logo logo
AI Search

کیا جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان سنت مؤکدہ ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان سنت مؤکدہ ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس طرح نمازِ پنج گانہ (جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی جائیں) کے لیے اذان سنت مؤکدہ ہے، كيا اسی طرح جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان بھی سنت مؤکدہ ہے؟رہنمائی فرمادیں۔

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق جس طرح نمازِ پنج گانہ (جو جماعتِ مستحبہ کے ساتھ ادا کی جائیں) کے لیے اذان سنت مؤکدہ ہے، اسی طرح جمعہ کی پہلی اور دوسری، دونوں اذانیں بھی سنت مؤکدہ ہیں۔

تفصیل یہ ہے کہ  فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے پانچوں نمازوں اور جمعہ کے لیے اذان کو سنت مؤکدہ فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل مبارک اور صحابہ کرام کے اجماع سے ثابت ہے۔

البتہ جہاں تک تعلق ہے جمعہ کی پہلی اذان کا، تو وہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے مبارکہ میں نہ تھی، لیکن وہ بھی سنت مؤکدہ ہے۔ اس کے سنت مؤکدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس اذان کی ابتدا خلیفہ راشد امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت  میں مسلمانوں کی کثرت کے سبب اپنے اجتہاد سے کروائی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر کسی صحابی نے انکار نہ فرمایا، بلکہ سب نے اس پر عمل کیا، اور خلفائے راشدین کا کسی کام کو جاری فرمانا اور صحابہ کرام کا اس پر عمل کرنا، اس کام کو سنت مؤکدہ بنادیتا ہے۔

اس کی ایک نظیر جو کتبِ فقہ میں موجود ہے، وہ نماز تراویح کا سنت مؤکدہ ہونا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتیں نماز تراویح کی جماعت قائم فرما کر بخوفِ فرضیت اسے ترک فرمادیا، اس کے بعد خلیفہ راشد امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے  اس کو اہتمام کے ساتھ جاری فرمایا  اور تمام صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا۔ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے تین دن تراویح کی نماز پڑھانے سے یہ سنت مؤکدہ نہیں ہوئی تھی، بلکہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ قائم فرمایا اور تمام صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا تب یہ سنت مؤکدہ بنی۔

یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے جہاں جمعہ کے لیے اذان کو سنت مؤکدہ لکھا ہے، وہاں اسے مطلق بيان فر مایا، کسی ایک فقیہ نے بھی اس مقام پر پہلی اذان کا استثناء نہیں کیا، حالانکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لیکر اب تک یہ اذان ہوتی آرہی ہے، بلکہ  کتبِ فقہ میں ان مقامات پر دونوں اذانوں کو شامل کیے جانے کے الفاظ موجود ہیں اور اس بات پر فقہائے کرام کا اجماع نقل کیا گیا کہ جمعہ کی دو اذانیں ہیں، مزید برآں یہ کہ فقہائے کرام نے جمعہ کے لیے سعی کا وجوب اور خریدو فروخت کو ترک کرنے کے احکام میں بھی اس پہلی اذان کو معتبر قرار دیا ۔

لہذا ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان بھی سنت مؤکدہ ہے۔

جزئیات:

:نمازِ پنچ گانہ اور جمعہ کے لیے اذان سنت مؤکدہ ہے، چنانچہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں

الأذان ‌سنة ‌للصلوات ‌الخمس ‌والجمعة”

ترجمہ: نمازِ پنچ گانہ اور جمعہ کے لیےاذان سنت ہے۔ (الھدایۃ، جلد01، صفحہ 43، دار احياء التراث العربي، بيروت)

اذان کے سنت مؤکدہ ہونے کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ/1219ء) لکھتے ہیں:

“أنه سنّة ‌مؤكدة، ثبت ذلك بفعل النبي عليه السلام، وإجماع الصحابة

ترجمہ: اذان سنت مؤکدہ ہے، اس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل مبارک اور صحابہ کرام کے اجماع سے ثابت ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 01، صفحہ 339، دار الكتب العلمية، بيروت)

جمعہ کی دوسری اذان (جو  خطبے سے پہلے ہوتی ہے) عہدِ نبوی سے جاری ہے اور پہلی اذان کا آغاز حضرت عثمان غنیر ضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں فرمایا، چنانچہ بخاری شریف کی حدیث پاک ہے، حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

”كان النداء يوم الجمعة، أوله إذا جلس الإمام ‌على ‌المنبر، ‌على ‌عهد ‌النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما، فلما كان عثمان رضي الله عنه، وكثر الناس، زاد النداء الثالث على الزوراء“

ترجمہ: پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں جمعہ کے دن صرف ایک اذان ہوتی تھی، پس جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو آپ نے منارہ پر اس تیسری اذان کا اضافہ فرمایا۔ (صحیح بخاری، جلد 01، الرقم 870، دار ابن كثير، دار اليمامة، دمشق)

بیان کردہ حدیث پاک کے تحت شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں:

”إنما سمي ثالثا باعتبار كونه مزيدا، لأن الأول هو الأذان عند جلوس الإمام على المنبر، والثاني هو الإقامة للصلاة عند نزوله، والثالث عند دخول وقت الظهر فإن قلت: هو الأول لأنه مقدم عليهما قلت: نعم هو أول في الوجود، ولكنه ثالث باعتبار شرعيته باجتهاد عثمان وموافقة سائر الصحابة به بالسكوت وعدم الإنكار، فصار إجماعا سكوتيا“

