جمعہ کی سنت بعدیہ حدیث سے ثابت ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ کی سنت بعدیہ کا حدیث سے ثبوت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے بعد جو ہم سنتیں پڑھتے ہیں، یہ پڑھنی چاہیئں یا نہیں؟ کوئی صحیح حدیث وغیرہ مل جائے گی؟
جواب
جی ہاں! جمعہ کے بعد والی سنتیں صحیح حدیث سے ثابت ہیں، اور ان کو بھی پڑھنا چاہیے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
جمعہ کے بعد چھ رکعتیں سنت ہیں۔ ان میں سے چار سنت مؤکدہ ہیں، جن کو بلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ٹھہرتا ہے، اور اگر کوئی ترک کرنے کی عادت بنا لے تو وہ عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے۔اور دو سنت غیر مؤکدہ ہیں، ان کو پڑھنے میں ثواب ہے، اور اگر کوئی انہیں چھوڑ دے، چاہے عادتاً ہی کیوں نہ ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں، البتہ! ان کو ترک کرنا شریعت میں ناپسندیدہ ضرور ہے۔
صحیح مسلم میں ہے "عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے، تو اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 214، رقم الحدیث 881، دارالکب العلمیۃ، بیروت)
صحیح مسلم میں ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا" ترجمہ: جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو، تو چار رکعات پڑھو۔ (صحیح مسلم، صفحہ 214، رقم الحدیث 881، دارالکب العلمیۃ، بیروت)
صاحب بحر الرائق جمعہ کے بعد کی چار رکعات کے سنت ہونے پر حدیث پاک سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’الدلیل ۔۔۔ على استنان الأربع بعدها ما في صحيح مسلم عن أبي هريرة مرفوعا "إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا" وفي رواية "إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا‘‘ ترجمہ: جمعہ کے بعد کی چار رکعات کے سنت ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے، جو صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے، تو اس کے بعد چار رکعات پڑھے، اور ایک روایت میں ہے کہ جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو، تو چار رکعات پڑھو۔
اس کے تحت منحۃ الخالق میں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (متوفی 1252 ھ) فرماتے ہیں: ’’الحديث الأول يدل على الوجوب والثاني على الاستحباب فقلنا بالسنة مؤكدة جمعا بينهما كذا أفاده في شرح المنية‘‘ ترجمہ: پہلی حدیث پاک (ان چار رکعات) کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور دوسری حدیث پاک ان کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے، لہذا ہم نے اس کے سنت مؤکدہ ہونے کا قول کیا، ان دونوں روایتوں میں تطبیق دیتے ہوئے، جیسا کہ شرح منیہ میں اس کاافادہ فرمایا۔ (بحر الرائق و منحۃ الخالق، جلد 2، کتاب الصلاۃ، صفحہ 87، مطبوعہ:کوئٹہ)
جمعہ کے بعد دو رکعت سنت بھی صحیح حدیث سے ثابت ہیں، چنانچہ سنن ترمذی میں ہے ”عن سالم، عن أبيه، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم: أنه كان يصلي بعد الجمعة ركعتين ۔۔۔۔۔ حديث ابن عمر حديث حسن صحيح“ ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں) حدیث ِابن عمر، حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذي، صفحہ 219، رقم الحدیث 521 مطبوعہ: دمشق)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ جمعہ کے دن کتنی رکعات سنت پڑھنی چاہیے؟ فرضوں سے پہلی کتنی اور فرضوں کے بعد کتنی رکعات پڑھنی چاہیے؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”دس سنتیں ہیں۔ چار پہلے، چار بعد۔ ھی منصوص علیھن فی المتون قاطبۃ وقد صح بھن الحدیث فی صحیح مسلم (تمام مُتون میں ان کی صراحت ہے اور صحیح مسلم شریف میں ان کے بارے میں صحیح حدیثِ پاک موجود ہے) اور دو بعد کو اور، کہ بعدِ جمعہ چھ سنتیں ہونا ہی حدیثاً وفقہاً اَثْبَت واَحْوَط (مختار و محتاط حدیث و فقہ کے اعتبار سے)، مختار ہے، اگرچہ چار کہ ہمارے ائمہ میں متفَق علیہ ہیں، ان دو سے مؤکد تَر ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 292، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدرالشریعہ، بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی سنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ کی تعریف اور ان کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سنت ِمؤکدہ: وہ جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو، البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی مگر جانب ِ ترک بالکل مسدود نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب۔ سنت ِغیر مؤکدہ: وہ کہ نظر شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعید عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں، اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو موجب ِ عتاب نہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 283، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید فرماتے ہیں:’’جمعہ کی سنت بعدیہ میں اختلاف ہے۔ اصل مذہب میں چار ہیں، وعلیہ المتون (متون اسی پر ہیں) اور اَحْوَط و افضل چھ ہیں۔ وھو قول الامام ابی یوسف وبہ اخذ اکثر المشائخ کما فی فتح ﷲ المعین عن النھر عن العیون والتجنیس وھو المختار کما فی جواھر الاخلاطی وھو الثابت بالحدیث کما بیناہ فی فتاوٰنا (ترجمہ: امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے اور اسی پر اکثر مشائخ کا عمل ہے، جیسا کہ فتح ﷲ المعین میں نہر سے اور وہاں عیون اور تجنیس کے حوالے سے ہے اور یہی مختار ہے، جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے اور یہ حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ ہم نےاپنے فتاویٰ میں اسے بیان کیا ہے۔) (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 326، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5178
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ/01 جولائی 2026ء