
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-3772
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1446 ھ/24 اپریل 2025 ء
دار الافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے مرنے کے بعد 3 قرآن پاک پڑھ کر ایصال ثواب کروں گا، پھر ان کے مرنے سے پہلے کہہ دیا کہ ایصال ثواب نہیں کروں گا، تو ایسا کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وعدہ پورا کرنا عمدہ اسلامی اخلاق میں سے ہے اور وعدے کو بلا وجہ پورا نہ کرنا مکروہ تنزیہی اور خلاف مروت فعل ہے، البتہ وعدہ کر لینے سے وہ کام لازم نہیں ہو جاتا اس لیے وعدہ کرنے والے کو اس پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یوں ہی اگر وعدہ کرتے وقت سچے دل سے کیا تھا یعنی اسے پورا کرنے کی نیت تھی بعد میں نیت بدل گئی تو یہ شرعاً وعدہ خلافی نہ کہلائے گی، لہذا اس پر گناہ نہیں؛ کیونکہ وعدہ خلافی اسے کہتے ہیں کہ وعدہ کرتے وقت ہی اُسے پورا نہ کرنے کی نیت ہو اور یہ بلا ضرورتِ شرعی حرام اور سخت گناہ ہے البتہ اگر پہلے وعدہ کیا لیکن بعد میں دوسرے شخص کو اطلاع دے کر راضی کرلیا کہ میں ایسا نہیں کرسکوں گا تو اب وعدہ باقی نہ رہا۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)
صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن نسائی، مسند احمد، مسند بزار، صحیح ابن حبان وغیرہ کی حدیث پاک ہے:
”عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، و إذا وعد أخلف، و إذا اؤتمن خان“
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح البخاری، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، جلد 1، صفحہ 16، حدیث 33، دار طوق النجاۃ)
سنن ابی داؤد، سنن الکبری للبیہقی، المعجم الکبیر للطبرانی، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں حدیث پاک ہے:
”عن النبي صلى الله عليه و سلم، قال: إذا وعد الرجل أخاه، و من نيته أن يفي له فلم يف و لم يجئ للميعاد فلا إثم عليه“
ترجمہ: نبی مکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر سکے اور مقررہ وقت پر نہ آ سکے تو اس پر گناہ نہیں۔ (سنن أبي داود، كتاب الأدب ، باب في العدة، جلد 4، صفحہ 299، حدیث 4995، المكتبة العصرية بيروت)
شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1052 ھ/ 1642 ء) لکھتے ہیں:
”ان الوفاء بالوعد ليس بواجب شرعي، بل هو من مكارم الأخلاق بعد أن كانت نيته الوفاء، و أما جعل الخلف في الوعد من علامات النفاق كما مر في أول الكتاب، فمعناه الوعد على نية الخلف“
ترجمہ: وعدہ پورا کرنا واجب شرعی نہیں ہے، بلکہ یہ عمدہ اخلاق میں سے ہے جبکہ (وعدہ کرتے وقت) اس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی ہو۔ بہر حال وعدہ خلافی کو نفاق کی علامات میں سے شمار کرنا، جیسا کہ کتاب کے شروع میں گزرا، تو اس کا مطلب پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، باب الوعد، جلد 8، صفحہ 180- 181، دار النوادر دمشق)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1340 ھ/ 1921 ء) فرماتے ہیں: ”خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں: اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے تو بے ضرورتِ شرعی وحالتِ مجبوری سخت گناہ و حرام ہے، ایسے ہی خلافِ وعدہ کو حدیث میں علاماتِ نفاق سے شمار کیا... اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول و سبب معقول پیدا ہوا تو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنی کراہت بھی نہیں، جبکہ اس عذر و مصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی و فضیلت پر ترجیح ہو... اور اگر کوئی عذر و مصلحت نہیں بلا وجہ (وعدہ پورا نہ کیا جیسے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے) نسبت چھڑائی جاتی ہے تو یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے... یہ بات اس تقدیر پر بے جا و خلافِ مروت ہے مگر حرام و گناہ نہیں، حضور پرنور سیدالعالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں:
”لیس الخلف ان یعد الرجل و من نیتہ ان یفی و لکن الخلف ان یعدالرجل و من نیتہ ان لایفی رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی ﷲتعالی عنہ بسند حسن“
(یعنی وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی ہو، بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے حالانکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس روایت کو امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے) اس صورت میں یہ کراہت جب ہی دفع ہوگی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی وہ بخوشی اجازت دے دیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 281 - 283، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم