logo logo
AI Search

سنت اور نفل بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

فجر کے علاوہ بقیہ تمام نمازوں کی سنتیں اور نوافل بیٹھ کر ادا کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

تراویح اور فجر کی سنتوں کے علاوہ بقیہ مؤکدہ سنتیں بھی عذریا بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا بلا کراہت جائز ہے، البتہ! بلاعذر بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ثواب ملے گا، جبکہ فجر کی سنتیں تاکید میں زیادتی کی وجہ سے بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا شرعا ناجائز ہے اور بلا عذر شرعی بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں ادا ہی نہیں ہو تیں۔ اور جہاں تک تراویح کا تعلق ہے تو یہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا مکروہ تنزیہی و خلاف اولی ہے یعنی بیٹھ کر پڑھنا گناہ نہیں مگر کھڑے ہوکر پڑھنا بہتر ہے، لہذا سوال میں جو تفصیل بیان ہوئی کہ اسلامی بہن فجرکی سنتیں کھڑے ہوکر پڑھتی ہیں اور اس کے علاوہ نمازوں میں سنتیں اورنوافل بیٹھ کرپڑھتی ہیں، تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، البتہ! اگر بلا عذر ایسا کرتی ہیں، تو اس سے سنتوں اور نوافل کا ثواب آدھا ہوجاتا ہے، لہذا اگر کوئی عذر نہ ہو تو، ان کو کھڑے ہوکر پڑھنا بہتر ہے۔

جوہرہ نیرہ میں ہے "قال فی الھدایۃ: و السنن الرواتب نوافل، یعنی یجوز ان یصلیھا قاعدا مع القدرۃ علی القیام" ترجمہ: ہدایہ میں فرمایا:اور سننِ رواتب (مؤکدہ) نوافل ہیں یعنی قیام پر قدرت کے باوجود سنن رواتب کو بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج 1، ص 195، مطبوعہ: لاہور)

تنویر الابصار میں ہے (و یتنفل مع قدرتہ علی القیام قاعدا) ترجمہ: اور قیام پرقدرت کے باوجودبیٹھ کر نفل پڑھ سکتا ہے۔

رد المحتار میں ہے "قولہ: (و یتنفل ۔ ۔ ۔ ۔ الخ) ای: فی غیر سنۃ الفجر فی الاصح" ترجمہ: مصنف علیہ الرحمہ کاقول: (اور  قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کرنفل پڑھ سکتا ہے) یعنی اصح قول کے مطابق فجر کی سنت کے علاوہ میں۔ (رد المحتار، ج 2، ص 584، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: اور سنت فجر بالاتفاق بقیہ تمام سنن سے افضل، و لہذا بصورت فوت مع الفریضہ بعد وقت قبل زوال ان کی قضا کا حکم ہے بخلاف سائرِ سنن کہ وقت کے بعد کسی کی قضا نہیں، ولہذا بلاعذر مبیح سنتِ فجر کو بیٹھ کر پڑھنا ناجائز بخلاف دیگر سنن کہ بےعذربھی روا اگر چہ ثواب آدھا۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 92، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: رہی تراویح اس میں ہمارے علما کو اختلاف ہے کہ آیا یہ بھی مثلِ واجبات و سنتِ فجر بلاعذر بیٹھ کرناجائز وفاسد ہوتی ہیں یا مثل باقی سنن جائز ہو جاتی ہیں اگرچہ خلاف توارث کے سبب مکروہ ہوتی ہیں بعض علما حکِم اول کی طرف گئے اورصحیح ثانی ہے ۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے فرض و وتر و عیدین و سنت فجر میں قیام فرض ہے کہ بلاعذر صحیح بیٹھ کر یہ نمازیں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 510، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ کراچی)

 بہار شریعت میں ہے کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت ہو جب بھی بیٹھ کر نفل پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے کہ حدیث میں فرمایا:  بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نصف ہے۔ اور عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4،ص 671،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5212
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1448ھ / 25 جولائی 2026ء