مریض کا اپنے روزے دوسرے سے رکھوانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عشاء کے فرض ایک مسجد میں اور وتر دوسری مسجد میں پڑھ سکتے ہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری عمر تقریبا چالیس سال ہے، پچھلے دنوں شوگر کی وجہ سے میری ایک ٹانگ گھٹنے سے نیچے پاؤں تک کٹ چکی ہے اور اب مجھے دل کی بھی تکلیف ہے، ڈاکٹرز نے کہا ہےکہ آپ کے دل کاآپریشن ہوگا، کیونکہ آپ کادل صرف 30 فیصد کام کر رہا ہے، آپریشن کے لیے انہوں نے مجھے ٹائم بھی دے دیا ہے، لیکن تب تک مجھے جومیڈیسن دی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ آپ نہیں چھوڑسکتے، دن اوررات میں ہر چار گھنٹے کے بعد میڈیسن لینا ضروری ہے اور ضرورت پڑنے پر زیادہ مقدار بھی لینی پڑسکتی ہے، اب اس صورت میں، میں روزے تونہیں رکھ پارہا، تومجھے بتائیے کہ رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی وجہ سے میں گنہگار تو نہیں ہورہا ؟ اور کیا اب میں اپنی جگہ کسی اور کو روزہ رکھوادوں یا فدیہ ادا کردوں، تو بری الذمہ ہوجاؤں گا؟مجھے کسی نے کہا ہے کہ آپ اپنے روزے کے بدلے کسی اور کوروزہ رکھوادیں، توآپ کے روزے بھی ہوجائیں گے، کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی ایسا ہی ہے کہ دن اور رات میں ہر چار گھنٹے بعد میڈیسن کھانا ضرور ی ہے اور روزہ رکھنے کے سبب آپ میڈیسن نہیں کھائیں گے، تو جان کو نقصان پہنچنے، مرض بڑھ جانے یا ناقابل ِ برداشت مشقت میں پڑ جانے کا صحیح اندیشہ ہے (جیسا کہ صورت حال سے واضح ہو رہا ہے)، تو آپ کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، اور روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے آپ گنہگاربھی نہیں ہوں گے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے روزہ رکھنے کے سبب جان کو نقصان پہنچنے یا مرض بڑھ جانے یا ناقابل ِ برداشت مشقت میں پڑ جانے کا ظنِ غالب اورصحیح اندیشہ ہونے پرروزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔
یاد رہے! بیماری یا ہلاکت، وغیرہ کا محض خیال کافی نہیں ہے، بلکہ ظنِ غالب کاحصول ضروی ہے اور ظنِ غالب تین طریقوں سے حاصل ہو سکتا ہے: اس کی کوئی واضح علامت پائی جائے یا پہلے سے ذاتی تجربہ ہو یا اپنے شعبہ کا ایسا ماہر ڈاکٹر بتائے جو بلا وجہ کوئی ایسا علاج تجویز نہ کرتا ہو کہ جس کے باعث ایک مسلمان کو کسی عبادت کا ترک یا ابطال یا حرام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہو۔
اور جہاں تک کسی اَور کو روزے رکھوانے یا فدیہ دینے کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق جواب یہ ہے کہ کسی کو اچھی نیت کے ساتھ سحری و افطاری کروانا، اگرچہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، لیکن اپنے بدلے کسی دوسرے فرد کو روزے نہیں رکھوائے جاسکتے، کیونکہ احادیث میں ایک شخص کو دوسرے شخص کی طرف سے روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے اور مزید یہ بھی کہ روزہ بدنی عبادت ہے اور بدنی عبادت ایک فرد کے کرنے سے دوسرے کے ذمہ سے معاف نہیں ہوتی، جیسے نماز خالص بدنی عبادت ہے، لیکن کسی کو اپنی نماز پڑھنے کا نائب بنانا، شرعاً جائز نہیں۔ نیز آپ پراس کا فدیہ، وغیرہ بھی لازم نہیں، بلکہ جب صحت بحال ہو جائے اور روزہ رکھنے کی طاقت و قدرت مل جائے، تو ممنوع ایام (عید الفطر، عید الاضحیٰ کا دن اور ایام تشریق) کے علاوہ اَور دنوں میں ان کو رکھنا ہی ضروری ہے، کیونکہ فدیے کا حکم صرف شیخِ فانی کے لیے ہے، ہر ایک کے لیے نہیں۔
شیخ فانی سے مراد وہ شخص ہےکہ جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ اس میں حقیقتاً روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، نہ سردی میں، نہ گرمی میں، نہ مسلسل اور نہ ہی متفرق طور پر اور آئندہ بھی کمزوری بڑھنے کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت ہونے کی امید نہ ہو۔ ہاں البتہ اگر قبلِ شفا موت کا وقت قریب آجائے، تو اس وقت کفارہ کی وصیت کردیں۔
جس کا مرض حقیقتاً روزہ رکھنے سے مانع ہو، ایسے مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ)
ترجمہ کنز العرفان: تو تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو، تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔ (القرآن الکریم، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، الآیۃ 184)
امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”(فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا)يخاف من الصوم زيادة المرض۔۔۔ (فَعِدَّةٌ)فعليه عدة أي: فأفطر فعليه صيام عدد أيام فطره۔۔۔أي: أمر أن يصوم أياماً معدودة مكانها {مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} سوى أيام مرضه“
