logo logo
AI Search

ثناء کے بعد دعائے ماثورہ پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ثنا پڑھتے ہوئے بھولے سےنماز کے آخر والی دعائے ماثورہ پڑھ دی، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی نے نماز میں ثناء پڑھتے پڑھتے بھولے سے یہ دعا رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ بھی پڑھ دی، تو پھر نماز کا کیا حکم ہے؟ نیز نماز کے شروع میں ثنا پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

نماز کے شروع میں ثنا پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ اگر کسی نے ثناء کے بعد بھول کر سورہ فاتحہ سے پہلے مذکورہ دعا پڑھ دی تو اس سے نماز پر فرق نہیں پڑے گا اور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوگا کیونکہ سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء کا محل ہے لہٰذا اس دوران دعا پڑھنا واجب کا ترک قرار نہیں پائے گا۔

جیسا کہ سورہ فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھنے سے متعلق، فتاوی عالمگیری میں ہے: و لو تشھد فی قیامہ قبل قراءۃ الفاتحۃ فلاسھو علیہ و بعدھا یلزمہ السھو وھو الاصح لان بعد الفاتحۃ محل قراءۃ السورۃ فاذا تشھد فیہ فقد اخر الواجب و قبلھا محل الثناء کذا فی التبیین“ ترجمہ: اگر کسی نےقیام میں سورہ فاتحہ سے پہلےتشہد پڑھ لیا، تو اس پر سجدہ سہو نہیں اور فاتحہ کے بعد پڑھے، تو سجدہ سہو لازم ہو گا۔ یہی اصح ہے، کیونکہ فاتحہ کے بعد قراءت کا محل ہے، تو تشہد پڑھنے کی صورت میں واجب (یعنی فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے)میں تاخیر ہوگی اور فاتحہ سے پہلے ثناء کا محل ہے، اسی طرح تبیین میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ،جلد 1، صفحہ 127،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: سبحانک پڑھنا سنت ہے بغیر اس کے نماز ہوجاتی ہے مگر بلا ضرورت ترکِ سنت کی اجازت نہیں اور عادت ڈالنے سے گناہگار ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 182، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2518
تاریخ اجراء: 16 ربیع الآخر 1447ھ / 10 اکتوبر 2025ء