logo logo
AI Search

کیا عورت کو عمرہ کے بعد غسل کرنا اور احرام دھونا ضروری؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کے لیے عمرہ کے بعدغسل کرنا اور احرام دھونا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عمرہ کرنے کے بعد عورت کے لیے غسل کرنا ضروری ہوتا ہے یا نہیں، اورایک احرام سے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرے عمرے کے لیے اس احرام کا دھونا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

عمرہ اپنے افعال یعنی طواف وسعی کے بعد حلق یا تقصیر سے ہی مکمل ہوجاتا ہے، اس کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں، ہاں نظافت کے لیے کرلینا اچھا ہے۔ عمرے کے بعد احرام کو دھوئے بغیر دوسرے عمرے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، لیکن دھولینا مستحب ہے۔

عمرہ طواف و سعی سے فارغ ہوکر حلق یا تقصیر سے ہی مکمل ہوجاتا ہے، چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے:

فإذا فرغ من السعی يحلق أو يقصر و الحلق أفضل و قد تمت العمرة و حل له جميع المحظورات الثابتة بالإحرام

ترجمہ: جب عمرہ کرنے والا (طواف اور) سعی سے فارغ ہوگیا، تو حلق کرے یا تقصیر کرے اور (مرد کے لیے) حلق افضل ہے اور عمرہ مکمل ہوگیا اور اس کے لیے تمام ممنوع کام جو احرام کی وجہ سے ثابت ہوئے، تو وہ سب جائز ہوجائیں گے۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، باب الاحرام، صفحہ 403، دار الكتب العلمية، بيروت)

اگر احرام کی چادریں نئی نہ ہوں، تو اسے دھو کر پہننا مستحب ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:

(يستحب) لمريد الإحرام (لبس إزار و رداء جديدين أو غسيلين طاهرين)

ترجمہ: اور احرام (مُحرم ہونے) کا ارادہ رکھنے والے کے لیے دو نئے یا دُھلے ہوئے پاک تہہ بند اور چادر کا پہننا مستحب ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں بحر الرائق کے حوالے سے ہے:

و فی عدم غسل العتيق ترك المستحب بحر

ترجمہ: اور پرانے احرام کو نہ دھونے میں مستحب کا ترک ہے۔ (تنویر الابصار مع درمختار و رد المحتار، جلد 3، صفحہ 558، 559، دار المعرفہ، بیروت)

لباب المناسک اوراس کی شرح میں ہے:

(مستحباتہ۔۔۔ لبس ثوبین جدیدین أو غسیلین) تبعیدا عن النجاسۃ و تنزیھا عن الوساخۃ فیفید ان اصل لبس الازار و الرداء سنۃ و بقیۃ الاوصاف مستحبۃ

ترجمہ: احرام کے مستحبات تو وہ دو نئے یا دھلے ہوئے کپڑوں کا پہننا ہے، اس کے نجاست سے دور ہونے اور میل کچیل سے بچے ہونے کی وجہ سے، تو یہ بات فائدہ دیتی ہے کہ اصل ازار اور چادر کا پہننا سنت ہے اور بقیہ اوصاف مستحب ہیں۔ (لباب المناسک مع شرحہ، صفحہ 102، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-598
تاریخ اجراء: 30 جمادی الاولی 1446ھ / 03 دسمبر 2024ء