logo logo
AI Search

مسجد میں امام کیلئے چندہ جمع کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جمعہ کے دن امام کے نام پر جھولی پھیرنا اور امام کا وہ رقم لینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ مسجد میں امام صاحب کی تنخواہ پہلے سے مقرر ہے، لیکن وہ کم ہے۔ اس وجہ سے مسجد کی انتظامیہ جمعہ کے دن نمازیوں سے امام صاحب کے لیے چندہ جمع کرتی ہے۔ اس موقع پر اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ جھولی امام صاحب کی خدمت کے لیے ہے، آپ اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ ڈالیں۔ پھر جو رقم جمع ہوتی ہے، وہ پوری کی پوری امام صاحب کو دے دی جاتی ہے۔ اس صورت میں سوال یہ ہے کہ کیا جمعہ کے دن مسجد میں امام صاحب کا نام لے کر اس طرح جھولی پھیرنا اور بعد میں امام صاحب کا اس رقم کو لینا شرعاً جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کی خدمت کی غرض سے مسجد میں جھولی لگانا اور پھر امام صاحب کا یہ رقم وصول کرنا جائز ہے، کیونکہ مسجد میں اپنی ذات کے لئے سوال کرنا جائز نہیں، جبکہ اس کے علاوہ کسی دوسرے مستحق مسلمان کے لیے سوال کرنا یا اسی مسجد یا کسی دینی ضرورت وغیرہ کے متعلق سوال کرنا نہ صرف جائز، بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے، البتہ مسجد میں شور و غل نہ ہو، اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ مسجد میں امام صاحب کے لئے جھولی لگانا اگرچہ فی نفسہ جائز ہے، لیکن یوں ہر جمعہ ان کا نام لے کر جھولی پھیرنا امام صاحب کے منصب اور وقار کے شایان شان نہیں کہ کسی خاص فرد کے نام لے کر چندہ جمع کرنا عرفاً معیوب اور ذلت شمار کیا جاتا ہے، جبکہ امام صاحب دینی منصب، عزت اور وقار کے حامل ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق، تو امام مقتدیوں اور اللہ پاک کے درمیان نمائندے اور سفیر کی حیثیت رکھتا ہے۔، لہذا ایسا کرنے کی بجائے، مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ امام صاحب کی عرف کے مطابق،حسبِ منصب تنخواہ (Salary) مقرر کریں اور پھر ہر جمعہ مسجد کے نام پر، مسجد کے لئے عمومی چندہ جمع کریں اور پھر اس عمومی چندہ سے میں سے امام صاحب کی تنخواہ کی ادائیگی کریں۔

مسجد میں دوسرے مسلمان کی مدد کے لئے ترغیب دلانا ہمارے پیارے آقامحمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم سے ثابت ہے جیسا کہ سنن نسائی کی حدیث مبارک میں ہے: عن عياض بن عبد اللہ قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: جاء رجل يوم الجمعة و النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم يخطب بهيئة بذة، فقال له رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم: أصليت؟ قال: لا. قال: صل ركعتين و حث الناس على الصدقة، فألقوا ثيابا، فأعطاه منها ثوبين، فلما كانت الجمعة الثانية جاء و رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم يخطب، فحث الناس على الصدقة، قال: فألقى أحد ثوبيه، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم: جاء هذا يوم الجمعة بهيئة بذة، فأمرت الناس بالصدقة، فألقوا ثيابا، فأمرت له منها بثوبين، ثم جاء الآن، فأمرت الناس بالصدقة، فألقى أحدهما، فانتهره وقال: خذ ثوبك

 ترجمہ: عیاض بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس حال میں آیا کہ اس کے کپڑے بوسیدہ تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: دو رکعت نماز پڑھ لو۔پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، چنانچہ انہوں نے کپڑے پیش کیے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو عطا فرما دیے۔ پھر اگلے جمعہ وہ شخص دوبارہ آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے پھر لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، تو اس شخص نے اپنے انہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں ڈال دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص گزشتہ جمعہ اس حال میں آیا تھا کہ اس کے کپڑے بوسیدہ تھے، تو میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، انہوں نے کپڑے دیے، اور میں نے ان میں سے دو کپڑے اسے دے دیے۔ آج جب میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو اس نے انہی میں سے ایک کپڑا صدقہ کر دیا۔پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تنبیہ فرمائی اور فرمایا:اپنا کپڑا واپس لے لو۔ (سنن النسائي، باب حث الإمام على الصدقة يوم الجمعة في خطبته، ج 3، ص 127، دار الرسالة العالمية)

