پہلے یہ جان لیں کہ غصہ کسے کہتے ہیں، غصہ ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے، یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے، اس وجہ سے ہر شخص کے اندر اس فطرت کا وجود ہے، اور مشاہدہ میں بھی آتا ہے۔ عوام میں یہ غَلَط مشہور ہےکہ ”غُصّہ مطلقا حرام ہے“ کیونکہ غُصّہ ایک غیر اختیاری اَمر ہے، انسان کو آہی جاتا ہے، اِس میں اس کا قُصُور نہیں، ہاں غُصّہ کا بے جا استِعمال بُرا، اور کئی گناہوں کا سبب ہے۔ بعض صُورَتوں میں غُصّہ ضَروری بھی ہے مَثَلًا جِہاد کے وَقت اگر غُصّہ نہیں آئے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں سے کس طرح لڑیں گے، تو یوں ہر غصہ برا نہیں ہوتا، بلکہ غصہ کا بے جا اظہار غلط ہے۔
مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں: غَضَب یعنی غُصّہ نفس کے اُس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دَفع (دور)کرنے پر اُبھارے، غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی، اللہ کے لیے غصہ اچھا ہے جیسے مجاہد غازی کو کفار پر یا کسی واعظ عالم کو فساق و فجار پر یا ماں باپ کو نافرمان اولاد پر آوے اور برا بھی ہوتا ہے جیسے وہ غصہ جو نفسانیت کے لیے کسی پر آوے۔“ (مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 655، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
مزید تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کی ویب سائٹ پر ”غصہ “ کے نام سےایک تفصیلی آرٹیکل اپلوڈ ہے، اس کا مطالعہ کرلیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4575
تاریخ اجراء: 06رجب المرجب1447ھ/27دسمبر2025ء