعہ کے خطبہ کے بعد امام صاحب کو کھڑے کھڑے یا بیٹھ کر تکبیر سننے کا اختیار ہے، اقامت سے پہلے امام کا مصلے پر بیٹھنا ضروری نہیں، لیکن مقتدیوں کے لیے حکمِ شرع یہی ہے کہ اقامت بیٹھ کر ہی سُنیں اور ’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘ پر کھڑے ہوں۔
خطبے کے بعد امام کو کھڑے یا بیٹھے تکبیر سننے کا اختیار ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی رضویہ میں ہے: ”اگر وہ (یعنی امام) تکبیر ہوتے میں چلا، تو اُسے بیٹھنے کی بھی حاجت نہیں، مصلّے پر جائے اور ’’حی علی الفلاح‘‘ یا ختمِ تکبیر پر تکبیرِ تحریمہ کہے، یوں ہی بعدِ خطبہ اُسے اختیار ہے۔ کہیں منقول نہیں کہ خطبہ فرما کر تکبیر ہونے تک جلوس فرماتے، یہ حکم قوم کے لئے (ہے) واللہ تعالٰی اعلم۔ “ (فتاوٰی رضویہ، ج 05، ص 419، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا ”امام بعد ختم خطبہ جمعہ بیٹھ جاتا ہے اور مقتدی بھی بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جس وقت مؤذن ’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘ کہتا ہے تو امام و مقتدی سب اٹھ جاتے ہیں۔ آیا یہ بیٹھنا بعد ختم خطبہ جمعہ درست ہے یا نہیں؟ اور امام کا بعد ختم خطبہ جمعہ بیٹھنا ایک تکلیف سے بھی ہے، وہ یہ کہ قبل خطبہ گھنٹہ سوا گھنٹہ تقریر کرتا ہے، بعد ختم تقریر فوراً خطبہ شروع کرتا ہے۔ کبھی کبھی زیادہ تھکان ہو جاتی ہے۔ جب بعد ختم خطبہ جمعہ بیٹھ جاتا ہے اور جس وقت مکبر ’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ‘‘ کہتا ہے، اس وقت اٹھتا ہے یہ شرعاً کیسا ہے؟“
آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ” سنت یہ ہے کہ امام و قوم اس وقت کھڑے ہوں جب مکبر ’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ‘‘ کہے۔ تمام کتبِ مذہب متون و شروح و فتاوی میں اس کی تصریح ہے۔ وقایہ و کنز و طحطاوی علی المراقی و جامع الرموز و بدائع و در مختار و فتاوی عالمگیری وغیرہ کتب میں اس کی تصریح علی اختلاف القولین موجود ہے۔ فقیر نے اپنے فتاوی میں اس مسئلہ کو مفصل تحریر کیا ہے مگر امامِ جمعہ جو پہلے ہی سے کھڑا ہے اس کا بیٹھ جانا حدیث و فقہ سے ثابت نہیں مگر جب یہ بیٹھنا بوجہ عذر ہے، تو اس کی کراہت کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج01، ص 296، مکتبہ رضویہ، کراچی)
ایک دوسرے مقام پر مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ” امام جمعہ جو کھڑا ہوا ہے کھڑا رہ سکتا ہے اس کو بیٹھ جانے کی ضرورت نہیں اور مقتدی بیٹھے ہیں بیٹھے رہیں۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج 01، ص 299، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13343
تاریخ اجراء: 13شوال المکرم 1445 ھ/22 اپریل 2024ء