صفوں کو برابر کرنے کی کیا اہمیت ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
صف میں اتصال یعنی نمازیوں کا آپس میں مِل مِل کر کھڑے ہونے کا حکم کئی احادیث میں آیا ہے اور علما نے بھی اس پر عمل کرنے کے حوالے سے تاکید بیان فرمائی کہ اس پر احادیث میں وعید بھی وارد ہوئی ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اب قابلِ عمل نہیں رہا، تو کیا اس کی یہ بات درست ہے؟
جواب
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کے متعلق آج کل مسلمانوں میں کوتاہی پائی جاتی ہے، لیکن اس کا حکم آج بھی ویسے ہی باقی ہے جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اپنے زمانے میں ارشاد فرمایا تھا، آج کے زمانے میں بھی مفتیانِ کرام انہی احادیث مبارکہ کی وجہ سے اتصالِ صفوف کا حکم تاکید کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ آج کے دور میں یہ حکم قابلِ عمل نہیں رہا، ایسا کہنے والے کو درست مسئلے سے آگاہ کیا جائے اور سمجھایا جائے۔
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”الا تصفون خلفی کما تصف الملائکۃ عند ربھم؟ قالو! و کیف تصف الملائکۃ عند ربھم؟ قال: یتمون الصفوف المقدمۃ و یتراصون فی الصف“ یعنی تم میرے پیچھے اس طرح صف کیوں نہیں بناتے، جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صف بناتے ہیں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 106، مطبوعہ لاہور)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ صف کے واجبات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: دربارۂ صفوف شرعاً تین باتیں بتاکیدِ اکید مامور بہ ہیں اور تینوں آج کل معاذ اللہ کالمتروک ہورہی ہیں، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نا اتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔ اول: تسویہ کہ صف برابر ہو، خم نہ ہو، کج نہ ہو، مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں، سب کی گردنیں، شانے، ٹخنے آپس میں محاذی ایک خط مستقیم پر واقع ہوں جو اس خط پر کہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزرا ہے، عمود ہو، دوم: اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو، دوسری نہ کریں، اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگر کوئی صف ناقص چھوڑے، مثلاً ایک آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی، اسے بغیر پورا کیے پیچھے اور صفیں باندھ لیں، بعد کو ایک شخص آیا، اس نے اگلی صف میں نقصان پایا، تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتا ہوا جاکر وہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پورا کرے، کہ انہوں نے مخالفتِ حکم شرع کر کے خود اپنی حرمت ساقط کی۔ جو اس طرح صف پوری کرے گا، اللہ تعالی اس کے لیے مغفرت فرمائے گا۔ سوم: تراص یعنی خوب مل کر کھڑا ہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے۔ اللہ عزوجل فرماتاہے: ﴿صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرْصُوۡصٌ﴾ ترجمہ: گویا وہ عمارت ہے رانگا پلائی ہوئی۔ رانگ پگھلا کر ڈال دیں، تو سب درزیں بھرجاتی ہیں، کہیں رخنہ فرجہ نہیں رہتا، ایسی صف باندھنے والوں کو مولی سبحٰنہ و تعالیٰ دوست رکھتا ہے ۔۔۔ یہ بھی اسی اتمامِ صفوف کے متممات سے اور تینوں امر شرعاً واجب ہیں کما حققناہ فی فتاوٰنا و کثیر من الناس عنہ غافلون۔ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے اور بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 219 تا 223، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1978
تاریخ اجراء: 19 ربیع الثانی 1446ھ / 23 اکتوبر 2024ء