سورج یا چاند گرہن حاملہ عورت کیلئے نقصان دہ ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سورج گرہن یا چاند گرہن کو حاملہ عورت کے لئے نقصان دہ ماننے کا حکم شرعی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اس بات میں کتنی سچائی ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن حاملہ عورت کے لیے نقصان دہ ہے، اسے ان دنوں میں روم سے باہر نہیں آنا چاہئے؟
جواب
شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اسے حاملہ عورت کے لیے نقصان دہ سمجھنا، بدشگونی لینا ہے، اور بدشگونی لینا مسلمانوں کاکام نہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے:
قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَؕ- قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (القرآن، سورۃ النمل، پارہ 19، آیت: 47)
مذکورہ آیت کےتحت تفسیر صراط الجنان میں ہے یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں۔۔۔ اور مصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
وَمَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ
ترجمہ کنزُ العِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔ اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا ساکام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالٰی اسے توکّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ (صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 211، 212، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے بد فالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
لیس منا من تطیر
یعنی: جس نے بد شگونی لی وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، حدیث: 355، مطبوعہ: القاھرۃ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ایک شخص کے متعلق سوال ہوا، جس کاخلاصہ یہ ہے کہ:
لوگوں میں مشہورہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ وقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی۔
آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا:
شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔ شریعت میں حکم ہے:
اذا تطیرتم فامضوا
جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو،وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ:
اللّٰھم لا طیر الا طیرک و لا خیر الا خیرک و لا الٰہ غیرک
(اے اللہ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) پڑھ لے، اور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے، ہر گز نہ رُکے نہ واپس آئے۔ (فتاوی رضویہ، ج 29، ص 641، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4797
تاریخ اجراء: 12رمضان المبارک 1447ھ / 02 مارچ2026ء