استبرا کرنے والے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جس کو پیشاب کے بعد استبرا کی ضرورت پڑے اس کی امامت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جو شرعی معذور نہیں، ان لوگوں کی امامت کرنے کے لیے ایک شرط، شرعی معذور نہ ہونا ہے، لیکن شرعی معذور ہونا اس وقت ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو وضوتوڑ دینے والا کوئی مرض اس طرح لاحق ہوجائے، ایک نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جائے، کہ اسے وضو کرکے فرض نماز کی ادائیگی کا موقع بھی نہ مل سکے، اور سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ استبرا کرنے سے اس شخص کے قطرے رک جاتے ہیں، لہذا وہ شرعی معذور نہیں ہے، کہ استبرا کر کے طہارت حاصل کرکے نماز پڑھا سکتا ہے، ہاں! اس پر پیشاب کے بعد استبرا کرنا واجب ہے، لہذا مکمل طہارت حاصل کرنے کے بعد امامت کروائے، تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فاسق معلن بھی نہ ہو، اور امامت کی دوسری شرائط بھی اس میں پائی جاتی ہوں۔
امامت کی شرائط میں سے ایک شرط شرعی معذور نہ ہونا ہے، جیسا کہ نور الایضاح میں ہے ’’شروط صحۃ الامامۃ للرجال الاصحاء ستۃ أشیاء، الاسلام و البلوغ و العقل و الذکورۃو القراءۃ و السلامۃ من الاعذار‘‘ ترجمہ: جومرد شرعی معذور نہ ہوں، ان کی امامت صحیح ہونے کے لیے چھ شرطیں ہیں: مسلمان ہونا، بالغ اور عاقل ہونا،مرد ہونا، قراءت (درست ہونا)، معذورِ (شرعی) نہ ہونا۔ (نور الایضاح، باب الامامۃ، صفحہ 155، 156، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله“ ترجمہ: پہلی مرتبہ عذر ثابت ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ ایک نماز کے پورے وقت میں وہ عذر باقی رہے، اور یہی بات زیادہ ظاہر ہے، جیسا کہ عذر کا منقطع ہونا بھی اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب نماز کے ایک پورے وقت میں وہ عذر منقطع رہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 40، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 2، ص385، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نور الایضاح میں ہے "يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول و يطمئن قلبه على حسب عادته" ترجمہ: مرد پر استبراء حاصل کرنا لازم ہے یہاں تک کہ پیشاب کا اثر زائل ہو جائے اور اس کا دل حسبِ عادت مطمئن ہو جائے۔ (نور الایضاح، صفحہ 40، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے استبراواجب ہے یعنی وہ فعل کرنا کہ اطمینان ہوجائے کہ اب قطرہ نہ آئے گا۔ (فتاوی رضویہ، ج 04، ص 601، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قطرے آنا بند ہوجائیں تو شرعی معذور نہیں، ایسا شخص ہر حدث کے بعد وضو کر کے ہر ایک کی امامت کروا سکتا ہے۔ امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: اذاکان احتشاؤہ یرد مابہ کما وصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر و التحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث و یغسل کل نجس و یؤم کل نفس و لایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ" ترجمہ: جب رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سوال میں بیان کیاگیا، تو وہ معذور کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگیا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرےگا، اور جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوئے گا، اوروہ ہر ایک کی امامت کرا سکتا ہے، اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 04، ص 368، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5211
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1448ھ / 25 جولائی 2026ء