نفل توڑ کر قضا نماز شروع کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سنت غیر مؤکدہ توڑ کر قضا نماز شروع کردی تو ان سنتوں کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ ایک شخص جو صاحب ترتیب نہیں یہ سنت غیر مؤکدہ پڑھ رہا تھا، درمیان میں خیال آیا کہ فرض کی قضا باقی ہے اور پھر اس نے یہ نفل توڑ کر قضا نماز پڑھی، تو یہ سنت غیر مؤکدہ جو توڑی ہے کیا دوبارہ پڑھنا لازم ہےاور اس کا ایسا کرنا کیسا تھا؟ سائل: محمد نعمان (فیصل آباد)
جواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص پر توڑی گئی سنتِ غیر مؤکدہ کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور شرعی عذر کے بغیر، محض قضا نماز یاد آنے پر شروع کی گئی سنت غیر مؤکدہ کو جان بوجھ کر توڑ دینا شرعاً ناجائز و گناہ تھا، لہذا اس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ سنت غیر مؤکدہ کی حیثیت نفل کی ہے اور نفل نماز اگرچہ شروع کرنا فرض یا واجب نہیں، لیکن جب انہیں شروع کر دیا جائے، تو ان کا پورا کرنا شرعاً واجب ہو جاتا ہے، عذر و بلا عذر توڑنے دینے کے باوجود اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور نماز شروع کرنے کے بعد محض قضا یاد آنے پر نفل نماز کو توڑ دینا یہ بلاعذر نماز کو فاسد کرنا ہے اور بلاعذر شرعی نماز کو فاسد کردینا ناجائز و گناہ ہے جس سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
بلا عذر شرعی نماز کو باطل کرنا جائز نہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔ (پارہ 26، سورہ محمد، آیت 33)
اس آیت مبارک کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے، لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا روزہ یا کوئی اور ہی عمل ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے بلکہ اسے پورا کرے۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 9، ص 325، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نماز کو بلاعذر شرعی توڑنا، ناجائز و حرام ہے اس بارے میں درر الحكام شرح غرر الأحكام میں: اعلم ان الاصل ان نقض العبادة قصدا بلا عذر حرام لقوله تعالى و لا تبطلوا أعمالكم" ترجمہ: جان لیجیے کہ اصول یہ ہے کہ کسی بھی عبادت کو بلا عذر جان بوجھ کر توڑنا حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام، ج 1، ص 121، دار إحياء الكتب العربية)
یونہی بہارِ شریعت میں ہے: نماز توڑ نا بغیر عذر ہو تو حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 4، صفحہ 697، مطبوعہ مکتبۃ المدينه)
سنت غیرمؤکدہ، نوافل کے حکم میں ہیں جیسا کہ امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: اور غیر مؤکدہ سنن کا حکم بھی یہی ہے مثلاً عصر اور عشاء کی پہلی سنتیں، ان کا درجہ بھی نوافل کا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 130، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نفل نماز شروع کر لی جائے تو اسے مکمل کرنا واجب ہے اور اگر توڑ لی جائے تو اس کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اس بارے میں غنية المتملي اور تبیین الحقائق میں ہے: (و الفظ للآخر) و لزم النفل بالشروع . . . . . . . . . و لنا أن المؤدى قربة فتجب صيانته عن البطلان لقوله تعالى ﴿و لا تبطلوا اعمالكم﴾ (محمد: 23) و لا يمكن ذلك إلا بلزوم المضي فيه فصار كالحج و العمرة فإذا لزمه المضي وجب عليه القضاء بالإفساد" ترجمہ: نفل شروع کرنے سے لازم ہو جاتے ہیں . . . اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ادا کیا گیا فعل قربت ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو (سورۃ محمد، آیت 33)کی روشنی میں اس کو باطل ہونے سے بچانا واجب ہے۔ اور یہ عمل کو جاری رکھنے سے ہی ممکن ہے، پس یہ حج اور عمرہ کی طرح ہو گیا۔ لہٰذا جب اس کو جاری رکھنا لازم ہو گیا تو اسے فاسد کرنے کی صورت میں اس کی قضا بھی واجب ہو گی۔ (غنية المتملي، ج 2، ص 296 - 297، مطبعہ ہند) (تبيين الحقائق، ج 1، ص 174، مطبوعہ مصر)
یونہی بہارِ شریعت میں ہے: نفل نماز قصد اشروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا قضا پڑھنی ہو گی۔ (بہار شریعت، ج 01، ص 668، مكتبة المدينه، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10065
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء