logo logo
AI Search

فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں کتنا قیام ضروری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار قیام کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار قیام کیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار قیام کیا توبھی نماز ہو جائے گی؛ کیونکہ رکنِ قیام کا ثبوت ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے بھی ہو جاتا ہے، ہاں! فرضوں کی تیسری اورچوتھی رکعت میں افضل سورہ فاتحہ پڑھناہے۔

درمختار میں ہے(و هو مخير بين قراءة) الفاتحة ۔ ۔ ۔ (و تسبيح ثلاثا) و سكوت قدرها، و في النهاية قدر تسبيحة" ترجمہ: اور وہ سورۂ فاتحہ پڑھنے، یا تین مرتبہ تسبیح پڑھنے، یا اتنی ہی دیر خاموش رہنے میں اختیار رکھتا ہے۔ اور نہایہ میں ہے کہ ایک تسبیح پڑھنے کے بقدر خاموش رہنا کافی ہے۔ رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے (قوله و سكوت قدرها) أي قدر ثلاث تسبيحات (قوله و في النهاية قدر تسبيحة) قال شيخنا: و هو أليق بالأصول حلية: أي لأن ركن القيام يحصل بها لما مر أن الركنية تتعلق بالأدنى" ترجمہ: (مصنف کا قول: اور اتنی دیر خاموش رہے) یعنی تین تسبیحات پڑھنے کے بقدر خاموش رہے۔ (مصنف کا قول: اور نہایہ میں ہے: ایک تسبیح کے بقدر) ہمارے شیخ نے فرمایا: یہی اصولِ فقہ کے زیادہ مطابق ہے۔ حلیہ میں ہے:یعنی اس لیے کہ قیام کا رکن ایک تسبیح کے بقدر قیام سے حاصل ہو جاتا ہے، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ رکنیت کا تعلق کم سے کم مقدار کے ساتھ ہوتا ہے۔ (الدرالمختارمع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 01، صفحہ 270، 271، مطبوعہ: کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے "اعلم أنهم اتفقوا في ظاهر الرواية على أن قراءة الفاتحة أفضل، وعلى أنه لو اقتصر على التسبيح لا يكون مسيئا" ترجمہ: جان لےکہ ظاہر الروایہ میں ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ (فرضوں کی تیسری اورچوتھی رکعت میں) سورہ فاتحہ پڑھنا افضل ہے اور اگر کسی نے فقط تسبیح کہنے پر اکتفاکیا تو وہ اساءت کا مرتکب نہیں ہوگا۔(رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 271، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے نماز فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں افضل سورۂ فاتحہ پڑھنا ہے اور سبحان اللہ کہنا بھی جائز ہے اور بقدر تین تسبیح کے چپکا کھڑا رہا، تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر سکوت نہ چاہیے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 531،مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5171
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1448ھ / 09 جولائی 2026ء