میت کے نماز روزوں کا حیلہ اسقاط کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میت کی نماز روزوں کا حیلہ کر کے فدیہ دینے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی کے مرنے پر جو نمازوں وغیرہ کا حیلہ ہوتا ہے، اسے کرنا چاہیے یا نہیں؟ آیا میت کو اس سے فائدہ بھی پہنچتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کا درست طریقہ بتا دیں۔
جواب
جو شخص انتقال کر جائے اور اس کے ذمہ پر نمازوں اور روزوں کی ادائیگی باقی ہو تو اس کی طرف سے ان کا فدیہ ادا کر دینا اسقاط کہلاتا ہے، اور نمازوں وغیرہ کی تعداد زیادہ ہو اور اتنا مال نہ ہو تو تھوڑے مال کے ساتھ لوٹ پھیر کے طریقے کے ذریعے فدیہ ادا کرنے کو حیلہ اسقاط کہتے ہیں، جو کہ نہ صرف جائز بلکہ فوت شدہ شخص کے ساتھ بڑی نیکی اور زبردست امداد ہے۔ یہ صحابہ کرام کی نصوص و آثار اور فقہائے امت کی تصریحات سے ثابت ہے۔ نیز اللہ پاک کے فضل و کرم سے امید ہے کہ وہ اس فدیہ کو قبول فرما کر میت کو ان کے مطالبے سے سبکدوش فرما دے گا۔
حیلہ اسقاط کا درست طریقہ یہ ہے کہ میت کی ساری زندگی کی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا حساب کر لیا جائے، پھر اگر میت نے وصیت کی ہے تو اس کے کل مال کی تہائی میں سے اور اگر وصیت نہ کی ہو تو وارث اپنے پاس سے کچھ مال دے کر یا قرض لے کر فدیہ ادا کر دے۔ فدیہ یہ ہے کہ ہر نماز کے عوض ایک صدقہ فطر کی مقدار شرعی فقیر کو بنیتِ اسقاط دے دیں، دن رات کی پانچ فرض نمازیں اور ایک واجب وتر یعنی ایک دن کے بدلے چھ صدقے، اسی طرح ہر روزے کے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدار خیرات کریں۔ ایک صدقہ فطر کی مقدار کم از کم آدھا صاع (1920 گرام) گندم یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت ہے۔ اگر رقم کم ہو اور فدیہ زیادہ ہو تو لوٹ پھیر کا طریقہ اپنایا جاسکتا ہے، وہ اس طرح کہ مخصوص رقم کو فدیہ کی ادائیگی کی نیت سے کسی شرعی فقیر کو دے کر اس پر قبضہ کروادیا جائے، جتنی رقم ہوگی اتنا فدیہ ادا ہو جائے گا، پھر وہ فقیر اپنی خوشی سے اسے بطور ہبہ واپس دے دے اور دوبارہ اسی نیت سے فقیر کو وہ رقم دے دی جائے اور فقیر قبضہ کرنے کے بعد بطور ہبہ واپس کر دے، اس طرح بار بار لوٹ پھیر کریں یہاں تک کہ میت کی تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا ہو جائے۔
واضح رہے کہ اگر قرآن پاک کو فدیہ کی نیت سے فقیر کو دیا جائے تو اس کے بدلے میں صرف اتنا ہی فدیہ ادا ہو گا جتنی قرآن پاک کی قیمت ہے، یہ سمجھ لینا کہ ایک قرآن پاک سے سارا فدیہ ادا ہو جائے گا، یہ سراسر غلط ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ نیز اسقاط کی رقم صرف شرعی فقیر کو دی جا سکتی ہے یعنی وہ شخص جو مالک نصاب نہ ہو، یوں ہی لوٹ پھیر بھی اسی کے ساتھ ہو سکتی ہے، البتہ آخر میں وہ رقم شرعی فقیر کو دے دی جائے اور فقیر کو طریقہ پہلے سمجھا دیا جائے، دینے کے بعد واپسی کا مطالبہ نہ کیا جائے بلکہ وہ بغیر مطالبے کے اپنی مرضی سے واپس کردے۔
جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:
عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: من مات و عليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكينا
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اس کے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔ (جامع ترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء من الكفارة، جلد 2، صفحہ 88، حدیث 718، دار الغرب الإسلامي، بيروت)
سنن الکبری للنسائی میں ہے:
عن ابن عباس قال: لا يصلي أحد عن أحد و لا يصوم أحد عن أحد و لكن يطعم عنه مكان كل يوم مدا من حنطة
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، فرمایا: کوئی کسی کی طرف سے نماز نہ پڑھے اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے، لیکن اس کی طرف سے ہر دن کے عوض گندم کے مد مسکین کو کھلا دے۔ (السنن الكبرى للنسائي، كتاب الصيام، صوم الحي عن الميت...الخ، جلد 3، صفحہ 257، حدیث 2930، مؤسسة الرسالة، بيروت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
