ناک کی سرجری کے بعد سجدہ کیسے کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سرجری کی وجہ سےناک کی ہڈی زمین پر نہ لگ سکتی ہو، تو سجدہ کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سجدے میں ناک کی ہڈی کا زمین پر یوں جمانا کہ ناک کا نرم حصہ دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جَم جائے واجب ہے، بلاعذر ناک کی ہڈی نہ لگانا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے اور ایسی نماز کا اعادہ کرنا یعنی دوہرانا بھی واجب ہے، ہاں اگر واقعی کوئی عذر شرعی ہو، جس کی وجہ سے ناک زمین پر نہیں لگا سکتے تو جب تک یہ عذر رہے ناک کی ہڈی زمین پر نہ لگانے کی اجازت ہے، صرف پیشانی لگا کر سجدہ کریں اور جب پیشانی لگا کر سجدہ کرسکتے ہیں تو اشاروں سے سجدہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
عذر کی وجہ سے ناک زمین پر نہ لگانے کے متعلق ردالمحتار مع درمختار، الجوہرۃ النیرہ، فتح القدیر اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے: و اللفظ للآخر: لو وضع أحدهما فقط، إن كان من عذر لا يكره“ ترجمہ: اگر عذر کی وجہ سے ان دونوں (ناک اور پیشانی) میں سے کسی ایک کو (سجدہ کی حالت میں زمین پر) لگایا، تو مکروہ نہیں۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2559
تاریخ اجراء: 21 ربیع الآخر 1447ھ / 15 اکتوبر 2025ء