logo logo
AI Search

شوگر بڑھنے پر روزہ توڑنے کا کفارہ ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوگر بڑھ جانے کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو کفارے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شوگر ہائی ہو جانے کی وجہ سے اگر روزہ توڑ دیا تو کیا کفارہ ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جبکہ شوگر اس قدر بڑھ گئی کہ غروب آفتاب تک روزہ برقرار رکھنے کی صورت میں شدید نقصان مثلاً ہلاک ہونے یا کسی عضو کے تلف ہونے یا مرض کے بڑھ جانے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا ظن غالب تھا تو روزہ توڑ کر فوری علاج کرنے کی شرعاً اجازت تھی اور اس کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں، البتہ بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ روزہ توڑنا، جائز ہونے کے لیے نقصان کا محض وہم یا خیال کافی نہیں بلکہ غالب گمان ضروری ہے اور وہ کسی علامت یا ذاتی تجربے یا کسی ماہر ڈاکٹر کے بتانے سے حاصل ہوتا ہے جبکہ اس کی بات پر دل جمے کہ اس کی تجویز خواہ مخواہ نہیں بلکہ طبی قاعدے و فائدے کی رو سے ہے۔ پس اگر ایسے غالب گمان کے بغیر روزہ توڑا تو ضرور گنہگار ہوا اور اس روزے کی قضا اور کئی صورتوں میں کفارہ ادا کرنا بھی لازم ہوگا۔

علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1174ھ / 1761ء) لکھتے ہیں:

من صام رمضان وخاف زيادة المرض أو تأخير برئه له أن يفطر ويقضي لقوله تعالى:﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ﴾ فإنه أباح الفطر لكل مريض لكنا نقطع بأن شرعية الفطر فيه إنما هو لدفع الحرج وتحقق الحرج منوط بخوف الهلاك أو فوات العضو أو زيادة المرض أو إبطاء البرء… ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض و الاجتهاد غير مجرد الوهم بل هوغلبة الظن عن إمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق

ترجمہ: جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اسے مرض کے بڑھ جانے یا اس کے ٹھیک ہونے میں تاخیر کا خوف ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ افطار کر لے اور (بعد میں اس روزے کی) قضا رکھے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تو تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے کیونکہ (اس آیت میں) ہر مریض کے لیے افطار کی اجازت دی ہے، لیکن ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ مرض میں روزہ افطار کر لینے کا جواز محض حرج کو دور کرنے کے لیے ہے، اور حرج کا تحقق ہلاک ہونے یا عضو کے ضائع ہونے یا بیماری کے بڑھ جانے یا شفا یابی میں دیر لگنے کے خوف کے ساتھ وابستہ ہے۔ پھر اس کی معرفت مریض کے اجتہاد سے ہوتی ہے اور اجتہاد محض وہم کا نام نہیں، بلکہ وہ غالب گمان ہے جو کسی علامت یا تجربے یا کسی ایسے مسلمان طبیب کے بتانے سے ہوتا ہے جو ظاہراً فاسق نہ ہو۔ (مظهر الأنوار، فصل في العوارض المبيحة للإفطار في صوم رمضان وغيره، صفحہ 400 - 401، دار النعيمي، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جو رمضان کا روزہ رکھے ہوئے تھا اور سینے کے درد، دست اور بار بار قے کی وجہ سے اس کی حالت بہت بگڑ گئی، چنانچہ مرض بڑھنے کے خوف سے دوا پلا کر اس کا روزہ تڑوا دیا گیا، آیا اس صورت میں کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: اس صورت میں نہ ساٹھ روزے ہیں نہ ساٹھ مسکین غرض کفارہ نہیں، صرف اس روزہ کی جو توڑا اور ان روزوں کی جو نہ رکھے قضا ہے، ہر روزہ کے بدلے ایک روزہ و بس۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 517، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو... تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔ ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے محض وہم ناکافی ہے۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں: (۱) اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا (۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا (۳) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو، اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا ،بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1003 - 1004، مکتبة المدینہ، کراچی)

مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: اصل حکم یہ ہے کہ معالج حاذق ہو، مسلمان ہو، صاحب تقوی یا ظاہراً دین دار ہو، لیکن دین دار طبیب کی سخت کم یابی اور حرج شدید کی وجہ سے اب فاسق اور کافر طبیب سے علاج کی اجازت ہے بشرطیکہ تحری کے بعد مریض کا دل اس بات پر جمے کہ یہ طبیب خواہ مخواہ کوئی ایسا علاج تجویز نہیں کرتا جس کے باعث ایک مسلمان کو کسی حرام کا ارتکاب کرنا پڑے۔... بہ صورت مذکورہ (طبیب کی ہدایت اور اس کے اوپر اپنی تحری اور غالب گمان پر عمل کرتے ہوئے) ترک عبادات کے باعث وہ گنہگار نہ ہو گا، اور اگر روزہ توڑا ہے تو روزہ توڑنے کا کفارہ اس پر لازم نہ ہوگا، مگر قضا ضرور فرض ہوگی۔ اسی طرح اگر نماز فرض یا واجب ترک ہوئی ہے تو اس کی بھی قضا فرض یا واجب ہوگی۔ (مجلس شرعی کے فیصلے، جلد 1، صفحہ 317 - 318، الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: کسی نے بلا عذر شرعی رمضان المبارک کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی تھی بالقصد کسی غذا یا دوا یا نفع رساں شے سے توڑ ڈالا اور شام تک کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہوا جس کے باعث شرعاً آج روزہ رکھنا ضرور نہ ہوتا تو اس جرم کے جرمانہ میں ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 519، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: کفارہ صرف ادا روزہ رمضان کے توڑنے میں ہے، جبکہ یہ نہ صاحب عذر تھا نہ اس دن میں کوئی آسمانی عذر مثل حیض یا مرض پیدا ہو جائے، نہ ہی توڑنا کسی کے جبر و اکراہ سے ہو اور روزے کی نیت رات سے کی ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 595، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1120
تاریخ اجراء: 13 رمضان المبارک 1447ھ / 3 مارچ 2026ء