ان عمر بن الخطاب قال: إذا مات الرجل و عليه صيام رمضان أطعم عنه عن كل يوم نصف صاع من بر
ترجمہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب آدمی وفات پا جائے اور اس پر رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے آدھا صاع گندم مسکین کو کھلا دو۔ (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصيام، باب المريض في رمضان و قضائه، جلد 4، صفحہ 530، حدیث 7880، دار التأصيل)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) اول الذکر حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: فقہا فرماتے ہیں کہ میت کی نمازوں کا بھی فدیہ دے دیا جائے؛ کیونکہ نماز روزے سے زیادہ اہم ہے۔ حیلہ اسقاط کی اصل یہ حدیث ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 172، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:
اسقاط کردن برطریق معروف اگرچہ در قرون ثلثہ بریں طریق جاری نبود لیکن علماء فقہ در کتب ہائے خود نقل کردہ ہست و از نصوص و آثار صحابہ ایں حکم را مستنبط کردہ اند چنانچہ علامہ ابن العابدین شامی دریں مسئلہ رسالہ مستقل چاپ کردہ ہست و ثابت کرده ہست کہ اسقاط میت جائز ہست
(مروج طریقے پر حیلہ اسقاط کرنا اگرچہ قرون ثلثہ میں اس طور پر جاری نہ تھا، مگر علمائے فقہ نے اپنی کتابوں میں اس کو نقل کیا ہے اور نصوص و آثار صحابہ سے اس حکم کو مستنبط کیا ہے، چنانچہ علامہ ابن عابدین صاحب شامی نے اس مسئلہ میں ایک مستقل رسالہ شائع کیا ہے ا ور ثابت کیا ہے کہ میت کے لیے حیلہ اسقاط جائز ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 208 - 209، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: اسقاط کے لغوی معنی ہیں: گرا دینا۔ اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ میت کے ذمہ جو احکام شریعہ رہ گئے ہوں ان کو اس کے ذمہ سے دور کرنا۔… اسقاط کا فائدہ یہ ہے کہ مسلمان سے بہت سے شرعی احکام عمداً سہواً خطاءً رہ جاتے ہیں، جس کو وہ اپنی زندگی میں ادا نہ کر سکا اور بعد موت ان کی سزا میں گرفتار ہے، اب نہ تو ادا کرنے کی طاقت ہے، نہ اس سے چھوٹنے کی کوئی سبیل۔ شریعت مطہرہ نے اس بے کسی کی حالت میں اہل میت کی دستگیری کرنے کے لیے کچھ طریقے تجویز فرما دئیے کہ اگر ولی میت وہ طریقہ میت کی طرف سے کر دے تو بے چارہ مردہ چھوٹ جاوے، اس طریقے کا نام اسقاط ہے۔ حقیقت میں یہ میت کی ایک طرح کی مدد ہے۔ (جاء الحق، حصہ 1، صفحہ 332 - 333، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: اسقاط کے معنی ہیں: میت کے ذمہ جو فرائض باقی تھے ان کو اس کے ذمے سے ساقط کر دینا ۔ جبکہ تھوڑے سے مال کے ذریعے مذکورہ بالا طریقے پر فدیہ ادا کرنا "حیلہ اسقاط" کہلاتا ہے اور اس کا جواز ہماری فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 195، بزم وقار الدین، کراچی)
علامہ ملا جیون احمد بن ابو سعید صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1130ھ / 1718ء) لکھتے ہیں:
و الصلوة نظير الصوم بل أهم منه فامرناه بالفدية احتياطا و رجونا القبول من الله تعالى فضلا، فقال محمد في الزيادات يجزيه ان شاء الله تعالى فعلق بمشية الله تعالى و لم يجزم به قطعا فصار كما اذا تطوع به الوارث في الصوم
ترجمہ: اور نماز روزے کی مثل ہے بلکہ اس سے زیادہ اہم ہے، پس ہم نے نماز کے معاملے میں احتیاطی طور پر فدیہ کا حکم دیا اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے قبول ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے الزیادات میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ فدیہ کافی ہو جائے گا، پس انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے اور اس پر قطعی طور پر جزم نہیں کیا، پس یہ ایسا ہی ہوا جیسے روزے کے معاملے میں وارث اپنی طرف سے نفلی طور پر فدیہ ادا کردے۔ (التفسيرات الاحمدية، سورۃ البقرة، صفحہ 47، مکتبۃ الشرکۃ)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں:
