مسجد کی توسیع کے بعد محراب کہاں ہونی چاہیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وقف کی جگہ کو بدلنے اور محراب درمیان میں نہ بنانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے کی مسجد پہلے چھوٹی تھی، اسی کے مطابق درمیان میں محراب بھی بنا ہوا تھا، محراب والی جگہ ساتھ والی زمین کے مالک نے مسجد کو وقف کی تھی۔ اب ہم نے مسجد کو دائیں بائیں سے وسیع کیا ہے، لیکن اب پہلے والا محراب وسط میں نہیں رہا، بلکہ ایک طرف ہو گیا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا اب ہمیں نیا محراب درمیان میں بنانا ہوگا یا پہلے والا ہی کافی ہے؟ نیز اگر ہم توسیع شدہ مسجد کے حساب سے درمیان میں نیا محراب بناتے ہیں، تو اس کے لیے ہمیں ساتھ والی زمین کے مالک سے اس کی جگہ لینی پڑے گی۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ساتھ والی زمین کے مالک کو پہلے والے محراب کی جگہ واپس کردیتے ہیں اور نئے محراب کی جگہ اس کے بدلے لے لیتے ہیں، تو شرعاً ہمارا ایسا کرنا درست ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم جاننے کے لیے پہلے چند بنیادی باتیں جان لیں؛
اولاً یہ کہ حقیقی محراب کسی طاق نما شکل کا نام نہیں ہے، بلکہ وسطِ مسجد (یعنی وہ جگہ کہ جب صف دونوں طرف سے مکمل ہوجائے تو بالکل اس کے وسط میں جو جگہ بنتی ہےوہ) حقیقی محراب ہے اور امام کا اسی جگہ کھڑے ہونا سنتِ متوارثہ ہے۔ البتہ طاق نما علامت جو جانبِ قبلہ دیوار میں بنی ہوتی ہے، اس کو محراب صوری کہتے ہیں اور وہ حقیقی محراب (وسطِ مسجد) کی علامت ہوتی ہے۔ نیز اگر کسی وجہ سے یہ محرابِ صوری درمیان میں نہ رہے، جیسا کہ سوال میں بیان کردہ صورت میں ہے، تو امام اس کی اتباع نہیں کرے گا، بلکہ اس کے لیے حقیقی محراب (مسجد کے وسط) کی رعایت کرنا ہی سنت ہے۔
ثانیاً یہ کہ جب کسی جگہ کو وقف کردیا جاتا ہے، تو وہ بندے کی ملک سے نکل کر خالصتاً اللہ تعالی کی ملک میں چلی جاتی ہے، پھر بندوں میں سے اس کا کوئی مالک نہیں ہوسکتا، لہذا اس کو بیچنا یا واقف کو واپس کرنا یا کسی بھی طرح سے اس میں تبدیل و تغییر کرنا ناجائز و گناہ ہوتا ہے، نیز یہ تو عام اوقاف کے احکام ہیں، مسجد کا حکم اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
مذکورہ مقدمات کی روشنی میں سوال میں بیان کردہ صورت کا حکم واضح ہوگیا کہ مسجد کی توسیع کے بعد حقیقی محراب مسجد کا وسط ہے، امام پر اسی جگہ کی رعایت کرناسنت ہے، یعنی مسجد کی توسیع کے بعد جو جگہ صف کے درمیان میں آتی ہے، اس کےمقابل ہی امام کھڑا ہوگا ، پہلے والے محرابِ صوری کی جگہ امام کھڑا نہیں ہوگا۔
اب اگر آپ حقیقی محراب کی علامت کے لیے نیا محراب صوری بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ساتھ والی زمین کے مالک سے بات کرلیں کہ وہ اتنی جگہ مسجد کو وقف کردے، اگر وہ وقف نہیں کرتا اور پیسوں کے بدلے بیچتا ہے تو اتنی جگہ مسجد کے لیے خرید لیں اور اس پر محراب بنالیں۔ نئی جگہ کے لیے پہلے والے محراب کی جگہ کو واپس دینا ، کسی صورت جائز نہیں، کہ وہ جگہ مسجد کے لیے وقف ہوچکی ہے اور وقف شدہ جگہ میں تبدیل و تغییر حرام ہے، نیز اس طرح کرنے میں مسجد کی جگہ کو مسجد سے جدا کرنا پایا جائے گا،جوکہ سخت حرام ہے اور ایسا کرنے والے کو قرآن پاک میں بڑا ظالم کہا گیا۔
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
السنة أن يقوم الإمام إزاء وسط الصف، ألا ترى أن المحاريب ما نصبت إلا وسط المساجد وهي قد عينت لمقام الإمام
ترجمہ: سنت یہ ہے کہ امام درمیانِ صف کے مقابل کھڑا ہو، کیا تو نہیں دیکھتا کہ محراب مساجد کے وسط میں بنائے جاتے ہیں اور یہ امام کے مقام کی تعیین کے لیے ہوتے ہیں۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 01، صفحہ 568،دار الفکر بیروت)
امام کا وسطِ صف کی بجائے اِدھر اُدھر کھڑے ہونا مکروہ ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے:
السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، و لو قام في أحد جانبي الصف يكره
