logo logo
AI Search

امام سے پہلے رکوع اور سجدے میں جانے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام سے پہلے رکوع اور سجدے میں جانا یا سر اٹھانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب کے گھٹنوں میں کچھ مسئلہ ہے، جس کے باعث سجدے میں جانے اور قیام کی طرف اٹھنے میں کچھ دیر لگاتے ہیں، اس وجہ سے کچھ نمازی امام سے پہلے سجدے اور قیام میں چلے جاتے ہیں، ان مقتدیوں کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

کسی مقتدی کا امام سے پہلے رکوع و سجود میں جانا یا امام سے پہلے سر اٹھانا، مکروہ تحریمی، ناجائز اور گناہ ہے، ایسے کے لیے حدیث پاک میں سخت وعید وارد ہوئی ہے کہ: "کیا ایسا شخص اس سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر یا چہرہ گدھے کا سا بنا دے۔"

نیز یہ یاد رہے کہ: اگر کسی نے امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کیا، پھر امام کے رکوع یا سجدہ میں جانے سے پہلے ہی اس نے سر اٹھا لیا اور بعد میں اس رکن کا اعادہ بھی نہ کیا تو اس صورت میں اس کا وہ رکن ہی ادا نہیں ہوگا لہذا اس کی نماز بھی نہیں ہوگی۔

بخاری شریف میں ہے "عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: "أما يخشى أحدكم - أو: لا يخشى أحدكم - إذا رفع رأسه قبل الإمام، أن يجعل اللہ رأسه رأس حمار، أو يجعل اللہ صورته صورة حمار" ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جب اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے تو اس سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر گدھے کے جیسا بنا دے یااللہ تعالی اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے۔ (صحیح البخاری، کتاب الاذان، ص 136، رقم الحدیث 691، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث پاک کے تحت ہے "حكي عن بعض المحدثين أنه رحل إلى دمشق لأخذ الحديث عن شيخ مشهور بها، فقرأ عليه جملة، لكنه كان يجعل بينه وبينه حجابا ولم ير وجهه، فلما طالت ملازمته له و رأى حرصه على الحديث كشف له الستر، فرأى وجهه وجه حمار فقال له: احذر يا بني أن تسبق الإمام، فإني لما مر بي في الحديث استبعدت وقوعه فسبقت الإمام فصار وجهي كما ترى" ترجمہ: بعض محدثین سے منقول ہے کہ وہ حدیث لینے کے ليے ایک بڑے مشہور شخص کے پاس دمشق میں گئے اور ان کے پاس بہت کچھ پڑھا، مگر وہ پردہ ڈال کر پڑھاتے، مدتوں تک ان کے پاس بہت کچھ پڑھا، مگر ان کا مونھ نہ دیکھا، جب زمانہ دراز گزرا اور انہوں نے دیکھا کہ ان کو حدیث کی بہت خواہش ہے تو ایک روز پردہ ہٹا دیا، دیکھتے کیا ہیں کہ اُن کا مونھ گدھے کا سا ہے، انہوں نے کہا، ''صاحب زادے! امام پر سبقت کرنے سے ڈرو کہ یہ حدیث جب مجھ کو پہنچی، میں نے اسے مستبعد (اس کاہونا، ناممکن) جانا اور میں نے امام پر قصداً سبقت کی، تو میرا مونھ ایسا ہو گیا، جو تم دیکھ رہے ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب ماعلی الاماموم الخ، الفصل الاول، ج 03، ص 199، حدیث: 1141، کوئٹہ)

حاشیۃ الشرنبلالی علی الدرر میں ہے "وكره لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تبادروني بالركوع والسجود» وقوله - عليه الصلاة والسلام - «أما يخشى الذي يركع قبل الإمام ويرفع أن يحول اللہ رأسه رأس حمار» اهـ.وقال في البحر وهو يفيد كراهة التحريم للنهي" ترجمہ: اور امام سے پہلے رکوع کرنا مکروہ ہے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: "تم مجھ سے پہلے رکوع و سجود مت کرو" اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: "جو امام سے پہلے رکوع کرتا ہے اور امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے تو کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر گدھے کے جیسا بنا دے ۔" اور بحر میں فرمایا: یہ فرمان، اس عمل کے مکروہ تحریمی ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ (حاشیۃ الشرنبلالی، ج 01، ص 350، مطبوعہ اولوالالباب)

بدائع الصنائع میں ہے "ويكره للمأموم أن يسبق الإمام بالركوع والسجود؛ لما روي عن النبي - صلى اللہ عليه وسلم - أنه قال: «لا تبادروني بالركوع والسجود فإني قد بدنت» ولو سبقه ينظر إن لم يشاركه الإمام في الركن الذي سبقه أصلا لا يجزئه ذلك حتى إنه لو لم يعد الركن وسلم تفسد صلاته؛ لأن الاقتداء عبارة عن المشاركة والمتابعة ولم توجد في الركن وإن شاركه الإمام في ذلك الركن أجزأه عندنا"

ترجمہ: اور مقتدی کا امام سے پہلے رکوع و سجود کرنا مکروہ ہے، اس وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہوا کہ، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: "مجھ سے پہلے رکوع و سجود مت کرو کہ میرا جسم بھاری ہو گیا ہے۔" اور اگر کسی مقتدی نے ایسا کر لیا تو دیکھا جائے گا کہ اگر امام نے اس کے ساتھ اس رکن میں کسی طرح شرکت نہ کی، جس رکن کو اس نے امام سے پہلے ادا کیا تو یہ اسے کفایت نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اگر اس نے وہ رکن دوبارہ ادا نہ کیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کیونکہ اقتدا کا مطلب ہوتا ہے کہ باہم شریک ہونا اور پیروی کرنا اور اس رکن میں یہ صورت نہیں پائی گئی اور اگر امام اس رکن میں اس کے ساتھ شریک ہو گیا تو ہمارے نزدیک اسے یہ کفایت کر جائے گا۔ (بدائع الصنائع، ج 01، ص 511، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں نماز کے مکروہات تحریمیہ شمار کرتے ہوئے فرمایا: "امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجود وغیرہ میں جانا يا اس سے پہلے سر اٹھانا۔" (بھار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 629، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10880

تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1443ھ/24 ستمبر 2021ء