logo logo
AI Search

جس چارپائی کی آڑ میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس پر بیٹھنا کیسا؟

جس چار پائی کی آڑ میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس چارپائی پر بیٹھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک شخص چار پائی کی آڑ میں نماز پڑھ رہا ہو، تو کیا کوئی شخص اس چار پائی پر بیٹھ سکتا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

جس چارپائی کی آڑ میں کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو، تو اگر اُس چار پائی پر کوئی شخص اِس جہت پر بیٹھے کہ  نمازی کے سامنے، بیٹھنے والے شخص کا منہ نہ ہوتا ہو، تو اس طرح منہ کیے بغیر اس چار پائی پر بیٹھ سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں، البتہ نمازی کے سامنے منہ کرکے نہیں بیٹھ سکتا، کیونکہ نمازی کے سامنے کسی شخص کا بغیر کسی حائل (رکاوٹ) کے منہ کرنا، مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، ہاں اگر نمازی اور چار پائی پر بیٹھنے والے شخص کے درمیان میں کوئی ایسی چیز حائل ہو کہ جس کی وجہ سے نمازی کے کھڑے اور بیٹھنے، دونوں صورتوں میں نمازی کا سامنا نہ ہوتا ہو، تو اب اس طرح سامنے بیٹھنے پربھی کوئی کراہت نہیں ہوگی۔

در مختار مع رد المحتار میں ہے:

(الاستقبال لو من المصلي فالكراهة عليه و إلا فعلى المستقبل و لو بعيدا و لا حائل) قال في شرح المنية: و لو كان بينهما ثالث ظهره إلى وجه المصلي لا يكره لانتفاء سبب الكراهة و هو التشبه بعبادة الصورة

ترجمہ: اگر چہرہ کرنا نمازی کی طرف سے واقع ہو، تو کراہت نمازی پر ہے، ورنہ چہرہ کرنے والے پر، اگرچہ وہ   شخص نمازی سے دور ہو، اور (درمیان میں کوئی چیز) حائل نہ ہو، منیہ کی شرح میں فرمایا کہ اگر نمازی اور اس شخص کےدرمیان کوئی تیسرا شخص ہو جس کی پیٹھ نمازی کے چہرے کی طرف ہو تو اب کراہت کا سبب ختم ہونے کی وجہ سے مکروہ نہیں ہوگا، اور سببِ کراہت تو وہ مجسمہ کی عبادت سے مشابہت ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 497، دار المعرفۃ، بیروت)

بحر الرائق میں ہے:

و الحاصل أن استقبال المصلي إلى وجه الإنسان مكروه و استقبال الإنسان وجه المصلي مكروه فالكراهة من الجانبين

ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ نمازی کا کسی شخص کے چہرے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے، اور کسی شخص کا نمازی کی طرف رخ کرنا (بھی) مکروہ ہے، تو کراہت دونوں طرف سے ہے۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 34، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”کسی شخص کے مونھ کے سامنے نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ یوہیں دوسرے شخص کو مصلّی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، یعنی اگر مصلّی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلّی پر ہے، ورنہ اس (منہ کرنے والے) پر۔ اگر مصلّی اور اس شخص کے درمیان جس کا مونھ مصلّی کی طر ف ہے، فاصلہ ہو جب بھی کراہت ہے، مگر جب کہ کوئی شے درمیان میں حائل ہو کہ قیام میں بھی سامنا نہ ہوتا ہو، توحرج نہیں اور اگر قیام میں مواجہہ ہو قعود میں نہ ہو، مثلاً: دونوں کے درمیان میں ایک شخص مصلّی کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا کہ اس صورت میں قعود میں مواجہہ نہ ہوگا، مگر قیام میں ہوگا، تو اب بھی کراہت ہے۔‘‘ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 626، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:
FAM-540
تاریخ اجراء:
08 ربیع الاول1446ھ/13 ستمبر 2024ء