logo logo
AI Search

خطبہ کی اذان کونسی ہے؟ اور جمعہ کی سنتوں کا حکم کیا ہے؟

خطبہ کی اذان کون سی ہوتی ہے؟ خطبہ سے پہلے والی سنتوں کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اذان خطبہ سے کیا مراد ہے؟ جو جمعہ میں دو خطبے ہوتے ہیں، یہ دو خطبے کون کون سے ہوتے ہیں؟ اور خطبے سے پہلے جو چار سنتیں پڑھی جاتی ہیں، وہ سنتیں کون سی ہوتی ہیں، ظہر کی ہوتی ہیں یا اور کوئی ہوتی ہیں اور اِن کو پڑھنے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

اذانِ خطبہ سے مراد، اذانِ ثانی یعنی جمعہ کی دوسری اذان ہے، جو خطیب کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد دی جاتی ہے۔جمعہ میں ہونے والے دو خطبوں میں پہلا خطبہ تو وہ ہوتا ہے جو جمعہ کی دوسری اذان کے ختم ہونے کے فوراً بعد خطیب کھڑے ہوکر دینا شروع کرتا ہے،اور پہلا خطبہ ختم ہونے کے بعد جب خطیب تھوڑی دیر منبر پر بیٹھ کر دوسری بار کھڑے ہوکر دوبارہ خطبہ دینا شروع کرتا ہے، تو وہ جمعہ کا دوسرا خطبہ ہوتا ہے۔

نیز خطبہ سے پہلے پڑھی جانے والی چار سنتیں، جمعہ کی چار سنتیں ہوتی ہیں، اور یہ جمعہ سے پہلے کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ ہوتی ہیں، اِن کو پڑھنے کی تاکید ہے، جو یہ سنتیں بلاعذر شرعی صرف ایک آدھ بار ترک کرے، توایسا کرنا اِساءت یعنی بُرا ہے اور ایسا شخص قابلِ ملامت ہے، اور جو اُس کے ترک (چھوڑنے) کی عادت بنالے، تو ایسا شخص گنہگار ہے۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:

(و سن) مؤكدا (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة)

ترجمہ: ظہر سے پہلے چار رکعات اور جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 545، دار المعرفہ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں سنت مؤکدہ یہ ہیں۔ (۱) دو رکعت نماز فجر سے پہلے (۲) چار ظہر کے پہلے، دو بعد (۳) دو مغرب کے بعد (۴) دو عشا کے بعد اور (۵) چار جمعہ سے پہلے، چار بعد یعنی جمعہ کے دن جمعہ پڑھنے والے پر چودہ رکعتیں ہیں اور علاوہ جمعہ کے باقی دنوں میں ہر روز بارہ رکعتیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 663، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سنت مؤکدہ کے ترک کا حکم بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: سنت مؤکدہ کا ایک آدھ بار ترک گناہ نہیں، ہاں بُرا ہے اور عادت کے بعد گناہ و نارَوا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 910، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی، بلاعذر ایک بار بھی ترک کرے، تو مستحقِ ملامت ہے اورترک کی عادت کرے، تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحقِ نار ہے اور بعض ائمہ نے فرمایا کہ وہ گمراہ ٹھہرایا جائے گا اور گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔ تلویح میں ہے کہ اس کا ترک قریب حرام کے ہے، اس کا تارک مستحق ہے کہ معاذ اللہ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: جو میری سنت کو ترک کرے گا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔ (بهار شریعت، جلد 1،حصہ 4، صفحہ 662، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-628
تاریخ اجراء: 01 رجب المرجب 1446ھ / 02 جنوری 2025ء