logo logo
AI Search

عالم اور مفتی کسے کہتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عالم اور مفتی کس کو کہا جاتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو دینی مطالعہ کرتا ہو توکیا اس کو عالم کہا جائے گا؟ اور مفتی کسے کہتے ہیں؟ نیز مفتی کس کو کہتے ہیں؟ کیا جو شخص فقہی مسائل جانتا ہو اورلوگوں کے شرعی مسائل حل کرتا ہو اور علمِ فقہ کا مطالعہ بھی کرتا ہو تو کیا اس کو مفتی کہا جائے گا؟

جواب

عالم دین وہ شخص ہوتا ہے جو دین کے بنیادی عقائد کو اچھی طرح جانتا ہو اور اپنے ضروری مسائل کتابوں سے خود نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ عالم بننے کے لیے باقاعدہ درسِ نظامی پڑھنا شرط نہیں اور نہ سند ہونا کافی، بلکہ اصل چیز علم ہے، چاہے خود کتب دینیہ کے مطالعے سے حاصل ہو جائے، یا پھر کسی عالمِ دین کی صحبت میں بیٹھ کر حسب ضَرورت عقائد و مسائل سے آگاہی حاصِل کر کے ہوجائے۔ لہذا جو شخص دینی مطالعہ کرتا ہے، اگر اُسے دین کے بنیادی عقائد کا اچھی طرح علم ہےاور اپنی ضروری مسائل کو خود کتابوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو اسے ’’عالم‘‘ کہا جاسکتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ مفتی کسے کہتے ہیں؟ تو محض فقہی مسائل جان لینا، یا عربی و اردوکتابوں سے مسائل دیکھ کر لوگوں کو بتادینا مفتی بننے کے لیے کافی نہیں۔ مفتی وہ ہوتا ہے جو فقہی جزئیات پر گہری اور وسیع نظر رکھتا ہو، فقہ کی کتابوں کا باقاعدہ اور کثرت سے مطالعہ کرتا رہتا ہو اور تفسیر، حدیث، اصولِ فقہ اور دیگر ضروری علوم میں مہارت رکھتا ہو، مزید یہ کہ اس نے کسی ماہر اور مستند مفتی کی نگرانی میں طویل عرصہ تک فتویٰ نویسی کی عملی مشق کی ہو اور پھر وہ اپنی علمی قابلیت اور عملی مہارت کی بنیاد پر اپنے استاد مفتی سے فتویٰ دینے کی باقاعدہ اجازت حاصل کرلے، تو ایسا شخص ’’مفتی‘‘ کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔

عالم کون ہوتا ہے؟ اس حوالے سے ملفوظات اعلی حضرت میں ایک سوال ہے کہ عالِم کی کیا تعریف ہے؟

اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: عالِم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مُستَقِل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے۔

مزید سوال ہوا کہ کیا کُتُب بینی (یعنی کتابیں پڑھنے) ہی سے علم حاصل ہوتا ہے؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: یہی نہیں بلکہ علم ''اَفواہِ رِجال'' (یعنی علم والوں سے گفتگو کر کے اور مسائل معلوم کرنے )سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ 58، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی کےلئے کتنا علم پڑھنا ضروری ہے اور علوم دینیہ میں کتنی مہارت درکار ہے؟ اس حوالے سے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: حدیث و تفسیر و اصول و ادب و قدر حاجت ہیأت و ہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی اللہ اور نیت لوجہ اللہ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من اللہ، جوان شروط کا جامع وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے۔ مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 18، صفحہ 589، 590 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی بننے کیلئے کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں رہ کر ایک عرصے تک افتا کی مشق بھی درکار ہوتی ہے کہ فتوی دینے کا علم صرف پڑھنے سے نہیں آتا، چنانچہ فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: سند کوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی، علم ہونا چاہئے اور علم الفتوٰی پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہا (یعنی طویل مدّت تک) کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو(یعنی ماہر مفتی کی صحبت میں رہ کر فتوے نہ لکھے ہوں)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 683، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ ’’فتاوی مصطفویہ‘‘ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں: عالم اور خود مدرسے والے یہ سمجھتے ہیں کہ درس نظامیہ کا ہر وہ فارغ التحصیل جس کی کچھ صلاحیت ہو، وہ فتوی دے سکتا ہے۔ حالانکہ درسی کتابیں پڑھنے سے علم الفتوی حاصل نہیں ہوتا مگر جس پر اللہ تعالی کا خاص فضل ہوجائے۔۔۔۔ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ذہین سے ذہین علماء برسہا برس تک مشاقی کرنے اور ماہر فن مفتی سے اصلاح لینے کے بعد اس پر قادر ہوتے ہیں کہ وہ ایک مکمل فتوی لکھیں۔ (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 7، 8، شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1146
تاریخ اجراء: 15 شوال المکرم 1447ھ / 04 اپریل 2026ء