logo logo
AI Search

ایک شخص کا دو جگہ تراویح پڑھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک جگہ تراویح پڑھانے کے بعد دوسری جگہ پڑھانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص ایک مسجد میں نمازِ تراویح پڑھانے کے بعد دوسری مسجد میں جا کر دوبارہ تراویح کی امامت کروائے اور وہاں ایسے نئے لوگ موجود ہوں جنہوں نے ابھی تراویح نہ پڑھی ہو، تو کیا اُن لوگوں کی نمازِ تراویح ادا ہو جائے گی؟ نیز ایک ہی شخص کا مختلف مساجد میں جا کر تراویح پڑھانا شرعاً کیسا ہے؟

سائل: (محمد زاہد، فیصل آباد)

جواب

پوچھی گئی صورت میں دوسری جماعت والوں کی تراویح ادا ہوجائے گی۔ نیز ایک شخص کا دو مختلف مقامات پر مکمل تراویح پڑھانے کے متعلق فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہے،بعض فقہا کے نزدیک یہ عمل جائز نہیں، جبکہ اکثر فقہا کے نزدیک جائز ہے اور دونوں جانب تصحیح بھی منقول ہے، تاہم دوسرا قول ظاہر الروایہ کے موافق ہے اور فقہی قاعدہ یہ ہے کہ جب فتویٰ میں اختلاف واقع ہو تو ظاہر الروایہ کو ترجیح دی جاتی ہے، لہٰذا مذہبِ راجح کے مطابق اُس شخص کی امامت صحیح ہے اور تراویح ادا ہوجائے گی، البتہ اختلافِ علماء اور طریقۂ متوارثہ(شروع سے جو طریقہ چلتا آرہا ہے، اُس) کی رعایت کرتے ہوئے بلا ضرورت اس عمل سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔

علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 616ھ / 1219ء) لکھتےہیں: و لو أن إماماً يصلي التراويح في مسجدين في كل مسجد على الكمال لا يجوز، هكذا حكي عن أبي بكر الإسكاف رحمه اللہ، ثم قال أبو بكر، سمعت أبا نصر يقول يجوز لأهل كل المسجدين، قال أبو الليث رحمه اللہ: قول أبو بكر أحب إليّ، و ذكر القاضي الإمام أبو علي النسفي رحمه اللہ فمن صلى العشاء و التراويح و الوتر في مسجد، ثم أم قوماً آخرين في التراويح و نوى الإمامة كره له، و لا يكره للمأمومين

 ترجمہ: اگر کوئی امام دو مسجدوں میں پوری پوری تراویح پڑھائے،تو یہ جائز نہیں، جیسا کہ ابو بکر الاسکاف رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، پھر ابو بکر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے ابو نصر کو یہ کہتےہوئے سنا کہ دونوں مسجد والوں کے لیے یہ جائز ہے، فقیہ ابو اللیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بکر کا قول مجھے زیادہ پسند ہے، اور قاضی امام ابو علی النسفی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک مسجد میں عشاء، تراویح اور وتر ادا کر چکا ہو پھر دوسری جماعت کے لوگوں کو تراویح پڑھائے اور امامت کی نیت کرے، تو یہ اس کے لیے مکروہ ہے، البتہ مقتدیوں کے لیے اس میں کوئی کراہت نہیں۔ (المحیط البرھانی، جلد 01، صفحہ 458، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: إمام يصلي التراويح في مسجدين كل مسجد على وجه الكمال لا يجوز لأنه لا يتكرر و لو اقتدى بالإمام في التراويح وهو قد صلى مرة لا بأس به"ترجمہ: اگر امام دو مسجدوں میں تراویح اس طرح پڑھائے کہ ہر مسجد میں پوری تراویح ادا کرے، تو یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ تراویح میں تکرار نہیں اور اگر کسی نے امام کی تراویح میں اقتدا کی، جبکہ وہ ایک مرتبہ تراویح پڑھ چکا ہو، تو اس میں حرج نہیں۔ (بحر الرائق، جلد 02، صفحہ 74، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی)

