ضروری علم نہ سیکھنے والا مردود الشہادۃ قرار پاتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کتنا علم سیکھنا فرض ہے اور اس کے لیے کس حد تک کوشش کرنا ضروری ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(1) جتنا علم سیکھنا ہر ہر مسلمان، عاقل بالغ پر فرض ہے یا کسی فرد کا اپنی ضرورت و شعبے کے بارے میں جتنا علم سیکھنا ضروری ہے، اگر وہ اتنا علم نہیں سیکھتا تو کیا ازروئے شرع فاسق و مردود الشہادۃ قرار پائے گا یا نہیں؟
(2) اور اگر وہ سیکھنا شروع کردے تو زمانہ کوشش میں اس کے متعلق کیا حکم شرعی ہوگا؟
(3) نیز کوشش کس حد تک کرنا ضروری ہے، کیونکہ دیگر مصروفیات روزگار کے حوالے سے بعض اوقات ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ان کو بالکل نہیں چھوڑ سکتا، اس کے حوالے سے جو احکام بنتے ہیں، ان کے بارے میں رہنمائی ارشاد فرما دیجئے۔
جواب
(1) جن علوم کا سیکھنا فرض ہے، ان کا ترک فسق ہے اور اس وجہ سے انسان مردود الشہادۃ قرار پاتا ہے (یعنی اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔)
در مختار میں ہے ”سأل عما يجب عليه تعلمه من الفرائض، فإن لم يعرفها ثبت فسقه، لما في المجتبى: من ترك الاشتغال بالفقه لا تقبل شهادته، والمراد ما يجب عليه تعلمه منه نهر“ ترجمہ: مطعون سے قاضی ان کے متعلق سوال کرے گا جن کا سیکھنا اس پر لازم ہے، پس اگر اس نے ان کا علم حاصل نہ کیا تو اس کا فسق ثابت ہو جائے گا، اس وجہ سے جو مجتبی میں ہے کہ فقہ کے ساتھ مشغولیت کو جس نے ترک کیا اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی یہاں فقہ سے مراد وہ علوم ہیں جن کا سیکھنا اس پر واجب ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ نہر الفائق میں مذکور ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 6، ص 110، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ” یُونہی اگر سب گواہ ظاہر الفسق ہیں مثلاً وُہ لوگ کہ جماعت کے پابند نہیں یا ناجائز تماشا دیکھا کرتے یا حرام نوکری یا پیشہ رکھتے یا داڑھی حدِ شرع سے کم رکھواتے یا ریشمیں کپڑے یا سونے چاندی کے ناجائز لباس یا زیور پہنا کرتے یا ضروریات دین سے غافل بے علم جاہل ہیں کہ نماز، روزہ، وضو، غسل کے فرائض و شرائط و مفسدات سے آگاہ نہیں یا تجارت کرتے ہیں اور بیع و شراء کے ضروری احکام نہ سیکھے وعلٰی ھذاالقیاس جن مسائل کی ضرورت پڑے اُن کی تعلیم سے باز رہنے والے کہ یہ سب فسّاق مردود الشہادۃ ہیں تو ایسوں کی گواہی تو شرع مطہر میں اصلاً معتبر نہیں، فی الدر المختار، لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترک مایجب تعلمہ شرعا۔۔۔۔ وفیہ سئل القاضی عما یجب علیہ من الفرالض فان لم یعرفھا ثبت فسقہ لما فی المجتبٰی من ترک الاشتغال بالفقۃ لا تقبل شہادتہ والمراد مایجب علیہ تعلمہ منہ نھر“
ترجمہ: در مختار میں ہے: جاہل شخص کی عالم کے خلاف گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ جن علوم کا سیکھنا شرعا ضروری ہے، ان کے ترک کرنے کی وجہ سے فاسق ہے۔ اور اسی میں ہے کہ قاضی ان کے متعلق سوال کرے گا جن کا سیکھنا اس پر لازم ہے، پس اگر اس نے ان کا علم حاصل نہ کیا تو اس کا فسق ثابت ہو جائے گا، اس وجہ سے جو مجتبی میں ہے کہ فقہ کے ساتھ مشغولیت کو جس نے ترک کیا اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی یہاں فقہ سے مراد وہ علوم ہیں جن کا سیکھنا اس پر واجب ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ نہر الفائق میں مذکور ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 387-388، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
(2) زمانہ کوشش میں وہ معذور ٹھہرے گا جیسا کہ اگلی شق میں اس پر جزئیات آ رہے ہیں کہ پوری کوشش کرنا لازم ہے ورنہ گنہگار ہے، معذور نہ ٹھہرے گا، جن کا مطلب ہے کہ زمانہ کوشش میں گناہ کا حکم بھی نہ ہوگا اور معذور بھی ٹھہرے گا۔
(3) اور کوشش دن رات کرنا اس پر لازم ہے، اس کی کوئی حد نہیں۔ ہاں اپنا اور اہل و عیال وغیرہ کا نفقہ حاصل کرنے وغیرہ کی جو ضروری مصروفیات ہیں، ان کو اپنانے کے بعد جو ٹائم بچے وہ اس علم کے سیکھنے میں صرف کرے جیسے قضا نمازوں وغیرہ کا حکم ہے کہ وہ بھی علی الفور لازم ہیں لیکن ضروری مصروفیات میں مشغول ہونے کی رخصت ہے۔
فتح القدیر میں ہے ”والأمي يجب عليه كل الاجتهاد في تعلم ما تصح به الصلاة ثم في القدر الواجب وإلا فهو آثم وقدمنا نحوه في إخراج الحرف الذي لا يقدر على إخراجه“ ترجمہ: امی (جو فرض قراءت پر قادر نہ ہو، اس) پر اتنی مقدار سیکھنے میں پوری کوشش کرنا واجب ہے، جس سے نماز درست ہوتی ہے، پھر واجب مقدار میں پوری کوشش کرنا لازم ہے، اگر ایسا نہ کیا تو وہ گنہگار ہے اور ہم نے اسی طرح کا حکم پیچھے بیان کیا ہے، اس حرف کو نکالنے میں کہ جس کے نکالنے پر اسے قدرت نہ ہو۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج 01، ص 377، بیروت)