مسجد میں دوسرے کے لئے مانگنے کے بارے میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمة الرحمن فرماتے ہیں: دوسرے محتاج کے لیے (مسجد میں) امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لیے چندہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا نہ کسی کی نماز میں خلل یہ بلا شبہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 403، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

یونہی ایک دوسرے مقام پر اس حوالے سے امام اہلسنت تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ارشا دفرماتے ہیں: امور خیر کے لیے مسلمانوں کے لیے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں، بلکہ سنت سے ثابت ہے، جو لوگ اس سے روکتے ہیں مناع للخیر معتد اثیم میں داخل ہوتے ہیں، صحیحین میں جریر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کچھ برہنہ پا برہنہ بدن صرف ایک کملی کفنی کی طرح چیر کر گلے ڈالے خدمت اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، حضور پرنور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی محتاجی دیکھی، چہرۂ انور کا رنگ بدل گیا، بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان کا حکم دیا، بعد نماز خطبہ فرمایا، بعد تلاوت آیات ارشاد کیا ''تصدق رجل من دینارہ من درھمہ من ثوبہ من صاع برہ من صاع تمرہ حتی قال و لو بشق تمرۃ'' یعنی کوئی شخص اپنی اشرفی سے صدقہ کرے، کوئی روپے سے، کوئی کپڑے سے، کوئی اپنے قلیل گیہوں سے، کوئی اپنے تھوڑے چھوہاروں سے، یہاں تک فرمایا، اگرچہ آدھا چھوہارا، اس ارشاد کو سن کر ایک انصاری رضی اللہ تعالی عنہ روپیوں کا تھیلا اٹھا لائے جس کے اٹھانے میں ان کے ہاتھ تھک گئے پھر لوگ پے درپے صدقات لانے لگے یہاں تک کہ دو انبار کھانے اور کپڑے کے ہو گئے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا چہرۂ انور خوشی کے باعث کندن کی طرح دمکنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ غزوۂ تبوک وغیرہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا مسلمانوں کو حکم صدقات دینا اور ہر ایک کا کثیر و قلیل حسب مقدور حاضر لانا، منافقین کا تھوڑا لانے والوں پر اعتراض کرنا کہ اللہ تعالی اس کے صدقہ سے غنی ہے، زیادہ لانے والوں پر اعتراض کرنا کہ ریاء کے لیے ہے اور اس پر آیۂ کریمہ ﴿ان الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقات و الذین لا یجدون الا جھدھم﴾ کا نازل ہونا، ایک بار یونہیں صدقات کا چندہ ہونا، اس کا انبار ہو جانا، ایک صحابی کا صرف ایک خوشہ لانا ، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اسے سب سے اوپر رکھنا وغیرہ وغیرہ وقائع کثیرہ صحاح وغیرہا کتب احادیث میں مذکور و مشہور ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج23، ص 127 - 129، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملتقطا)

امام صاحب مقتدیوں اور اللہ پاک کے درمیان نمائندے اور سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں، اس بارے میں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: إن سركم أن تقبل صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم و بين ربكم عز وجل۔ ترجمہ: اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ تمہاری نمازیں قبول کر لی جائیں، تو تمہیں چاہئے کہ تمہارے بہتر لوگ تمہاری امامت کریں، کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب عزوجل کے درمیان سفیر ہیں۔ (المستدرک علی الصحیحن، جلد 3، صفحہ 246، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

امام صاحب کو مسجد کے چندے سے سیلری دینا جائز ہے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: مسجد کی آمدنی سے امام کو تنخواہ دی جا سکتی ہے، کہ حسبِ فتویٰ متاخرین جب امام کو اجیر رکھنا جائز ہے اور اب اِسی پر عمل ہے تو آمدنی مسجد کو اس کام میں صَرْف کیا جا سکتا ہے کہ امام کو رکھنا بھی ضروریاتِ مسجد سے ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ، ج3،ص279 278،مطبوعہ مکتبہ رضویہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10073
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1448ھ / 30 جون 2026ء