logo logo
AI Search

اقامت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اقامت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض مقامات پر دیکھا ہے کہ اقامت کہنے والے اقامت سے پہلے تسمیہ پڑھتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق ہر جائز اور اچھے کام سے پہلے تسمیہ یعنی بسم اللہ شریف پڑھنا پسندیدہ اور مطلوب امر ہے، احادیث میں اس کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اقامت بھی اچھا اور نیک کام ہے، لہذا اقامت سے پہلے تسمیہ پڑھنا بلا شبہ جائز و مستحسن ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ بلند آواز سے تسمیہ پڑھنے کی صورت میں، تسمیہ کے بعد کچھ دیر وقفہ کر لیا جائے، پھر اقامت کہی جائے تاکہ تسمیہ اور اقامت کے درمیان مناسب فاصلہ ہو جائے یا تسمیہ کی آواز اقامت کی آواز سے پست (آہستہ) رکھی جائے تا کہ تسمیہ اور اقامت میں امتیاز ہو جائے اور لوگوں کو تسمیہ کے اقامت کا جز (حصہ) ہونے کا وہم نہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل امر ذی بال لم یبدأ ببسم اللہ فھو اقطع“ جو شاندار کام بسم اللہ سے شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاذکار، ج 01، ص 277، مطبوعہ: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

بنایہ میں ہے: ”والمستحب في سائر الأفعال البداية باسم اللہ لقوله صلی اللہ علیہ وسلم «‌كل ‌أمر ‌ذي ‌بال»“ تمام (اچھے) کاموں میں بسم اللہ سے ابتدا کرنا مستحب ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے، کل امر ذی بال۔ (بنایہ شرح الھدایہ، ج 01، ص 110، مطبوعہ ملتان)

سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے اقامت سے پہلے درود پاک پڑھنے کے بارے میں سوال ہوا، تو آپ نے اس کا جواز بیان کیا اور ساتھ اس احتیاط کا بھی حکم دیا کہ درود پاک اس طرح پڑھا جائے کہ اقامت کا حصہ معلوم نہ ہو۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا: "درود شریف قبلِ اقامت پڑھنے میں حرج نہیں، مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آواز، آواز ِ اقامت سے ایسی جدا ہو کہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزءِ اقامت نہ معلوم ہو ۔" (فتاوی رضویہ، ج 5، ص 386، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Mul-543
تاریخ اجراء: 28 ربیع الثانی 1444ھ/24 نومبر 2022ء