بحرالرائق میں فتح القدیرکے حوالے سے اس عبارت کو نقل کر کے برقرار رکھا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے ”ذكر الإمام التمرتاشي يجب أن لا يترك الأمي اجتهاده في آناء ليله ونهاره حتى يتعلم مقدار ما يجوز به الصلاة فإن قصر لم يعذر عند اللہ تعالى. كذا في النهاية“ ترجمہ: امام تمرتاشی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: امی پردن رات کوشش کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ اتنی مقدار سیکھ لے، جس سے نماز درست ہوتی ہے، اور اگر اس نے اس میں کوتاہی برتی تو وہ اللہ تعالی کے ہاں معذور نہ ہوگا۔ اسی طرح نہایہ میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصلاۃ، ج 1، ص 86، کوئٹہ)
اسی طرح کی عبارت بنایہ شرح ہدایہ میں بھی ہے، اس میں یہ عبارت ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "وبہ قالت الائمۃ الثلاثۃ" ترجمہ: ائمہ ثلاثہ کا یہی موقف ہے۔ (البنایہ شرح ہدایہ، باب الامامۃ، ج 02، ص 444، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”اس قدر تجوید جس کے باعث حرف کو حرف سے امتیاز اور تلبیس و تبدیل سے احتراز حاصل ہو واجبات عینیہ و اہم مہمات دینیہ سے ہے آدمی پر تصحیح مخارج میں سعی تام اور ہر حرف میں اُس کے مخرج سے ٹھیک ادا کرنے کا قصد و اہتمام لازم کہ قرآن مطابق ما انزل ﷲ تعالٰی پڑھے۔۔۔ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ آدمی سے اگر کوئی حرف غلط ہوتا ہو تو اس کی تصحیح و تعلم میں اس پر کوشش واجب بلکہ بہت علماء نے اس سعی کی کو ئی حد مقرر نہ کی اور حکم دیا کہ عمر بھر روز و شب ہمیشہ جہد کئے جائے کبھی اس کے ترک میں معذور نہ ہوگا۔" (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 261، 262، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے”جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں اگرچہ ان کا پڑھنا جلد سے جلد واجب ہے مگر بال بچوں کی خورد و نوش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر جائز ہے تو کاروبار بھی کرے اور جو وقت فرصت کا ملے اس میں قضا پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں۔“ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 706، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے ”اُمّی پر واجب ہے کہ رات دن کوشش کرے یہاں تک کہ بقدر فرض قرآن مجید یاد کر لے، ورنہ عندﷲ تعالیٰ معذور نہیں۔ جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ تصحیح حروف میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح خواں کی اقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے يا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو زمانۂ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی اور اپنے مثل دوسرے کی اِمامت بھی کر سکتا ہے یعنی اس کی کہ وہ بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو جس کو یہ" (بھار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 570، 571، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
در مختار میں ہے”(ويجوز تأخير الفوائت) وإن وجبت على الفور (لعذر السعي على العيال)“ ترجمہ: قضا نمازوں کی ادائیگی اگرچہ فورا واجب ہے لیکن اہل و عیال کے نفقہ کے حصول میں کوشش کرنے کے عذر کی وجہ سے تاخیر جائز ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”(قوله لعذر السعي) الإضافة للبيان ط أي فيسعى ويقضي ما قدر بعد فراغه ثم وثم إلى أن تتم“ ترجمہ: یعنی وہ کوشش کرے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد جو وقت بچے اس میں جتنی نمازوں پر قادر ہو وہ قضا کرے اور یونہی سلسلہ جاری رکھے یہاں تک کہ تمام نمازیں ادا ہوجائیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 2، ص 646، کوئٹہ)
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے ”اگر کسی شخص کے ذمے تیس یا چالیس سال کی نمازیں ہیں واجب الادا، اس نے اپنے ان ضروری کاموں کے علاوہ جن کے بغیر گزر نہیں کاروبار ترک کر کے پڑھنا شروع کیا اور پکا ارادہ کر لیا کہ کل نمازیں ادا کر کے آرام لوں گا اور فرض کیجئے اسی حالت میں ایک مہینہ یا ایک دن ہی کے بعد اس کا انتقال ہو جائے تو اللہ تعالی اپنی رحمت کاملہ سے اس کی سب نمازیں ادا کر دے گا، قال اللہ تعالی: ﴿وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾ ترجمہ: جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کرتا ہوا نکلے پھر اسے راستے میں موت آ جائے تو اس کا ثواب اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ثابت ہو چکا۔
یہاں مطلق فرمایا، گھر سے اگر ایک ہی قدم نکالا اور موت نے آ لیا تو پورا اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور کامل ثواب پائے گا، وہاں نیت دیکھتے ہیں، سارا دار و مدار حسنِ نیت پر ہے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، ص 126، 127، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: ابو الحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-660
تاریخ اجراء: 21 جمادی الاولی 1444 ھ / 16 دسمبر 2022ء