فاسق معلن امام کی اقتداء کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فاسق معلن کی اقتداء میں پڑھے گئے نوافل کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر فرض نماز فاسق معلن امام کے پیچھے پڑھیں، تو وہ واجب الاعادہ ہوتی ہے، لیکن اگر فاسق معلن امام کے پیچھے نفل نماز پڑھیں تو اس کا کیا حکم ہے، کیا اس نفل نماز کو بھی دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب
فاسق معلن کی اقتدا میں نفل نماز ادا کی، تو اس کا بھی اعادہ لازم ہے، کہ فاسق معلن کی اقتدامیں پڑھی گئی نماز کے اعادے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی اقتدامیں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ اس میں اس کی تعظیم ہے، جوکہ شرعا جائز نہیں، اور جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ اداکی جائے، اس کا اعادہ لازم ہوتا ہے، اور یہ وجہ جس طرح اس کے پیچھے فرض نماز پڑھنے میں پائی جاتی ہے، اسی طرح نفل پڑھنے میں بھی پائی جاتی ہے۔ غنیۃ المستملی میں ہے "لوقدموافاسقایاثمون،بناءعلی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم" ترجمہ: اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گنہگار ہوں گے، کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی، ص 442، مطبوعہ: کوئٹہ)
در مختار ميں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا دہرانا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: کبیرہ کا علانیہ مرتکب فاسق معلن اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ فتاویٰ حجہ میں ہے: لو قدموا فاسقا یاثمون (اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کیا، تو گنہ گار ہوں گے۔) تبیین الحقائق میں ہے: لان فی تقديمه للامامة تعظيمه و قد وجب عليهم اهانته شرعا (کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے، حالانکہ اس کی اہانت شرعاً واجب ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 600، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی اعظم پاکستان، مفتی وقار الدین رحمہ اللہ سے جب پوچھا گیا کہ بعض حفاظ کرام رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کے لیے داڑھی منڈوانا چھوڑ دیتے ہیں تا کہ تراویح پڑھا سکیں، کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟
تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے۔ فاسق کی امامت مکروہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے۔ اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی جائیں گی، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ فرض اور تراویح سب کا حکم ایک ہی ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 223، بزم وقارالدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5180
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448ھ / 11 جولائی 2026ء