مغرب کے بعد صرف اوابین کے نوافل ہی پڑھ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا مغرب کی نماز کے بعد صرف اوابین کے نوافل ہی پڑھ سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا شام کی نماز میں فرض نماز کے بعد صرف صلوة الاوابین ہی پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
نماز مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ اور چار رکعت نفل یعنی کم از کم چھ رکعتیں پڑھنا مستحب ہے، اسی کو نماز اوابین کہتے ہیں، جس کی فضیلت احادیث طیبہ میں بیان کی گئی ہے۔ ان چھ رکعتوں پر مزید نوافل ملاکر جتنابھی اضافہ کریں گے وہ اوابین میں ہی شمارہوں گے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے بیس رکعت پڑھنے کی فضیلت بھی حدیث پاک میں آئی ہے، ہاں! یہ یاد رہے کہ یہ وقت اوابین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، لہذا مغرب کی نماز کے بعد نوافل کے علاوہ قضا وغیرہ بھی پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، مشکوۃ المصابیح اور کنز العمال وغیرہ میں حدیث پاک ہے، واللفظ للاول:”عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنة“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے، جن کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو یہ اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔ (جامع ترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في فضل التطوع...، صفحہ 188، حدیث 435، دار ابن کثیر، دمشق)
جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے، و اللفظ للاول ”عن عائشة، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: من صلى بعد المغرب عشرين ركعة بنى اللہ له بيتا في الجنة“ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ (جامع ترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في فضل التطوع ...، صفحہ 188، حدیث 435، دارابن کثیر، دمشق)
علامہ نور الدین ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ/1605ء) مذکورہ احادیث مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: ”المفهوم أن الركعتين الراتبتين داخلتان في الست و كذا في العشرين المذكورة في الحديث... و قال ابن حجر: و فيها حديث آخر وهو أنه عليه السلام كان يصليها عشرين و يقول: "هذه صلاة الأولین فمن صلاها غفر له" و كان السلف الصالح يصلونها“ ترجمہ: مفہوم یہ ہے کہ (مغرب کے بعد کی) دو رکعت سنت مؤکدہ اوابین کی چھ رکعتوں میں شامل ہیں اور اسی طرح اوابین کی بیس رکعتوں میں بھی، جن کا ذکر (دوسری) حدیث میں ہے۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اس بارے میں ایک اور حدیث بھی ہے، اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اوابین کی بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے: "یہ اولین کی نماز ہے، پس جو یہ نماز پڑھے گا اس کی مغفرت کر دی جائے گی" اور سلف صالحین اسے ادا کیا کرتے تھے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب السنن و فضائلها، جلد 3، صفحه 226، 227، مطبوعہ:کوئٹہ)
علامہ عبد الرحمن بن محمد شیخی زاده داماد آفندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:”و الست بعد المغرب تسمى صلاة الأوابين... هذا يدل على أن ركعتي المغرب محسوبة من الست“ ترجمہ: اور مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھنا مستحب ہے، جو کہ نمازِ اوّابین کہلاتی ہیں۔ یہ (اول الذکر حدیث پاک) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دو رکعت (سنت مؤکدہ) ان چھ رکعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ (مجمع الأنهر، کتاب الصلاة، فصل في النوافل، جلد 1، صفحه 195، مطبوعہ:کوئٹہ)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677 ء) لکھتے ہیں: ”وست بعد المغرب ليكتب من الأوابين بتسليمة أو ثنتين أو ثلاث“ ترجمہ: مغرب کے بعد چھ رکعتیں مستحب ہیں، تاکہ بندہ اوابین (اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والوں) میں سے لکھا جائے، خواہ ایک سلام کے ساتھ پڑھے یا دو کے ساتھ یا تین کے ساتھ۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، جلد 2، صفحه 4547، مطبوعہ:کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”بعد مغرب چھ رکعتیں مستحب ہیں، ان کو صلاۃ الاوّابین کہتے ہیں، خواہ ایک سلام سے سب پڑھے یا دو سے یا تین سے، اور تین سلام سے یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔ ظہر و مغرب و عشا کے بعد جو مستحب ہے اس میں سنت مؤکدہ داخل ہے، مثلاً ظہر کے بعد چار پڑھیں تو مؤکدہ و مستحب دونوں ادا ہو گئیں اور یوں بھی ہو سکتا ہے کہ مؤکدہ و مستحب دونوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرے یعنی چار رکعت پر سلام پھیرے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 666، 667، مکتبة المدینہ، کراچی)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ”عن عبد اللہ بن عمر، قال: صلاة الأوابين، ما بين أن يلتفت أهل المغرب، إلى أن يثوب إلى العشاء“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ صلوۃ الاوابین کا وقت اس وقت سے ہے کہ جب نمازی نماز مغرب پڑھ کر فارغ ہو اور یہ وقت عشاء کا وقت آنے تک رہتا ہے۔ (المصنف ابن ابی شیبہ، جلد 2، صفحہ 14، رقم الحدیث 5922، مطبوعہ:لبنان)
اسی طرح شرح السنۃ للبغوی، جامع الاحادیث اور کنز العمال میں ہے، و النظم للاول: ”عن ابن عباس، قال: إن الملائكة لتحف بالذين يصلون بين المغرب إلى العشاء، و هي صلاة الأوابين“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ فرشتے ضروران لوگوں کو گھیر لیتے ہیں، جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہ صلوۃ الاوابین ہے۔ (شرح السنۃ، جلد 3، صفحہ 474، مطبوعہ:بیروت)
قضا نمازیں پڑھنے کے اوقات کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے ’’ليس للقضاء وقت معين بل جميع الاوقات وقت له الا ثلاثة: وقت طلوع الشمس ووقت الزوال ووقت الغروب، فانه لا يجوز القضاء في هذه الاوقات لما مر ان من شان القضاء ان يكون مثل الفائت والصلاة في هذه الاوقات تقع ناقصة والواجب في ذمته كامل، فلا ينوب الناقص عنه‘‘ ترجمہ: قضا ء نماز کے لیے کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ تمام اوقات میں (جس وقت چاہیں) پڑھ سکتے ہیں، سوائے تین اوقات کے، یعنی طلوعِ شمس، زوال اور غروب کے وقت کہ ان اوقات میں قضا نماز پڑھنا جائز نہیں، جیسے پہلے بیان ہو چکا کہ قضا کی ادائیگی فوت ہونے والی نماز کی مثل ہونی چاہئے اور ان اوقات میں نماز ناقص ہوتی ہے، جبکہ اس کے ذمے کامل نماز واجب ہوئی تھی، لہذا ناقض اس کے قائم مقام نہیں ہو گی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 562، مطبوعہ:کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5201
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء