منیٰ جانے سے پہلے حج کے احرام کی نیت کرنا ضروری؟
منیٰ پہنچ کر حج کے احرام کی نیت کر نا
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-3450
تاریخ اجراء: 03رجب المرجب 1446ھ/04جنوری2025ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حج کیلئے جانے والے لوگوں کو منیٰ کیلئے نکلتے وقت احرام کی نیت کرنا ضروری ہے یا اگر وہ منیٰ پہنچ کر منیٰ میں ہی حج کے احرام کی نیت کر لیں تو یہ بھی درست ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جو لوگ حرم کی حدود کے اندرکے رہائشی ہیں یا رہائشی تو حل (میقات کے اندر، حدود حرم سے پہلے کسی مقام) کے ہیں لیکن اپنے کسی کام کی وجہ سے حدود حرم میں گئے اور پھر وہاں سے حج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا میقات کے باہر کے رہنے والے ہیں اور وہ صرف عمرہ کے ارادے سے حرم جانا چاہتے تھے، اس لیے یہ عمرہ کا احرام باندھ کر حرم میں آئے اورعمرہ کر کے احرام کھول دیا، اب وہ حج کا احرام باندھنا چاہتے ہیں (جیسے حج تمتع کرنے والا کرتا ہے) ، تو ان تمام لوگوں کے لیے افضل یہ ہے کہ حج کا احرام باندھ کر منی جائیں، لیکن اگر منی میں پہنچ کر حج کا احرام باندھا تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ ان لوگوں کے حج کا احرام باندھنے کی جگہ پورا حرم ہے اورمنی بھی حرم کا ہی حصہ ہے۔
اوراگر میقات کے باہرکا رہنے والا شخص میقات سے گزرتے وقت صرف حج کا ارادہ رکھتا ہے یا حج وعمرہ دونوں اکٹھے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے (جسے حج قران کہتے ہیں) تو ایسی صورت میں وہ میقات سے گزرنے سے پہلے پہلےصرف حج کا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھے گا، منی جا کر نہیں باندھے گا۔ اسی طرح میقات کے اندر اور حرم سے پہلے (یعنی حل میں) رہنے والا شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ حرم میں داخل ہونے سے پہلے پہلے حج کا احرام باندھے گا، منی جا کر حج کا احرام نہیں باندھے گا۔
نیز میقات کے باہر کا رہنے والا اگر حل میں ( یعنی میقات کے اندر، حرم سے پہلے پہلے) کسی مقام پر اپنے کسی کام سے جانا چاہتا ہے تو وہ بغیر احرام کے جا سکتا ہے، اب وہ حلی کے حکم میں ہو گیا ہے، اب اگر وہاں سے وہ حج کا ارادہ کرتا ہے تو حرم سے پہلے پہلے حج کا احرام باندھنا ضروری ہے، لہذا وہ منی پہنچ کر حج کا احرام نہیں باندھے گا۔ اور اگریہ شخص حل میں کسی کام سے گیا پھر وہاں سے حرم میں اپنے کسی کام سےجانا چاہتا ہے، حج یا عمرہ کے ارادے سے نہیں جانا چاہتا تو یہ بھی بغیر احرام کے حرم جا سکتا ہے، اب وہاں جا کر یہ بھی حرم کے رہائشی کے حکم میں ہو جائے گا، لہذا اگر اس کا وہاں سے حج کرنے کا ارادہ ہو تو اب اس کے احرام کی جگہ بھی پورا حرم ہوگا، تو اس کے لیے بھی سنت یہی ہے کہ حج کا احرام باندھ کر منی جائے لیکن اگر منی جا کر حج کا احرام باندھا تو بھی احرام درست ہو جائے گا۔
اہل حل کیلئے حل سے اور اہل حرم کیلئے حرم سے حج کا احرام باندھنا واجب ہے، چنانچہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے:’’(وھم اللذین منازلھم فی نفس المیقات أو داخل المیقات الی الحرم،فوقتھم الحل للحج والعمرۃ)۔۔۔(وھم من کان منزلہ فی الحرم)کسکان مکۃ ومنی(فوقتہ الحرم للحج ) ومن المسجد افضل۔۔۔ (وکذلک) أی مثل حکم اھل الحرم(کل من دخل الحرم من غیر اھلہ وان لم ینو الاقامۃ بہ، کالمفرد بالعمرۃ والمتمتع)أی من اھل الآفاق‘‘ ترجمہ:اور وہ لوگ کہ جن کے گھر میقات یا میقات کے اندر حرم سے پہلے (حل میں) ہیں تو ان کیلئے حج و عمرے کے احرام کی جگہ حل ہے اور جس کا گھر حرم میں ہو جیسے مکہ اور منی کےرہائشی،تو ان کیلئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے اور مسجد الحرام سے احرام باندھنا افضل ہے،اسی طرح وہ لوگ جو مکہ میں رہتے نہیں اور وہ حرم میں داخل ہوجائیں، تو وہ بھی حج کے احرام میں مکہ والوں کے حکم میں ہیں، اگرچہ انہوں نے مکہ میں اقامت کی نیت نہ کی ہو جیسے صرف عمرہ کرنے والے اور میقات کے باہر سے حج تمتع کیلئے آنے والے۔ (لباب المناسک مع شرحہ،با ب المواقیت،ص 116،117،مطبوعہ سعودیہ)
