logo logo
AI Search

قیامت اچانک کیسے آئے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سورج کے مغرب سے نکلنے کے 120 سال بعد قیامت آئے گی، تو یہ اچانک آنا کیسے ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے سنا ہے کہ قیامت اچانک آئے گی، لیکن مغرب سے سورج نکلنے کے بعد لوگ 120 سال گزاریں گے، اس کے بعد قیامت آئے گی، تو یہ اچانک آنا کیسے ہوا نیز اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوچکا ہوگا؟

جواب

حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کا نزول پہلے ہوگا جبکہ سورج کا مغرب سے نکلنا بعد میں ہوگا۔

باقی رہا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ سورج مغرب سے نکلنے کے بعد لوگ 120 سال گزاریں گے تو ان روایات میں اختلاف ہے، بعض روایتوں میں اس سے کم اور بعض میں اس سے زیادہ مدت کا بیان ہے اور پھر ان روایات کی مختلف تاویلات ہیں، تاہم بوقتِ قیامت دنیا میں صرف کفار ہوں گے اور انہیں قیامت کا کوئی خیال نہیں ہوگا بلکہ وہ تو قیامت کے مُنکر ہوں گے، دنیا کی زیب و زینت اور تعمیرات اور عیش و عشرت میں مبتلا ہوں گے کوئی کھانا کھا رہا ہوگا تو کوئی خرید و فروخت کر رہا ہوگا، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ اچانک صُور پھونک دیا جائے گا اور قیامت آجائے گی، لہٰذا یہ اچانک آنا ہی ہے۔

تفصیل کیلئے مفتی فیض احمد اویسی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب قیامت کی نشانیاں کا مطالعہ کیجئے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2480
تاریخ اجراء: 26 ربیع الآخر 1447ھ / 20 اکتوبر 2025ء