logo logo
AI Search

طالب علم کے لیے قصر نماز کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسافتِ شرعی پر واقع مدرسے میں پڑھنے والے طالب علم کے لئے قصر کے احکامات

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مدرسے میں پڑھتا ہوں، اور میرا مدرسہ میرے گھر سے دو سو کلومیٹر دور ہے۔ میں ایک ماہ کے بعد گھر آتا ہوں۔ (1) جتنے دن مدرسے میں رہوں گا، قصر نماز پڑھوں گا یا پوری نماز؟ (2) اور جب مدرسے سے گھر جاؤں گا تو راستے میں قصر نماز پڑھنی ہوگی یا پوری؟ (3) اور میں نے گھر میں پانچ دن رہنا ہے۔ اب ان پانچ دنوں میں پوری نماز پڑھنی ہوگی یا قصر؟ تفصیل سے جواب دیں۔

جواب

(1) پوچھی گئی صورت میں آپ جب بھی پندرہ دن یااس سے زائدرہنے کی نیت سے مدرسے میں رہیں گے، تو جتنے دن مدرسے میں رہیں گے مکمل نماز ادا کریں گے، قصر نہیں پڑھیں گے، کیونکہ آپ کا مدرسہ آپ کے گھر سے اگرچہ 92 کلومیڑ کی مسافت سے زیادہ ہے، لیکن جب وہاں پندرہ د ن یا اس سے زائد رہنے کی نیت ہو، تو وہ جگہ آپ کی وطنِ اقامت بن جائے گی، وطنِ اقامت میں پوری نماز ادا کرنا ہوتی ہے، قصر کی اجازت نہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے "وطن سفر و قد سمي وطن إقامة و هو البلد الذي ينوي المسافر الاقامة فيه خمسة عشر يوما أو أكثر" ترجمہ: اور وطنِ سفر اور اسی کو وطن اقامت بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ شہر (یا علاقہ) ہے، جس میں مسافر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرے۔ (فتاوى عالمگیری، جلد 1، صفحہ 157، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مراقی الفلاح میں ہے (یقصرحتی یدخل مصرہ) یعنی وطنہ الاصلی ( أو ینوی اقامته نصف شھر ببلد أو قریۃ) ترجمہ: مسافر قصر کرے گا یہاں تک کہ اپنے شہر یعنی اپنے وطن اصلی میں داخل ہو جائے یا کسی شہر یا گاؤں میں آدھا ماہ اقامت کی نیت کر لے۔ (مراقی الفلاح، صفحہ 222، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

درمختار میں ہے "لو دخل الحاج الشام وعلم أنه لا يخرج إلا مع القافلة في نصف شوال أتم" ترجمہ: اگر حاجی شام میں داخل ہوا اور جانتا ہے کہ وہ قافلے کے ساتھ پندرہ شعبان کے بعد ہی نکلے گا تو مکمل نماز ادا کرےگا۔

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے "لو دخل الحاج أي في أول شوال أو قبله ۔ ۔ ۔ علم أن القافلة إنما تخرج بعد خمسة عشر يوما و عزم أن لا يخرج إلا معهم" ترجمہ: یعنی اگر حاجی شوال کے شروع میں یا شوال سے پہلے شام گیا اور جانتا کہ قافلہ پندرہ دن بعد ہی نکلے گااوراس کا ارداہ ان کے ساتھ نکلنے کا ہی ہو (تو وہاں مکمل نماز پڑھے گا)۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 729، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلسنّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: جب کہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے، تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا، قصر کرے گا اور پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے مقیم ہو جائے گا، پوری پڑھے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 270، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(2) پوچھی گئی صورت میں آپ اپنے مدرسے والے شہر یا گاؤں کی آبادی سے نکلتے ہی مسافر بن جائیں گے اور اپنے وطن اصلی کی آبادی میں داخل ہونے تک راستے بھر قصر نماز پڑھیں گے۔ امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ وطن اقامت سے وطن اصلی کی طرف سفر کرنے والے کے متعلق فرماتے ہیں: جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے اس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 08، صفحہ 258، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(3) اور جب اپنے گھر پہنچ جائیں گے تو چونکہ وہ آپ کا وطنِ اصلی ہے، وہاں پانچ دن رہیں یا ایک دن یا ایک گھنٹہ، وہاں پہنچنے کے بعد پوری نماز ہی پڑھیں گے، قصر نہیں کریں گے۔ الجوھرۃ النیرۃ میں ہے (وإذا دخل المسافر مصره أتم الصلاة وإن لم ينو المقام فيه) سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء حاجة، لأن مصره متعين للإقامة فلا يحتاج إلى نية'' ترجمہ: اور جب مسافر اپنے شہر میں داخل ہو جائے، تو پوری نماز پڑھے گا اگرچہ اس نے وہاں اقامت کی نیت نہ کی ہو، برابر ہے کہ عبور کرنے کے لئے داخل ہوا ہو یا کسی حاجت کو پورا کرنے کے لئے داخل ہوا ہو، کیونکہ اس کا شہر اقامت کے لئے متعین ہے، لہذا (مقیم ہونے کے لئے) نیت کی حاجت نہیں۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 219، مطبوعه: لاہور)

امام اہلسنت،امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ وطن اقامت سے وطن اصلی کی طرف سفرکرنے والے کے متعلق فرماتے ہیں: جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے اس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گاجب اپنے وطن کی آبادی میں آگیا قصر جاتا رہا، جب تک یہاں رہے گا اگرچہ ایک ہی ساعت، قصرنہ کرسکے گا کہ وطن میں کچھ پندہ روز ٹھہرنے کی نیت ضرور نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 08، صفحہ 258، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5181
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448ھ / 11 جولائی 2026ء