میقات کے باہر سے آنے والا حاجی اگر حج قران یا افراد کی نیت سے آئے تو اس کے لئے حج کے احرام کی جگہ میقات ہے ،چنانچہ لباب المناسک میں ہے:’’(وحکمھا وجوب الاحرام منھا لاحد النسکین وتحریم تاخیرہ عنھا لمن اراد دخول مکۃ أو الحرم وان کان لقصد التجارۃأو غیرھا۔۔۔ ووجوب احد النسکین) ‘‘ترجمہ:میقات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص مکہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے اگرچہ اس کا وہاں جانا تجارت یا کسی اور وجہ کیلئے ہو،اُس کیلئےعمرہ یا حج میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا واجب ہے اور (جان بوجھ کر)احرام کو میقات سے مؤخر کرنا حرام ہے۔اور(میقات کے حکم میں سے یہ بھی ہے کہ اس پر) حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی واجب ہے۔(لباب المناسک مع شرحہ،باب المواقیت،ص 113،مطبوعہ سعودیہ)
بہار شریعت میں ہے"مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندرکسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں پھر وہاں سے اگر مکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیر احرام جاسکتا ہے۔۔۔جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں مگر حرم سے باہر ہیں اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرون حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں اور یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔"(بہار شریعت،ج 1،حصہ 6،ص 1068،مکتبۃ المدینہ)
واجبات حج کےمتعلق کتاب بنام’’27 واجبات حج اور تفصیلی احکام ‘‘میں ہے:’’میقات کے باہر سے حجِ افراد اور حجِ قران کے لئے آنے والا میقات یا اس سے پہلے ہی حج کا احرام باندھ کر آئے گا اور اسی احرام کے ساتھ عَرَفات جائے گا۔ حجِ افراد والے نے صرف حج کا اِحْرام باندھا ہوتا ہے جبکہ قران والے نے حج اور عمرہ دونوں کے اِحْرام کی نیت کی ہوتی ہے ۔۔۔جو آفاقی مکۂ مکرمہ آکر عمرہ کر کے احرام کھول کر مکہ شریف ہی میں موجود ہے یعنی حجِ تمتع کرنے والا ہی ایسا کرے گا اس کے لئے حج کا احرام خطۂ حرم سے باندھنا ضروری ہے یہی حکم ان تمام لوگوں کے لئے ہے جو مکہ مکرمہ میں حرم کے خطہ میں آباد ہیں کہ وہ حج کا احرام خطۂ حرم سے ہی باندھیں گے ۔۔۔اہلِ مکہ یعنی حدودِ حرم میں رہنے والے اور اہلِ حِلّ یعنی حرم سے باہر اور میقات کے اندر رہنے والے صرف حجِ افراد کریں گے تو یہ دونوں حج کا اِحْرام اپنی اپنی جگہ سے باندھیں گے، یعنی اہلِ مکہ خطۂ حرم میں کسی جگہ سے اور اہلِ حِل،حِل میں کسی بھی جگہ سے باندھیں گے اور ان کے لئے یہ عمل کرنا واجب ہے۔یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اہلِ حل حرم سے احرام باندھیں اور حرم میں رہنے والے حل میں جا کر احرام باندھیں۔ (27 واجبات حج اور تفصیلی احکام،صفحہ 48،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
حرم میں مکہ مکرمہ کی آبادی سے احرام باندھنا،حرم کی دوسری جگہوں میں احرام باندھنے سے افضل ہے،چنانچہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:’’(والافضل أن یحرم من المسجد ویجوز من جمیع الحرم ومن مکۃ افضل من خارجھا)أی بالنبسۃ الی سائر الحرم‘‘ترجمہ:اور افضل یہ ہے کہ مسجد حرام سے احرام باندھے اور پورے حرم (میں سے کسی بھی جگہ ) سےاحرام باندھنا جائز ہے اور مکہ مکرمہ سے احرام باندھنا ،مکہ مکرمہ سے خارج حرم کی کسی جگہ سے احرام باندھنے سے افضل ہے۔(لباب المناسک مع شرحہ،باب التمتع،صفحہ408،مطبوعہ سعودیہ )
فتاوی حج و عمرہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:’’جو لوگ(یعنی مکی اور جو مکی کے حکم میں ہیں ) منی میں جاکر احرام باندھتے ہیں ان کا احرام بھی درست ہوجائے گا کیونکہ منی بھی حرم میں ہے اور پورے حرم میں احرام باندھنا جائز ہے۔۔۔مگر حرم کے اس حصے سے احرام باندھنا جس پر مکہ شہر کی آبادی ہے،دوسری جگہ سے احرام باندھنے سے افضل ہے۔“(فتاوی حج و عمرہ،حصہ21،صفحہ25،جمعیت اشاعت اہلسنت،پاکستان)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم