logo logo
AI Search

شیخ فانی روزوں کا فدیہ نہ دے سکے تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شیخ ِفانی روزوں کا فدیہ دینے کی قدرت نہ رکھتا ہو، تو کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص شیخ فانی ہو، اس پر روزوں کا فدیہ لازم ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہ فدیہ دینے پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر کیا کرے؟

جواب

شیخ فانی یعنی ایسا شخص جسے بڑھاپے نے اتنا کمزور کردیا ہو کہ وہ اب روزے نہیں رکھ سکتا اور آئندہ بھی روزہ رکھنے کی کوئی امید نہیں ہے، تو ایسے شخص پریہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین یا شرعی فقیر کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا ہر روزے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار کسی مسکین یا شرعی فقیر کو دے۔البتہ اگر ایسا شخص مفلس ونادار ہو کہ اسے فدیہ ادا کرنے پر بھی قدرت نہ ہو تواس کیلئے حکم یہ ہے کہ یہ استغفار کرے اور آئندہ اگر استطاعت ہو توجب استطاعت ہو تب ادا کرے۔

شیخ فانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ  

ترجمہ کنزالعرفان: اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہواُن پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر184)

اس آیت کے تحت بخاری شریف میں فرمایا:

”قال ابن عباس: ليست بمنسوخة هو الشيخ الكبير، والمرأة الكبيرة لا يستطيعان أن يصوما، فيطعمان مكان كل يوم مسكينا“

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے فرمایا: یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد بہت بوڑھا مرد اور بہت بوڑھی عورت ہے جو روزے نہ رکھ سکتے ہوں تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے۔ (بخاری شریف، صفحہ 1101، حدیث نمبر 4505، مطبوعہ بیروت)                                       

کھانا کھلانے کی بجائے ہر روزے کے بدلے ایک صدقۂ فطرکی مقدار بھی دے سکتے ہیں۔ بہارشریعت میں ہے: ”شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پر واجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ “ (بہارشریعت جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1006، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

شیخ فانی مفلس ہو تو اس کیلئے استغفار کا حکم ہے۔ حاشیۃ الشلبی علی التبیین میں ہے:

”فان لم يقدر على الاطعام لفقره يستغفر الله تعالى ويستقيله“

ترجمہ: اگرمفلسی کی وجہ سے فدیے کا کھانا کھلانے پر قادر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اپنی کوتاہیوں کی معافی طلب کرے۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق جلد 2، صفحہ 199، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جنھیں روزے کی قدرت نہ ہوان پر بدلہ ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کا کھانا اور جن کوا س کی بھی استطاعت نہ ہو و ہ حصولِ استطاعت کا انتظار کریں اور اپنے رب سے انابت و استغفار کہ وہی قرآن کریم میں فرماتا ہے: ”لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا“ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیتا۔ “ (فتاوی رضویہ جلد 11، صفحہ 221، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد فراز عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR -0228
تاریخ اجراء: 07 رمضان المبارک 1447ھ/25 فروری 2026 ء