logo logo
AI Search

ڈائنا سور کی حقیقت نیز قرآن میں اسکا ذکر کیوں نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلام میں ڈائنا سور کا تصور ہے؟ قرآن پاک میں ڈائنا سور کا ذکر کیوں نہیں ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلام میں ڈائنا سور کا کیا تصور ہے؟ آخر قرآن میں ڈائنا سور کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا؟

جواب

اولاً یہ سمجھ لیجیے کہ اسلامی نقطہ نظر سے کسی بڑی یا غیر معمولی جسامت والی مخلوق کا وجود ناممکن نہیں، تاریخِ انسانی میں خود انسانوں کے بارے میں یہ بات موجود ہے کہ پہلے زمانوں میں ان کے قد بہت بڑے ہوتے تھے، بلکہ روایات میں حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ آپ کا مبارک قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا، تو جب انسانوں کے قد اتنے بڑے ہو سکتے ہیں تو یہ بات کوئی بعید نہیں کہ زمین پر انسانوں کے وجود سے پہلے یا بعد میں بھی بڑی جسامت کے جانور یا دیگر مخلوقات پائی جاتی ہوں۔ اسی طرح قدیم دینی و علمی کتب میں بعض غیر معمولی مخلوقات کے تذکرے بھی ملتے ہیں، جیسے دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے درسِ نظامی کے نصاب کی بعض کتابوں میں عنقاء نامی ایک بہت بڑے پرندے کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ایک تعداد نے اس کو فرضی یا نایاب مخلوق بھی قرار دیا ہے، مگر اس کے امکان کا بالکلیہ انکار نہیں کیا۔ اس مثال سے یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی کہ اسلام کسی غیر معمولی مخلوق کی نفی یا اس کا انکار نہیں کرتا، قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

یعنی: اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ (سورۃ النور، آیت 45 )

جہاں تک ڈائنا سور کا معاملہ ہے، تو سائنسی دنیا میں اس کے وجود کو بڑی حد تک تسلیم کیا جاتا ہے، ماہرینِ آثارِ قدیمہ زمین سے ملنے والی ہڈیوں اور باقیات (Fossils) کی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ ماضی میں اس قسم کے بڑے جانور موجود تھے، بعض کا خیال ہے کہ یہ انسانوں سے بہت پہلے زمین پر موجود تھیں، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ ابتدائی انسانی زمانے میں بھی ان کی کچھ اقسام موجود رہی ہیں، پھر مختلف قدرتی اسباب و تغیرات کے باعث ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اور اسلامی نقطۂ نظر سے ڈائنا سور یا کسی مخلوق کی نسل کا ختم ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں، تاریخ میں بہت سی مخلوقات و اشیا کا ذکر ملتا ہے جو پہلے موجود تھیں، مگر اب دنیا میں ناپید ہو چکی ہیں، خود قرآنِ مجید میں مختلف مخلوقات کے فنا ہوجانے کا ذکر موجود ہے، لہٰذا اگر آج کے اس جدید دور میں سائنس یہ کہتی ہے کہ قدیم زمانے میں ڈائنا سور یا کسی بھی مخلوق کی نسل موجود تھی جو بعد میں ختم ہو گئی، تو اسلام اس کو عقلی یا شرعی کسی بھی لحاظ سے ناممکن نہیں کہتا۔

اور یہ سوال کہ قرآنِ مجید میں ڈائنا سور کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا؟ تو دراصل یہ یا اس طرح کے دیگر سوالات انہی غلط توقعات کا نتیجہ ہیں جو اکثر مذہب سے جوڑ دی جاتی ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کا اصل موضوع کیا ہے؟ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے، اسے آخرت کے متعلق خبردار کرنا ہے، نہ کہ جانوروں اور پرندوں کی تاریخ کو بیان کرنا، چنانچہ قرآنِ مجید اپنے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ

یعنی: یہ لوگوں کے لئے ایک بیان اور رہنمائی ہے اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت ہے۔ (سورۃ آل عمران ، آیت 138 ) معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید اس لیے نازل ہوا ہے کہ وہ لوگوں کو آخرت کی رہنمائی کرے اور انہیں ایک خدا کے ساتھ جوڑے، لہٰذا قرآن کتابِ ہدایت ہے، حیاتیات (Biology) یا قدیم حیاتیات (Paleontology) کی تفصیلات بیان کرنے والی کتاب نہیں۔ قرآنِ مجید نے اگر بعض مخلوقات یا جانوروں، مثلاً قومِ عاد، قومِ ثمود، حضرت صالح کی اونٹنی، حضرت یونس علیہما السلام کی مچھلی وغیرہ کا ذکر کیا بھی ہے، تو صرف اس لیے کہ وہ سبق آموز اور ہدایت کا ذریعہ تھیں، جیسے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کہ یہ عام اونٹنی نہیں تھی، بلکہ ایک معجزہ تھی، یہ قومِ ثمود کے لیے ایک امتحان تھی، جس کو قتل کرنے کے سبب ان پر عذاب نازل ہوا، قرآن نے اس کا ذکر اس لیے کیا تاکہ ایمان و اطاعت کے مقابلے میں نافرمانی کرنے والوں کو سمجھایا جا سکے۔

یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ قرآنِ مجید ہر چیز کی فہرست بیان نہیں کرتا، بلکہ اصول اور بنیاد کو بیان کرتا ہے، قرآنِ مجیدنے جا بجا چند مخلوقات، جانوروں اور پرندوں وغیرہ کا ذکر کر کے فرمایا کہ ان کے علاوہ بے شمار مخلوقات اور چیزیں وہ ہیں جن کو تم ابھی جانتے ہی نہیں، چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ

یعنی: یہ گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کیے کہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہاری زینت کے لیے ہیں اور اللہ ان کے علاوہ وہ کچھ پیدا کرتا ہے، جس کی تمہیں خبر بھی نہیں۔ (سورۃ النحل، آیت 8)

دوسرے مقام پر فرمایا:

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ

یعنی: اللہ کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش بھی ہے اور زمین و آسمان میں پھیلے ہوئے جاندار بھی (اس کی نشانیوں میں سے) ہیں۔ (سورۃ الشوری، آیت 29)

اس سے واضح ہوا کہ قرآنِ مجید میں اجمالی طور پر گزشتہ، موجودہ اور آئندہ پیدا ہونے والی بہت سی مخلوقات کا ذکر موجود ہے، تو اگر واقعتاً ڈائنا سور کا وجود تھا، تو اس کا ذکر بھی قرآنِ مجید میں ضمنی طور پر ہوگیا، اگرچہ ہم نہیں جانتے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی مخلوقات خواہ وہ ختم ہو چکی ہوں یا موجود ہوں اسلام ان پر کوئی تفصیلی کلام نہیں کرتا، بلکہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کی مخلوقات کو دیکھو اور غور و فکر کرو تاکہ تمہیں ان کے پیدا کرنے والے کی پہچان نصیب ہو اور تم اس پر ایمان لاؤ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ 

یعنی: زمین میں سفر کرو اور دیکھو کہ اللہ نے کیسے مخلوقات پیدا فرمائیں ۔ (سورۃ العنکبوت، آیت 20)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD 9850
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک 1447ھ / 12 مارچ 2026ء