فرض کی آخری دو رکعت میں قراءت کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
فرضوں کی آخری دو رکعتوں میں قراءت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں امام اور تنہا نماز پڑھنے والے دونوں کیلئے سورہ فاتحہ پڑھنا سنت اور افضل ہے، لہذا اگر کوئی ان رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھ لے تو اس نے سنت اور افضل طریقے پر عمل کیا جو کہ بہت خوب ہے۔ البتہ سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے میں تفصیل یہ ہے کہ مُنفرد یعنی تنہا نماز پڑھنے والے کیلئے تو فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بغیر کسی كرا ہت کے جائز ہے۔ البتہ امام کیلئے اِن رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا مکروہ تنزیہی ہےیعنی سورت نہ ملانا بہتر ہے، بلکہ اگر امام کا سورت ملانا مقتدیوں کو بھاری لگتا ہو تو اب امام کیلئے سورت ملانا مقتدیوں کے لئے باعث تکلیف ہونے کی وجہ سے گناہ ہےلیکن نماز بہر صورت ہوجائے گی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔
فرض نماز کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے: ’’(و اكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر‘‘ ترجمہ: اور فرض پڑھنے والے کو پہلی دو رکعتوں کے بعد والی رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھ لینا کافی ہے، کیونکہ ظاہر قول کے مطابق ان رکعتوں میں فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔ (تنویر الابصار مع درمختار، جلد 2، صفحہ 270، دار المعرفۃ، بیروت(
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: ’’قوله: (و تسن قراءة الفاتحة فيما بعد الأوليين) يشمل الثلاثي و الرباعي‘‘ ترجمہ: مصنف کا قول: پہلی دو رکعتوں کے بعد والی رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، اس میں تین رکعت والی اور چار رکعت والی دونوں نمازیں شامل ہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، فصل في بيان سننها، صفحہ 270، دار الكتب العلمية، بيروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’نماز فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں افضل سورۂ فاتحہ پڑھنا ہے اور سبحان اللہ کہنا بھی جائز ہے اور بقدر تین تسبیح کے چپکا (خاموش) کھڑا رہا، تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر سکوت نہ چاہیے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 531، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانے سے متعلق رد المحتار میں ہے: ’’و فی البحر عن فخر الاسلام أن السورۃ مشروعۃ فی الاخریین نفلا و فی الذخیرہ أنہ المختار و فی المحیط و ھو الاصح اھ و الظاھران المراد بقولہ نفلا الجواز و المشروعیۃ بمعنی عدم الحرمۃ فلا ینا فی کونہ خلاف الاولی کما افادہ فی الحلیۃ‘‘ترجمہ: اور بحر میں فخر الاسلام سے ہے کہ آخری رکعات میں سورت ملانا نفلی طور پر مشروع ہے۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مختار ہے۔ اور محیط میں ہے کہ یہی اصح ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ان کے قول ’’نفل‘‘ سے مراد اس کا جائز ہونا ہے اور مشروع سے مرادعدم حرمت ہے،لہذایہ خلافِ اولیٰ ہونے کے منافی نہیں، جیسا کہ حلیہ میں اس کا افادہ کیا ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، کتاب الصلاۃ، مطلب: واجبات الصلاۃ، صفحہ 186، دارالمعرفۃ، بیروت)
سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا منفرد کیلئےبلا کراہت جائزہے بلکہ بعض ائمہ نے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے، اور امام کیلئے مکروہ تنزیہی ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’اگر قصداً بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولیٰ ہے، بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ فقیر کے نزدیک ظاہراً یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرے تو حرام۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’و الذی یظھر للعبد الضعیف ان سنیۃ الاقتصار علی الفاتحۃ انما تثبت عن المصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی الامامۃ فانہ لم یعھد منہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صلٰوۃ مکتوبۃ الا اماما الانادرا فی غایۃ الندرۃ فیکرہ للامام الزیادۃ علیھا لا طالتہ علی مقتدین فوق السنۃ بل لو اطال الی حد الاستثقال کرہ تحریما۔ أما المنفرد فقد قال فیہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلیطول ماشاء و زیادۃ خیر و لم یعرضہ مایعارض خیریتہ فلا یبعد ان یکون نفلا فی حقہ فان حملنا کلام المشائخ علی الامام و کلام الا مام فخر الاسلام و تصحیح الذخیرۃ والمحیط علی المنفرد حصل التوفیق وباللہ التوفیق ھذا ماعندی و اللہ سبحنہ و تعالٰی اعلم
(ترجمہ) اس عبد ضعیف پر یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ فاتحہ پر اکتفا کرنا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے امامت کی صورت میں منقول ہے کیونکہ آپ کی فرض نماز جو بھی منقول ہے وہ امام ہونے کی صورت میں ہی ہے البتہ شاذونادر ہی کوئی فرض نماز اس کے علاوہ ہوگی لہذا امام کے لئے فاتحہ پر اضافہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہاں مقتدیوں پر سنت سے بڑھ کر طوالت ہوجاتی ہے بلکہ اگر اتنی طوالت کی کہ مقتدیوں پر گراں گزری تویہ کراہت تحریمی ہوگی۔ اگر آدمی تنہا نماز ادا کررہا ہے تو اس میں رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ نماز جتنی لمبی کرنا چاہے کرے، اور فاتحہ پر اضافہ خیر ہے اور اس کے خیر ہونے کے خلاف کوئی دلیل بھی نہیں تو منفرد کے حق میں اس اضافہ کا نفل ہونابعید نہیں، (لہذا) اگر ہم کلام مشائخ کو امام پر اور امام فخر الاسلام اور تصحیح ذخیرہ اور محیط کو منفردپر محمول کرلیں تو موافقت پیدا ہوجائے گی اور توفیق دینے والا اللہ ہی ہے اور یہ میرے نزدیک ہے۔ اللہ تعالٰی ہی خوب جاننے والا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 195، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1294
تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1448ھ / 11 اگست 2026ء