سفر میں روزہ توڑنے پر کفارہ لازم ہوتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سفر کے دوران روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں فلائٹ میں سفر تھا، اس دوران جب کھانا دیا گیا تو لے کر کھا لیا حالانکہ ابھی روزہ پورا ہونے میں کافی وقت تھا اس ڈر سے کہ بعد میں کھانا ہو سکتا ہے نہ ملے، ایسے معاملے میں کیا شرعی حکم ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ہوائی سفر کے دوران بغیر کسی شرعی عذر کے محض ایک بے جا خدشے کے باعث روزہ توڑا گیا جو کہ ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ شرعی سفر مطلقاً روزہ توڑنے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ صبح صادق کے وقت مسافر ہونے کی صورت میں صرف اس دن کا روزہ فی الحال چھوڑ کر بعد میں رکھ لینے کی رخصت دیتا ہے، لہٰذا جب تک شدید نقصان کا ظن غالب نہ ہو تب تک سفر میں بھی روزہ توڑنے کی اجازت نہیں۔ پس فرض ہے کہ اس گناہ سے توبہ کریں اور بعد میں اس روزے کی قضا رکھیں، البتہ کفارہ لازم نہیں۔
امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں:
و اعلم أن إباحة الفطر للمسافر إذا لم ينو الصوم فإذا نواه ليلا و أصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر أصبح صائما فلا يحل فطره في ذلك اليوم لكن لو أفطر فيه لا كفارة عليه لأن السبب المبيح من حيث الصورة و هو السفر قائم فأورث شبهة وبها تندفع الكفارة
ترجمہ: اور جان لو کہ مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی اباحت اس وقت ہے جب اس نے روزے کی نیت نہ کی ہو، پس اگر اس نے رات میں روزے کی نیت کی اور فجر سے پہلے اپنے ارادے کو ختم کیے بغیر صبح کر لی تو وہ روزہ دار ہو گیا، لہذا اس دن میں اس روزے کو توڑنا جائز نہیں، لیکن اگر اس نے اس دن میں روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ صورت کے اعتبار سے (روزہ چھوڑنے کو) مباح کرنے والا سبب یعنی سفر موجود ہے، پس یہ شبہ کا باعث ہوا اور شبہ سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے۔ (فتح القدیر، كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة، جلد 2، صفحہ 365، دار الفکر، بیروت)
فقیہِ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں:
و كذا لا يباح الفطر لو كان أول اليوم مقيما صائما ثم سافر لكنه إذا أفطر لا كفارة عليه لقيام المبيح
ترجمہ: اور اسی طرح اگر وہ دن کے شروع میں مقیم روزہ دار ہو پھر سفر کرے تو (اس کے لیے) روزہ توڑ دینا جائز نہیں، لیکن اگر وہ روزہ توڑ دے تو اس پر کفارہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ (ترکِ روزہ کو) مباح کرنے والا سبب پایا گیا۔ (حاشیة الشرنبلالی علی درر الحکام، کتاب الصوم، باب موجب الإفساد في الصوم،جلد 1، صفحہ 203، دار إحياء الكتب العربية)
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:
فلا يحل للمسافر الإفطار لأن السفر لا يبيح الفطر وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم لكن إذا أفطر لا كفارة عليه
ترجمہ: پس مسافر کے لیے روزہ توڑنا حلال نہیں؛ کیونکہ سفر افطار کر لینے کی اجازت نہیں دیتا، وہ تو صرف روزہ شروع نہ کرنے کو مباح کرتا ہے، لیکن جب مسافر روزہ توڑ ڈالے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، کتاب الصوم، فصل في العوارض، جلد 3، صفحہ 414، دار الکتب العلمیة ،بیروت)
علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ / 1983ء)لکھتے ہیں: جن دنوں کے روزے عمدا نہیں رکھے یا رکھے مگر رات میں نیت نہ کی بلکہ نصف النہار سے پہلے نیت کرنے کے بعد توڑ دئیے یا رات سے نیت کر کے رکھا مگر شرعی مسافر بننے کے بعد توڑ دیا... تو ان سب صورتوں میں کفارہ لازم نہیں، البتہ قضا ضروری ہے۔ (فتاوی نوریہ، جلد 2، صفحہ 207، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1123
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ / 09 مارچ 2026ء