عورت کو جہیز میں ملنے والا سونا کس کا ہوتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کو جہیز میں ملا سونا کس کی ملکیت ہو گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ لڑکی کی شادی کے موقع پر جو سونا جہیز میں اس کو اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے، اس پر شرعی حق یعنی ملکیت کس کی ہے ؟ یہ پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ میری بیٹی کی شادی ہوئی تو ہم نے اس کو جہیز میں سونا دیا، اب اس کے ماموں سسر کا یہ کہنا ہے کہ اس سونے پر اس کی بہن یعنی لڑکی کی ساس کا حق ہے، اس وجہ سے وہ اس کو سونا استعمال کرنے نہیں دیتے، آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کے شرعی حکم سے متعلق ہماری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو کچھ سامان و زیور وغیرہ لڑکی کو جہیز میں دیا جاتا ہے، وہ اس کی ملک ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جہیزمیں دیا گیا سونا اس لڑکی کی ملکیت ہے، کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور اس کو سونا استعمال کرنے سے روکنا بھی درست نہیں ہے۔
رد المحتار میں ہے:
”كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها“
ترجمہ: ہر ایک جانتا ہےکہ جہیزعورت کی ملکیت ہے، لہذا جب شوہر اسے طلاق دیدے تو وہ تمام جہیزلے لے گی اور جب عورت مرجائے تو جہیز میں وراثت جاری ہوگی۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج 03، ص 585، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 203، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”وہ زیور و اسباب کہ زوجہ ابو محمد اپنے جہیز میں لائی، خاص اس کی ملک ہے، ابو محمد یا اس کے باپ کا اس میں کچھ حق نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 210، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0512
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم 1446ھ/07 فروری 2025ء