logo logo
AI Search

مسجدِ حرام کی تصویر والے مصلّے پر نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد حرام کی تصویر والی جائے نماز پر نماز پڑھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری جائے نماز پر مسجد حرام کی تصویر ہے تو کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ تصویر اس پر پرنٹ ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ایسے مصلے پر نماز نہ پڑھی جائے؛ ایسے جائے نماز پر نماز پڑھنے میں دو پہلو ہیں:

ایک تو یہ کہ اگرچہ جائے نماز پر سجدے کی جگہ ایسی تصویر ہونا خلافِ ادب تو نہیں لیکن مشاہدہ یہی ہے کہ کئی مرتبہ نماز سے پہلے یا بعد میں اس پر پاؤں بھی رکھ ہی دیا جاتا ہے اور یہ ضرور بے ادبی ہے تو ایسے مصلوں پر نماز پڑھنے سے بچنے میں عافیت ہے۔ تاہم اگر کوئی اس پر نماز پڑھ لے تو کوئی گناہ نہیں، نماز ہو جائے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ وغیرہ کی وہ تصویر اور ڈیزائن وغیرہ اگرایسی ہوں کہ نماز میں اس کی طرف دھیان جائے اور توجہ بٹنے کا سبب بنے تو اس مصلے پر نماز خشوع و خضوع میں رکاوٹ ہونے کی وجہ سے مکروہ تنزیہی ہوگی اور یہ صرف اسی تصویر کےساتھ خاص نہیں بلکہ کسی بھی قسم کا ڈیزائن یہی حکم رکھتا ہے۔

فتاوی بریلی شریف میں سوال مذکور ہے: جس جا نماز پر گنبد خضریٰ یا کعبہ شریف کا نقشہ منقش ہو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں ہے: اس مصلی پر نماز جائز ہے کہ اس کا حکم اصل سا نہیں ہے، البتہ گنبد خضریٰ و کعبہ کی جگہ پاؤں نہ رکھے کہ اس کی بھی تعظیم کا حکم ہے۔ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ 143 - 144، زاویہ پبلشرز، لاہور)

فقیہِ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں:

و تكره بحضرة كل ما يشغل البال كزينة و بحضرة ما يخل بالخشوع كلهو ولعب

ترجمہ: اور نماز مکروہ ہوتی ہے، ہر اس چیز کی موجودگی میں جو دل کو مشغول کرے، جیسے زیب و آرائش، اور ان چیزوں کی موجودگی میں بھی جو خشوع میں خلل ڈالتی ہوں، جیسے لہو و لعب۔ (إمداد الفتاح شرح نور الإيضاح، کتاب الصلاة، فصل فيما يكره في الصلاة، صفحه 389، مطبوعه کوئٹہ)

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: کوئی ایسی چیز لگانا جس سے نمازی کا دھیان اور التفات ادھر جاتا ہو، مکروہ ہے۔ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: اس (چیز کی) وجہ سے نماز میں کراہت تنزیہی ہوتی ہے کہ ان پر نظر پڑنے کی وجہ سے خشوع میں فرق آئے گا۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 258 و 73 ملتقطا، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1085
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1447ھ / 31 جنوری 2026ء