ترجمہ: (تم میں جو کوئی بیمار ہو) اور روزہ رکھنے سے مرض بڑھنے کا (صحیح )اندیشہ ہو، تو وہ روزہ نہ رکھے اور اس کے لیے حکم یہ ہے کہ بیماری کے دنوں کے بدلے اَور دِنوں میں اتنے روزے رکھے۔ (ملخصاً وملتقطاً از تفسیر نسفی، ج 1، ص 158، مطبوعہ دارالکلم الطیب، بیروت)
علامہ مَجْدُالدین مُوْصَلی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”(ومن خاف المرض أو زيادته أفطر)لقوله تعالى: (فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر)“
ترجمہ: اور (جسے روزہ رکھنے سے) بیمار ہونے یا مرض بڑھ جانے کا خوف ہو، تو وہ اس حکم قرآنی(فمن كان منكم مريضا۔۔۔الخ)پر عمل کرتے ہوئے روزہ نہ رکھے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 1، ص 134، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ مرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”ومن كان مريضا في رمضان فخاف إن صام ازداد مرضه أفطر وقضى“
ترجمہ: اور جو شخص رمضان میں مریض ہوا، پس اسے اس بات کا ڈر ہے کہ روزہ رکھے گا، تو اس کا مرض بڑھ جائے گا، تو یہ روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کرے۔ (الھدایہ، ج 01، ص 123، مطبوعہ دار احياء التراث العربي، بيروت)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ’’مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو یا خادم و خادمہ کو ناقابل برداشت ضعف کا غالب گمان ہو، تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 1003، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اور مرض بڑھنے کا صرف وہم کافی نہیں، بلکہ ظن غالب ہوناضروری ہے، علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”(مريض خاف الزيادة)لمرضه، وصحيح خاف المرض وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب حاذق مسلم مستور“
ترجمہ: مریض کو مرض بڑھنے، تندرست کو بیمار ہونے اور خادمہ کو (حدسے زیادہ) کمزور ہونے کا خوف ہو اور یہ خوف (محض وہم سے نہ ہو، بلکہ) کسی واضح علامت، سابقہ ذاتی تجربہ سےیا کسی مسلمان، ماہر، غیر فاسق ڈاکٹر کے بتانے سے بطور غالب گمان ہو۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، ج3، ص464، مطبوعہ کوئٹہ)
کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنے کی ممانعت کے متعلق مؤطا امام مالک میں ہے:
”أن عبد اللہ بن عمر كان يسأل هل يصوم أحد عن أحد أو يصلي أحد عن أحد؟ فيقول: لا يصوم أحد عن أحد ولا يصلي أحد عن أحد“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال ہوا کہ کیا ایک شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے یا کسی دوسرے کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ تو آپ رضی تعالیٰ اللہ عنہما نے فرمایا: کوئی شخص نہ کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ ہی اس کی طرف سے نماز پڑھے۔ (موطا امام مالک، ج 01، ص 303، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
بیماری کی وجہ سے روزے چھوڑنے کی صورت میں دوسرے کو روزے نہیں رکھو ا سکتے، علامہ ابو الحسن برہان الدین علی بن ابو بکر مَرْغِینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”ولا يصوم عنه الولي ولا يصلي، لقوله صلى اللہ عليه وسلم لا يصوم احد عن أحد ولا يصلي أحد عن أحد“
یعنی (جو شخص روزہ نہ رکھ سکے) اس کی طرف سے ولی نہ روزہ رکھے اور نہ ہی نماز پڑھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ایک شخص دوسرے کی طرف سے نہ روزہ رکھےاورنہ اس کی طرف سے نماز پڑھے۔ (الھدایہ، ج 01، ص 125، مطبوعہ دار احياء التراث العربي، بيروت)
بدنی عبادت میں نیابت کی ممانعت کے متعلق شمس الآئمہ، امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”ثم الصوم عبادة لاتجزی النیابة فی أدائھا فی حالة الحیاة فکذلک بعد الموت کالصلاة“
ترجمہ: پھر روزہ ایسی عبادت ہے، جس کی ادائیگی میں نیابت کافی نہیں، نہ تو زندگی میں اور نہ ہی موت کے بعد، جیساکہ نماز۔ (المبسوط للسرخسی، ج 03، ص 89، مطبوعہ دارالمعرفة، بیروت)
علامہ زَیْلَعی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”لاتجزي النيابة في العبادة البدنية بحال من الأحوال“
ترجمہ: عباداتِ بدنیہ میں، کسی بھی حال میں کسی دوسرے شخص کو نائب بنانا کافی نہیں۔ (تبیین الحقائق، ج 02، ص 85، مطبوعہ المطبعة الكبرى الأميرية، القاهرة)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
”أن العبادات البدنية الخالصة كالصلاة والصيام لا تجري النيابة في أدائها، ولا يجوز التوكيل فيها“