ترجمہ: حدیث پاک میں اس اذان کو زائد ہونے کے اعتبار سے تیسری اذان  کہا گیا، کیونکہ پہلی اذان وہ جو امام کے منبر پر بیٹھتے وقت ہوتی ہے اور دوسری وہ جو امام کے منبر سے اترتے وقت نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے اور تیسری وہ جو ظہر کا وقت داخل ہوتے  وقت دی جاتی ہے۔ پس اگر تو کہے کہ وہ (جسے تیسری اذان کہا گیا) دونوں پر مقدم ہے، تو میں کہتا ہوں وہ وجود میں پہلی ہے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اجتہاد اور صحابہ کرام کے اس پر خاموش رہنے اور انکار نہ کر کے موافقت کر لینے کے سبب مشروع ہونے میں تیسری ہے، گویا اس اذان کی مشروعیت پر(صحابہ کرام کا) اجماعِ سکوتی ہوگیا۔ (عمدۃ القاری، جلد06، صفحہ211، ودار الفكر، بيروت)

خلفائے راشدین کا کسی کام پر ہمیشگی اختیار کرنا، اس کام کو سنت بنادیتا ہے، چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:

”إن كان مما ‌واظب ‌عليه الرسول - صلى الله عليه وسلم - أو الخلفاء الراشدون من بعده فسنة“

ترجمہ: اگر وہ کام ایسا ہو جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشگی اختیار فرمائی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین نے ہمیشگی اختیار فرمائی ہو، تو وہ کام سنت ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد01، صفحہ 102، دار الفکر بیروت )

خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرنا بھی لازم ہے، چنانچہ ابو داؤد شریف کی حدیث پاک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”عليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين“

ترجمہ: تم پرمیری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4607، جلد 4، صفحۃ 200، المكتبة العصرية، بيروت)

فقہی نظیر کے جزئیات:

نمازِ تراویح خلفائے راشدین کی مواظبت (ہمیشگی)کے سبب سنت مؤکدہ ہے، چنانچہ تنوير الابصار مع در مختار میں ہے:

”(‌التراويح ‌سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا“

ترجمہ: تراویح خلفائے راشدین کی مواظبت کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کے لیے با لاجماع سنتِ مؤکدہ ہے۔

مذکورہ عبارت کے تحت ردالمحتار میں ہے:

’’لأن المواظبۃ علیھاوقعت فی أثناء خلافۃ عمر رضی اللہ عنہ، و وافقہ علی ذلک عامۃ الصحابۃ و من بعدھم الی یومنا ھذا بلا نکیر‘‘

ترجمہ: یعنی اکثر خلفائے راشدین کی مواظبت کی وجہ سے کیونکہ اس پر مواظبت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے دوران ہوئی اورسب صحابہ نے ان کی اس پر موافقت فرمائی اور ان کے بعد سے آج تک کسی نے انکارنہ کیا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 43، دار الفکر، بیروت)

نماز ِ تراویح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قائم کرنے اور صحابہ کرام کے اس پر عمل کرنے سے سنت مؤکدہ بنی، چنانچہ  اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے تین شب تراویح میں امامت فرما کر بخوفِ فرضیت ترک فرمادی، تو اس وقت تک وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی، جب امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے اِجرا فرمایا اور عامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس پر مجتمع ہوئے، اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی، نہ فقط فعلِ امیر المؤمنین سے، بلکہ ارشاداتِ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے، اب ان کا تارک ضرور تارکِ سنتِ مؤکدہ ہے اور ترک کاعادی فاسق وعاصی۔“ (فتاوی رضویہ، ج 07، ص 471، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جمعہ کے لیے اذان کے سنت مؤکدہ ہونے کے اطلاق میں دونوں اذانیں شامل ہیں، چنانچہ علامہ زَبِیدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 800ھ/1397ء) لکھتے ہیں:

”(قوله: سنة للصلوات الخمس) أي سنة مؤكدة(قوله: والجمعة) فإن قيل هي داخلة في الخمس فلم أفردها وخصها بالذكر؟ قيل خصها بالذكر؛ لأن لها أذانين ولتتميز عن صلاة العيدين“

ترجمہ: مصنف کا قول کہ پانچوں نماز وں کے لیے اذان سنت ہے، یہاں سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے، اور جمعہ کے لیے بھی اذان سنت مؤکدہ ہے، اگر یہ کہا جائے کہ جمعہ بھی پانچ نمازوں میں داخل تھا، تو اسے الگ سے کیوں بیان کیا؟تو کہا گیا جمعہ کو الگ سے اس لیے بیان کیا، کہ اس کی دو اذانیں ہوتی ہیں اور عیدین سے اس کا حکم الگ کرنے کے لیے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 44، المطبعة الخيرية)

جمعہ کے لیے سعی کا وجوب اور خرید و فروخت کو ترک کرنے میں یہی پہلی اذان معتبر ہے، چنانچہ ہدایہ میں ہے:

”وإذا أذن المؤذنون الأذان الأول ترك الناس البيع والشراء وتوجهوا إلى الجمعة " لقوله تعالى: {فَاسَعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ} [الجمعة: 9]۔۔۔والأصح ‌أن ‌المعتبر ‌هو ‌الأول إذا كان بعد الزوال لحصول الإعلام به والله أعلم“

ترجمہ: جب اذان دینے والے پہلی اذان دیں، تو لوگ خرید و فروخت کو ترک کریں اور جمعہ کی طرف متوجہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: "پس اللہ کے ذکر کی طرف آؤ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو"، اور اصح قول یہی ہے کہ وجوبِ سعی میں پہلی اذان ہی معتبر ہے، جبکہ وہ اذان زوال کے بعد دی جائے، کیونکہ اس سے (اذان کا مقصود) اعلان حاصل ہوگیا۔ (الھدایۃ، جلد 01، صفحہ 84، دار احياء التراث العربي، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR- 0176
تاریخ اجراء: 23 جمادی الاخری 1447 ھ/15دسمبر 2025 ء