بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الٹا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
ایسا کپڑا پہننا یا کپڑے کو اس انداز میں پہننا جسے پہن کر کوئی مہذب آدمی، بازار میں یا کسی معزز شخص کے سامنے جانے میں شرم محسوس کرے، تو اُس کپڑے یا اُس انداز میں کپڑے پہن کر نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے، مکروہ تحریمی نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ الٹا کپڑا پہن کر کوئی بھی انسان بازار میں یا کسی بڑے معزز شخص کے سامنے جانا ہرگز پسند نہیں کرتا اور اس میں اپنی شرم محسوس کرتا ہے، لہٰذا ایسے لباس میں نماز مکروہ تنزیہی ہے۔
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
(و) كره۔۔۔ (صلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (و مهنة) أي خدمۃ إن له غيرها
ترجمہ: اور کام کاج کے کپڑوں میں جسے کوئی شخص اپنے گھر میں کام کے وقت پہنتا ہے اور صنعت یعنی پیشے کے وقت پہنے جانے والے کپڑوں میں نماز مکروہ ہے، جبکہ دوسرے کپڑے موجود ہوں۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
و فسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته و لا يذهب به إلى الأكابر و الظاهر أن الكراهة تنزيهية
ترجمہ: اور اس کی وضاحت شرح الوقایہ میں ایسے لباس کے ساتھ کی ہے کہ جسے کوئی شخص اپنے گھر میں پہنے اور اسے پہن کر اکابر کے پاس نہ جائے، اور ظاہر یہ ہے کہ (اس میں کراہت سے مراد) کراہت تنزیہی ہے۔ (تنویر الابصار مع درمختار و رد المحتار، جلد 2، صفحہ 390، 391، دار المعرفۃ، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خا ن علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: کپڑا الٹا پہننا اوڑھنا خلافِ معتاد میں داخل ہے اور خلافِ معتاد جس طرح کپڑا پہن یا اوڑھ کر بازار میں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ضرور مکروہ ہے کہ دربارِ عزت احق بادب و تعظیم ہے۔
و اصلہ کراھۃ الصلٰوۃ فی ثیاب مھنۃ قال فی الدر و کرہ صلٰوتہ فی ثیاب مھنۃ۔ قال الشامی و فسرھا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ و لایذھب بہ الی الاکابر
اصل یہ ہے کہ کام و مشقت کے لباس میں نمازمکروہ ہے۔ در میں ہے نمازی کا کام کے کپڑوں میں نمازادا کرنا مکروہ ہے۔ شامی نے فرمایا اور اس کی تفسیرشرح وقایہ میں ہے کہ وہ کپڑے جو آدمی گھر میں پہنتا ہے مگران کے ساتھ اکابر کے پاس نہیں جاتا۔ (ت) اورظاہر کراہتِ تنزیہی،
فان کراھۃ التحریم لا بدلھا من نھی غیرمصروف عن الظاھر کما قال ش فی ثیاب المھنۃ و الظاھر ان الکراھۃ تنزیھیۃ
اس وجہ سے کہ کراہتِ تحریمی کے لئے ایسی نہی (ممانعت) کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر سے مؤول (تاویل شدہ) نہ ہو، جیسا کہ علامہ شامی نے کام کے کپڑوں کے بارے میں کہا کہ ظاہرکراہت تنزیہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 358، 359، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-649
تاریخ اجراء: 24 رجب المرجب 1446ھ / 27 جنوری 2025ء