ترجمہ: سنت یہ ہے کہ امام محراب (وسط) میں کھڑا ہو، تاکہ دونوں طرفیں برابر ہوجائیں، اور اگر وہ ایک جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 01، صفحہ 568،دار الفکر بیروت)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت ، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) سے اسی طرح کا سوال ہوا مسجد کا صحن محراب کے ہردو جانب میں مساوی نہیں ہے، جب نماز صحن مسجد میں پڑھی جاتی ہے توجماعت اس سرے سے اس سرے تک قائم ہوتی ہے جومحراب کی نسبت سے دائیں جانب ۱۶فٹ متجاوز ہوتی ہے، اب دریافت طلب یہ ہے کہ جب صحن مسجد میں جماعت قائم ہوجائے تو امام کو رعایت وسط صف کی لازم ہے یامحاذاتِ محراب ضروری ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: امام کے لئے سنت متوارثہ کہ زمانہ اقدس رسالت سے اب تک معہود وسط مسجد میں قیام ہے کہ صف پوری ہو توامام وسط صف میں ہو اور یہی جگہ محراب حقیقی ومتورث ہے، محراب صوری کہ طاق نماایک خلا وسط دیوار قبلہ میں بنانا حادث ہے اُسی محراب حقیقی کی علامت ہے، یہ علامت اگر غلطی سے غیروسط میں بنائی جائے اس کا اتباع نہ ہوگا مگرمراعات توسط ضروری ہوگی کہ اتباع سنت و انتفائے کراہت و امتثال ارشاد حدیث توسطوا الامام (امام درمیان میں کھڑا ہو۔ ت)۔۔۔ پس صورت مستفسرہ میں جبکہ مسجد صیفی مسجد شتوی سے سولہ فٹ جانب راست زائد ہے تو امام محراب صوری اندرونی کی محاذات سے آٹھ فٹ جانب راست ہٹ کر صحن میں کھڑاہو کہ اس مسجد کی محراب میں قیام حاصل ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 07، صفحہ 37، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مسجد کی توسیع کی صورت میں محراب کے متعلق فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال اور جواب درج ہے کہ مسجد کی توسیع بائیں جانب کی جارہی ہے،دائیں طرف گنجائش ہی نہیں ہے، اب اس صورت میں کیا محراب و منبر بدستور اپنے مقام پر ہوں گے یا جدید تعمیر کے وسط میں؟ الجواب: محراب حقیقتاً وسط مسجد کا نام ہے۔ لہذا جدید تعمیر میں محراب صوری کو وسط میں کیا جائے، کیونکہ یہ محراب حقیقی کی علامت ہے۔ قدیم مقام پر اسے باقی تو رکھ سکتے ہیں، مگر اس کے سامنے امام کا کھڑا ہونا مکروہ اور خلاف سنت ہے کہ حدیث شریف میں امام کو وسط مسجد میں کھڑے ہونے کا حکم ہے۔۔۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 02، صفحہ 176، نشان منزل پبلی کیشنز)
وقف ہوجانے کے بعد موقوفہ جگہ کسی کی ملک نہیں ہوسکتی، چنانچہ ردالمحتار علی درمختار میں ہے:
(فإذا تم و لزم لایملک) أی: لایکون مملوکاً لصاحبہ (و لایملک) أی: لایقبل التملیک لغیرہ بالبیع و نحوہ
ترجمہ: جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے، تونہ وقف کرنے والا اس کا مالک ہوتا ہے اور نہ اس وقف کا کسی کو مالک بنایا جاسکتا ہے، یعنی وقف، بیع یا اس کی مثل کسی ذریعے سے دوسرے کو مالک بنانے کو قبول نہیں کرتا۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 04، صفحہ 352،دار الفكر، بيروت)
بعدِ وقف موقوفہ جگہ میں تغییر جائز نہیں ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
لا یجو زتغییر الوقف عن ھیئتہ
ترجمہ: وقف کو جس چیز کے لیے وقف کیا گیا ہے، اس سے بدلنا جائز نہیں ہے۔ (الفتاوٰى الھندیۃ، جلد 02، صفحہ 490، مطبوعہ کوئٹہ)
مسجد کے کسی حصے کو مسجد سے خارج کرنے والا ظالم ہے،چنانچہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فر ماتا ہے:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ- لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ
ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 114)
مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: مسجد کو کسی بھی طرح ویران کرنے والا ظالم ہے۔ بلاوجہ لوگوں کو مسجد میں آنے یا مسجد کی تعمیر سے روکنے والا، مسجد یا اس کے کسی حصے پرقبضہ کرنے والا، مسجد کو ذاتی استعمال میں لے لینے والا، مسجد کے کسی حصے کو مسجد سے خارج کرنے والا یہ سب لوگ اس آیت کی وعید میں داخل ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 1، ص 199، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جو زمین مسجد ہو چکی اس کے کسی حصہ کسی جز کا غیر مسجد کر دینا اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک مسجدیں اللہ تعالیٰ کی ہیں)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 482، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0165
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاخری 1447ھ / 03 دسمبر 2025ء