امانت کے پیسے واپس کرنے کی نیت سے استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امانت رکھوائے ہوئے پیسے اس نیت سے استعمال کرنا کیسا کہ بعد میں لوٹا دیں گے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی نے ہمارے پاس پیسے امانت رکھوائے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں دو سال بعد لے لوں گا اور اب ہمیں کوئی ضرورت ہے تو ہم اس کے پیسے استعمال کرسکتے ہیں اور دو سال بعد اس کے پیسے اسے پورے کر دیں گے؟
جواب
آپ کے پاس اگر کسی نے اپنے پیسے بطور امانت رکھوائے ہیں جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو آپ کے لئے اس کی اجازت کے بغیر پیسے استعمال کرنا جائز نہیں اگرچہ یہ نیت ہو کہ بعد میں واپس کر دیں گے، کیونکہ یہ امانت میں خیانت ہے اور امانت میں خیانت کرنا شرعا ناجائز ہے، البتہ بعض اوقات لوگ امانت کہہ کرکے رقم دیتے ہیں اور ساتھ ہی استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں، تو ایسی صورت میں اس پر امانت والا حکم لاگو نہیں ہوگا، بلکہ یہ قرض ہوگا اور اس کو استعمال کرنا جائز ہوگا۔
حدیث پاک میں ہے:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: آیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب و اذا وعد اخلف و اذا ائتمن خان
ترجمہ: بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3) جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 59، ص 46، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہو حرام و خیانت ہے توبہ و استغفار فرض ہے اور تاوان لازم۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 489، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امانت میں تصرف کی اجازت دے دی جائے، تو وہ قرض بن جاتا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیں، اس حالت میں جب سیٹھ تصرف کرے گا، روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا، جو عندالطلب دینا آئے گا، اگرچہ کوئی میعاد مقرر کردی ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 166، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4859
تاریخ اجراء: 29 رمضان المبارک 1447ھ / 19 مارچ 2026ء