ترجمہ: خالص عباداتِ بدنیہ جیسا کہ نماز، روزہ ان کی ادائیگی میں کسی کو نائب بنانا کافی نہیں اور نہ ہی ان میں کسی کو وکیل بنانا درست ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیہ الکویتیۃ، ج 07، ص 364، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بيروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”جو ایسا مریض ہے کہ روزہ نہیں رکھ سکتا، روزہ سے اُسے ضرر ہوگا، مرض بڑھے گا یا دن کھینچیں گے اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیبِ حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہو، تو جتنے دنوں یہ حالت رہے، اگر چہ پُورا مہینہ، وہ روزہ ناغہ کرسکتا ہے اور بعدِ صحت اس کی قضا رکھے، جتنے روزے چُھوٹے ہوں ایک سے تیس تک۔ اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل وبے معنی ہے، بدنی عبادت ایک کے کئے دوسرے پر سے نہیں اُتر سکتی، نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج10، ص520، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اور فدیہ صرف وہی ادا کرسکتا ہےجو شیخ فانی ہو، چنانچہ روزے کافدیہ اداکرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ)
ترجمہ کنز العرفان: اورجنہیں اس کی طاقت نہ ہو، اُن پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، الآیۃ 184)
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لیے جائز ہے، جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہرگز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے، جو بہ سببِ پیرانہ سالی ( یعنی بڑھاپے کی وجہ سے ) حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امیدکہ عمر جتنی بڑھے گی، ضعف بڑھے گا، اس کے لیے فدیہ کا حکم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 521 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ”جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے، انہیں بھی کفار ہ دینے کی اجازت نہیں، بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں، اگر قبلِ شفا موت آجائے، تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں، غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں، نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو، اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو، جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اسے ایسا ضعیف کردیا کہ روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا، تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج10، ص547، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اصل حکم تو یہی ہےکہ ڈاکٹر مسلمان، غیر فاسق ہو، لیکن فی زمانہ حرج کی وجہ سے فاسق ڈاکٹر سے علاج کروانے كی اجازت ہے، جیسا کہ مجلس شرعی کے جید مفتیانِ کرام کا فیصلہ ہے: ”یوں ہی رمضان کے روزے میں کسی مریض کو طبیب دوا کھانے کو کہے اور یہ بتائے کہ تم نے اگر دن میں یہ دوا فوراً نہیں کھائی تو جان کا خطرہ یا مرض بڑھنے کا اندیشہ ہے، ان حالتوں میں علاج کا تعلق براہِ راست یا بالواسطہ عبادت اور دینی عمل سے ہو جاتا ہے۔ مریض کے لیے ان صورتوں میں طبیب کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ طبیب کا مسلم اور صاحبِ تقوی یا بہ ظاہر دین دار ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس وقت بشمول ہندوستان دنیا کے بیش تر ممالک کا حال یہ ہے کہ ان شرائط واوصاف کے حامل اطبا عموماً دست یاب نہیں ہوتے، مجبوراً مسلمان ہر طرح کے ڈاکٹروں سے ہر قسم کا علاج کراتے ہیں اور ان کی طبی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔۔۔۔خاص حالات یعنی جب طبیب دوران علاج کوئی ایسی ہدایت کرے جس کا تعلق براہِ راست دیانات سے ہو، یعنی اس سے کسی عبادت کا ترک یا ابطال یا حرام کا ارتکاب یا نجاست سے آلودگی واقع ہو، تو اصل حکم یہ ہے کہ معالج (۱) حاذق ہو (۲) مسلمان ہو (۳) صاحب تقوی، یا ظاہراً دین دار ہو۔ لیکن دین دار طبیب کی سخت کم یابی اور حرجِ شدید کی وجہ سے اب فاسق اور کافر طبیب سے علاج کی اجازت ہے، بشرطیکہ تحری کے بعد مریض کا دل اس بات پر جمے کہ یہ طبیب خواہ مخواہ کوئی ایسا علاج تجویز نہیں کرتا، جس کے باعث ایک مسلمان کو کسی حرام کا ارتکاب کرنا پڑے اور جب فاسق، حاذق مسلم، طبیب ملے، تو غیر مسلم کے علاج سے پر ہیز کرے۔“ (مجلس شرعی کے فیصلے، ج 2، ص 294 - 295، مطبوعہ ھند)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان عرفان احمد مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9833
تاریخ اجراء: 12 رمضان المبارک 1447ھ/02 مارچ 2026ء