جبے کے نیچے صرف انڈرویئر پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جبے کے نیچے صرف انڈرویئر (Underwear) پہنا ہو تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص Underwear پہن کر اس کے اوپر جبہ پہنتا ہے، جبکہ اس کے نیچے شلوار، تہبند یا پاجامہ وغیرہ نہیں پہنتا۔ سوال یہ ہے کہ اس حالت میں اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
دوسروں سے ستر فرض ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اِدھر اُدھر سے نہ دیکھ سکیں۔ لہذا اگر کسی شخص نے صرف انڈر ویئر (underwear) پہنا ہوا ہے، اور اس کے اوپر جبہ پہنا ہے، اور جبے کی وجہ سے اس کا ستر اس طرح مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہے، کہ نماز کے دوران رکوع و سجود میں بھی ستر ظاہر نہیں ہوتا، تو اس صورت میں اس کی نماز درست ہو جائے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے "و ستر العورة في الصلاة من الغير فرض بالإجماع و من نفسه غير فرض عند عامة المشايخ كذا في شاهان فإذا صلى في قميص بغير ازار و كان لو نظر رأى عورته من زيقه فعند عامة المشايخ لا تفسد و هو الصحيح" ترجمہ: نماز میں غیر سے سترِ عورت بالاجماع فرض ہے، اپنے آپ سے عام مشائخ کے نزدیک فرض نہیں ہے، جیسا کہ شاہان میں ہے، تو اگر کسی نے تہبند کے بغیر، قمیص میں نماز پڑھی، اور صورت حال ایسی ہے کہ اگر گریبان سے دیکھے تو شرمگاہ نظر آ جائے، تو عام مشائخ کے نزدیک اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، یہی صحیح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 58، مطبوعه:كوئٹہ)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”ستر کے ليے یہ ضرور نہیں کہ اپنی نگاہ بھی ان اعضا پر نہ پڑے، تو اگر کسی نے صرف لنبا (لمبا) کُرتا پہنا اور اس کا گریبان کھلا ہوا ہے کہ اگر گریبان سے نظر کرے، تو اعضا دکھائی دیتے ہیں نماز ہو جائے گی، اگرچہ بالقصد ادھر نظر کرنا، مکروہ تحریمی ہے۔ اوروں سے ستر فرض ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اِدھر اُدھر سے نہ دیکھ سکیں، تو معاذ ﷲ اگر کسی شریر نے نیچے جھک کر اعضا کو دیکھ لیا، تو نماز نہ گئی۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 482، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5176
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ/01 جولائی 2026ء