و لو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر كالفطرة و كذا حكم الوتر و الصوم و إنما يعطي من ثلث ماله و لو لم يترك ما لا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا و يدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم
ترجمہ: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس پر فوت شدہ نمازیں ہوں اور اس نے کفارے کی وصیت کی ہو تو ہر نماز کے عوض صدقۂ فطر کی طرح آدھا صاع گندم دی جائے گی، اور وتر اور روزے کا حکم بھی یہی ہے۔ یہ اس کے مال کے ایک تہائی حصے سے ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو تو اس کا وارث مثلاً آدھا صاع گندم قرض لے کر کسی فقیر کو دے، پھر وہ فقیر اسے وارث کو واپس کر دے اور اسی طرح بار بار ایسا کرتا رہے یہاں تک (تمام نمازوں کی) مقدار پوری ہو جائے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، صفحہ 98، دار الکتب العلمیة، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً بارہ برس ادنی مدت بلوغ کی نکال کر ساٹھ برس کی نمازیں اس کے ذمہ تھیں۔ سال کے دن تین سو پچپن ہیں تو ایک سال کی نمازوں کے فدیے دو ہزار ایک سو تیس ہوئے اور ساٹھ برس کے ایک لاکھ ستائیس ہزار آٹھ سو۔ ایک نماز کا فدیہ گیہوں سے نصف صاع یعنی بریلی کی تول سے ایک سیر سات چٹھانک دو ماشے ساڑھے چھ رتی ... اس مقدار کو ۲۱۳۰ میں ضرب دیں تو سال بھر کی نمازوں کا کفارہ ہو اور ۱۲۷۸۰۰ میں ضرب دیں تو ساٹھ سال کا۔ یہ تقریباً پونے پانچ ہزار من گیہوں ہوئے، اس قدر دینے کی طاقت نہیں تو جتنے کی قدرت ہو اس قدر فقیر کو دے کر مالک کر دیں، قبضہ دلا دیں، پھر فقیر اپنی طرف سے انہیں ہبہ کر دے، یہ پھر دوبارہ بنیت کفارہ اسے دے کر قبضہ دلا دیں، وہ پھر انہیں ہبہ کر دے، یہ سہ بارہ ایسا ہی کریں، یہاں تک کہ یہ الٹ پھیر اس مقدار کو پہنچ جائے، جتنے بڑی مقدار سے دور کریں گے جلد ختم ہوگا۔ دور کے لیے یہ بھی کر سکتے ہیں کہ کسی سے مثلاً سو روپیہ کی تھیلی قرض لے کر وہ کفارے میں فقیر کو دیں اور یوں ہی الٹ پھیر کریں کہ روپے سے دور آسان ہوگا، اخیر میں فقیر کو کچھ دے کر راضی کریں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 165، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جو عوام میں رائج ہے کہ سارے فدیہ کے عوض ایک قرآن دے دیا کہ وہ تو بے بہا ہے، یوں ادا نہیں ہوتا، قرآن مجید بے شک بے بہا ہے، مگر جو بے بہا ہے یعنی کلام الہی کہ ورقوں میں لکھا ہے وہ مال نہیں، نہ وہ دینے کی چیز ہے تو جو مال ہے یعنی کاغذ اور پٹھے اسی کی قیمت معتبر ہوگی اور وہ جب مقدار فدیہ کو نہ پہنچے گی فدیہ کیونکر ادا ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 168، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: بازار کے بھاؤ سے وہ نسخۂ مصحف شریف جس قیمت کا تھا بقدر اس کے کفارہ ادا ہونے کی امید ہے، مثلاً دو روپیہ ہدیہ کا تھا تو دو روپے کے گیہوں جتنے کفارے کو کافی ہو، وہی ادا ہو سکتا ہے، باقی نماز روزے زید کے ذمے بدستور رہے، قرآن مجید بے شک بے بہا ہے، اس کے ایک کلمے ایک حرف کی برابر ساتوں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے برابر نہیں ہو سکتے، مگر ان امور میں اعتبار مالیت کا ہے، قرآن عظیم مال نہیں۔ ہاں یہ کاغذ و جلد جو متضمن نقوش ہیں، یہ مال ہیں انہیں کی قیمت ملحوظ ہوگی و بس، ورنہ یوں تو جس پر دس کروڑ روپے کسی کے قرض آتے ہوں ایک کلمہ اللہ پر چہ پر لکھ کر دے دے اور دین سے ادا ہو کر بے شمار اس کا اس پر فاضل رہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 164، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: جن لوگوں پر لوٹ پھیر کیا جائے ان میں سب کا فقیر محتاج ہونا یعنی مالک نصاب نہ ہونا ضروری ہے، اس لیے کہ اگر ان میں بعض وہ ہوں جو اگرچہ فقیر بنتے ہیں مگر مالک نصاب ہیں تو ان کا شمار لوٹ پھیر کرنے میں نہیں ہو گا۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 259، شبیر برادرز، لاہور)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1126
تاریخ اجراء: 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026ء