logo logo
AI Search

نماز میں فرض قراءت کی مقدار کتنی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز میں فرض قراءت کی مقدار کیا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کا ایک فرض قراءت ہے اور مطلقاً ایک آیت کا پڑھنا فرض ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکمل آیت کی مقدار 6 حروف ہیں اگرچہ مکمل آیت ہونے کی نشانی (O) نہ ہو یا مکمل آیت جس کے آخر میں آیت مکمل ہونے کی نشانی (O) ہوتی ہے یہ مراد ہے خواہ آیت ایک یا دو حرفی ہو؟

جواب

نماز میں جس ایک آیت کا پڑھنا فرض ہوتا ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ تو اس سے مراد مطلق وہ آیت نہیں جس کے بعد آیت کی نشانی یعنی گول دائرہ (O) ہوتا ہے خواہ وہ ایک دو حرفی ہی ہو جیسے: ص O، نۤO ، قۤO ، الٓمّٓO ۔ یٰسٓO ۔ طٰهٰO ۔ بلکہ بہت سے فقہائے کرام کے نزدیک جوازِ قراءت کیلئے صرف ایک کلمہ کی آیت بھی کافی نہیں جیسے:مُدْهَآ مَّتٰنِO اگرچہ اس سے نماز ہوجانے کا قوی قول بھی موجود ہے۔ بہرحال محتاط قول کے مطابق وہ ایک آیت جس سے نماز میں قراءت کا فرض ادا ہوجاتا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو کم از کم چھ(6) حروف اور دو یا اس سے زائد کلموں پر مشتمل ہو۔ اب چاہے وہ ایک ایسی مکمل آیت ہوجس کے بعد آیت کی نشانی گول دائرہ (O) بھی موجود ہو، یا ایسا نہ ہو جیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ یہ ایک مکمل آیت نہیں لیکن چونکہ چھ حروف سے زائد ہے اور دو کلموں پر مشتمل ہے، لہذا اس مقدار سے قراءت کا فرض ادا ہوجائے گا۔

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ آیت ما یجوز بہ صلٰوۃ (یعنی جس سے نماز کا فرض ادا ہوجاتا ہے) کتنی مقدار ہے؟

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: وہ آیت کہ چھ حرف سے کم نہ ہو اور بہت نے اُس کے ساتھ یہ بھی شرط لگائی کہ صرف ایک کلمہ کی نہ ہو، تو ان کے نزدیک ﴿مُدھَامَّتٰن﴾اگرچہ پوری آیت اور چھ ۶ حرف سے زائد ہے، جوازِ نماز کو کافی نہیں، اسی کو منیہ وظہیریہ و سراج وہاج و فتح القدیر و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں اصح کہا اور امام اجل اسبیحابی و امام ملک العلماء ابو بکر مسعود کاسانی نے فرمایا کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک صرف ﴿مُدْھَامَّتٰن﴾ سے بھی نماز جائز ہے اور اس میں اصلاً ذکر خلاف نہ فرمایا۔

دُر مختار میں ہے:

اقلھا ستۃ احرف و لو تقدیر اکلم یلد الا اذاکانت کلمۃ فالاصح عدم الصحۃ

اس آیت کے کم از کم چھ حروف ہوں، اگر چہ وہ لفظاً نہ ہوں، بلکہ تقدیراً ہوں مثلاً لم یلد (کہ اصل میں لم یولد تھا) مگر اس صورت میں کہ جب وہ آیت صرف ایک کلمہ پر مشتمل ہو، تو اصح عدمِ صحتِ نماز(یعنی زیادہ صحیح نماز کا درست نہ ہونا ) ہے۔ ظہیریہ، السراج، الوہاج اورفتح القدیر میں بھی یوں ہی ہے۔ فتح القدیر میں ہے:

لو کانت کلمۃ اسماً او حرفاً نحو مدھامتٰن ص ق ن فان ھذہ اٰیات عند بعض القراء اختلف فیہ علی قولہ والاصح انہ لا یجوز لانہ یسمی عادا لا قارئا

اگروہ آیت ایک کلمہ پر مشتمل ہے، خواہ اسم ہو یا حرف مثلاً ﴿مُدھَامّتٰن﴾ ص، ق، ن کیونکہ یہ بعض قراء کے نزدیک آیات ہیں ان کے قول پر اس میں اختلاف ہے اور اصح یہی ہے کہ یہ جواز نماز کے لیے کافی نہیں، کیونکہ ایسے شخص کو قاری نہیں کہا جاتا، بلکہ شمار کرنے والا کہا جاتا ہے۔

بحر الرائق میں اسے ذکر کر کے فرمایا:

کذا ذکرہ الشارحون و ھو مسلم فی ص و نحوہ امافی مدھا متٰن فذکر الاسبیجابی و صاحب البدائع انہ یجوز علی قول ابی حنیفۃ من غیر ذکر خلاف بین المشائخ

شارحین نے اسے یوں ہی بیان کیا ہے اور یہ بات ص وغیرہ میں تو مسلم ہے، مگر ﴿مُدھَامَّتٰن﴾ کے بارے میں اسبیجابی اور صاحبِ بدائع نے اختلافِ مشائخ ذکر کیے بغیر کہا کہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق یہ جوازِ نماز کے لیے کافی ہے۔ بدائع میں ہے:

فی ظاھر الروایۃ قدر ادنی المفروض بالاٰیۃ التامۃ طویلۃ کانت اوقصیرۃ کقولہ تعالٰی مدھامتٰن وماقالہ ابوحنیفۃ اقیس

ظاہر الروایہ کے مطابق فرض قراءت کی مقدار کم ازکم ایک مکمل آیت ہے، وہ آیت لمبی ہو یا چھوٹی۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے﴿مُدھَامّتٰن﴾ ا ور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے، وہی زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ (ان سب جزئیات کے بعد اعلی حضرت عليہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ) اقول (میں کہتا ہوں): اظہر یہی ہے مگر جبکہ ایک جماعت اُسے ترجیح دے رہی ہے، تو احتراز ہی میں احتیاط ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد، صفحہ 344 - 346، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے: چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زائد کلمات ہوں پڑھ لینے سے فرض ادا ہو جائے گا اور اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے صۤ، نۤ، قۤ، کہ بعض قراء توں میں ان کو آیت مانا ہے، تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ اس کی تکرار کرے۔ رہی ایک کلمہ کی آیت مُدْھَآمَّتَانِ﴿ۚ۶۴﴾ اس میں اختلاف ہے اور بچنے میں احتیاط۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 512،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-997
تاریخ اجراء: 06 جمادی الا خری1447ھ /29 نومبر 2025ء