امامِ اہلِ سنَّت ، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ ایک شخص ایک مسجد میں فرض نماز کی جماعت کے بعد تراویح بیس رکعت پڑھاتا ہے پھر وہی شخص دوسری مسجد میں تراویح بیس رکعت پڑھاتا ہے، آیا یہ امامت اُس کی صحیح ہے یا نہیں؟ اور مقتدیان مسجد دیگر کی تراویح ہوجاتی ہے یا نہیں؟

تو جواباً ارشاد فرمایا:  مذہبِ راجح میں امامت صحیح ہے، تراویح ہوجاتی ہے، مگرخلافِ علماء واختلافِ تصحیح ومخالفتِ طریقۂ متوارثہ سے بچنے کے لئے بے ضرورت اس سے احتراز کیاجائے۔ فی الخالیۃ و الخلاصۃ و الظھیریۃ و غیرھا اذا صلی التراویح مقتدیا بمن یصلی المکتوبۃ او بمن یصلی نافلۃ غیرالتراویح اختلفوا فیہ و الصحیح انہ لایجوز اھ و فی الھندیۃ، امام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز کذا فی المضمرات اھ و فی امامۃ التنویر و الدر و متنفل بمفترض فی غیر التراویح فی الصحیح خانیۃ و کانہ لانھا سنۃ علی ھیأۃ مخصوصۃ فیراعی وضعھا الخاص للخروج عن العھدۃ اھ فی رد المحتار ان ماذکرہ المصنف ھھنا مخالف لماقدمہ فی شروط الصلٰوۃ بقولہ و کفی مطلق نیۃ الصلٰوۃ لنفل وسنۃ وتراویح و ذکر الشارح ھناک انہ المعتمد و نقلنا ھناک عن البحر انہ ظاھرالروایۃ و قول عامۃ المشائخ و صححہ فی الھدایۃ وغیرھا و رجحہ فی الفتح ونسبہ الی المحققین الخ و الفتوی متی اختلف رجح ظاھرالروایۃ۔ و اللہ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔

ترجمہ: خانیہ، خلاصہ اور ظہیریہ میں ہے کہ جب تراویح ایسے شخص کے پیچھے پڑھی جائے جو فرائض پڑھا رہا ہو یا اس شخص کی اقتداء میں جس نے تراویح کے علاوہ نوافل پڑھائے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے، صحیح یہی ہے کہ جائز نہیں اھ۔ اور ہندیہ میں ہے کہ امام کا دو مساجد میں مکمل تراویح پڑھانا، جائز نہیں، محیط سرخسی اور مضمرات میں ہے کہ فتوی ٰ اسی پر ہے۔ تنویر اور در کے باب الامامت میں ہے کہ نفل پڑھنے والے کی اقتداء تراویح کے علاوہ صحیح ہے۔ خانیہ، کیونکہ تراویح ہیئتِ مخصوصہ کے ساتھ سنت ہیں تو عہدہ برآ ہونے کے لئے ان میں اس وجہ مخصوص کی رعایت کرنا ضروری ہے اھ۔ ردالمحتار میں ہے مصنف نے جو کچھ یہاں ذکر کیا ہے وہ اس کے خلاف ہے جو اس نے شروطِ صلوٰۃ میں یوں ذکر کیا کہ نفل، سنت اور تراویح کے لئے مطلق نیت کافی ہے، اور شارح نے وہاں کہا کہ معتمد یہی ہے، اور وہاں بحر سے نقل کیا کہ یہی ظاہر الروایۃ اور اکثر مشائخ کا قول ہے۔ ہدایہ وغیرہ میں اس کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔ فتح میں اس کو ترجیح دیتے ہوئے اسے محققین کی طرف منسوب کیا الخ۔ تو جب فتوی ٰ میں اختلاف ہو جائے تو ظاہر الروایت کو ترجیح ہوتی ہے۔و اللہ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 7، صفحہ 463، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10007
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء