logo logo
AI Search

99 ناموں کے علاوہ بھی اللہ پاک کے صفاتی نام ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا اللہ پاک کے صرف ننانوے نام ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا اللہ پاک کے صرف نناوے نام ہیں یا اس کے علاوہ بھی نام ہیں؟

جواب

اللہ پاک کا ذاتی نام ایک ہے: ”اللہ“۔ اس کے علاوہ جتنے نام ہیں وہ اللہ پاک کے صفاتی نام ہیں۔ نیز اللہ پاک کے صفاتی نام بھی صرف ننانوے نہیں ہیں۔ بلکہ دلائل الخیرات شریف میں اللہ پاک کےتقریباً 201 نام بیان ہوئے ہیں، نیز مدارج النبوۃ میں اللہ پاک کے تقریباً 1000 نام گنوائے گئے ہیں۔ البتہ حدیث پاک میں99 ناموں کا ذکر اور انہیں یاد کرنے کی فضیلت آئی ہے۔

قرآن مجیدِ فرقانِ حمید میں اللہ کریم خود ارشاد فرماتا ہے:” وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ“ ترجمہ کنز الایمان: اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں وہ جلد اپنا کیا پائیں گے۔ (پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت:180)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کریمہ کے تحت ہے: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری،حدیث 2736)

حضرت علامہ یحیٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہٰیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔

حدیثِ پاک میں اللہ تعالیٰ کے یہ ننانوے اسماء بیان کئے گئے ہیں: ”ھُوَ اللہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِءُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَھَّارُ الْوَھَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِیمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ الْحَکَمُ الْعَدْلُ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الْحَلِیْمُ الْعَظِیْمُ الْغَفُوْرُ الشَّکُوْرُ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ الْحَفِیْظُ الْمُقِیْتُ الْحَسِیْبُ الْجَلِیْلُ الْکَرِیْمُ الرَّقِیْبُ الْمُجِیبُ الْوَاسِعُ الْحَکِیْمُ الْوَدُوْدُ الْمَجِیْدُ الْبَاعِثُ الشَّھِیْدُ الْحَقُّ الْوَکِیْلُ الْقَوِیُّ الْمَتِیْنُ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ الْمُحْصِیْ الْمُبْدِئُ الْمُعِیْدُ الْمُحْیِیْ الْمُمِیْتُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ الظَّاھِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِی الْمُتَعَالِی الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّءُوْفُ مَالِکُ الْمُلْکِ ذُوالْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِیُّ الْمُغْنِیُ الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْھادِی الْبَدِیْعُ الْبَاقِی الْوَارِثُ الرَّشِیْدُ الصَّبُوْرُ۔‘‘ (ترمذی،حدیث 3518) “ (تفسیر صراط الجنان، جلد3، صفحہ 479۔480، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2404

تاریخ اجرا: 22محرم الحرام 1447ھ / 18 جولائی 2025ء