logo logo
AI Search

نابالغ کا نماز کے وقت میں بالغ ہوجانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغ نماز پڑھنے کے بعد بالغ ہوگیا تو اس نماز کا حکم ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ نابالغ بچے یا بچی نے حالتِ نابالغی میں فرض نماز ادا کی پھراسی نماز کے وقت میں بالغ ہو گئے ،تو کیا اب یہ ادا کی گئی نماز دوبارہ پڑھنا فرض ہوگی یا نہیں؟

جواب

نابالغ لڑکے یا نابالغہ لڑکی نے حالتِ نابالغی میں کوئی بھی فرض نمازادا کی، پھر لڑکا یا لڑکی (حیض کے علاوہ) مثلا عمر (یعنی ہجری سن کے اعتبار سے پورے پندرہ سال مکمل ہونے) یا احتلام وغیرہ کی صورت میں بالغ ہوگئے اور اسی نماز کا اس قدر وقت باقی ہے کہ جس میں تکبیر تحریمہ کہہ سکیں، تو اس وقت کی نماز ان پر فرض ہو جاتی ہے اور اگر نماز نہ پڑھی، وقت نکل گیا، تو اس کی قضا لازم ہوگی، کیونکہ انہوں نے نابالغی میں جو نماز پڑھی، وہ نفل کے حکم میں تھی، اگرچہ فرض یا واجب کی نیت کی ہو، کیونکہ فرض و واجب مکلف پر لازم ہوتے ہیں، جبکہ نابالغ بچے احکام شرع کے مکلف نہیں ہوتے، لہذا یہ نماز ان پر شرعاً فرض ہی نہیں تھی، لیکن جب وقت کے اندر ہی بالغ ہوگئے، تو اب فرض ہوگئی، جس کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔

اور اگر لڑکی حیض کے ساتھ بالغہ ہوئی، تو اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں، کیونکہ وہ ایسے عارضہ کیساتھ بالغہ ہوئی جو شرعاً نماز سے مانع ہے، تو یہ نماز اس پر فرض ہی نہ ہوئی، اس لیے کہ حیض نماز کو اصلاً ساقط کردیتا ہے، ایام کے بعد بھی قضا لازم نہیں ہوتی۔

نابالغ (بچہ یا بچی) مکلف نہیں:

سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن کبری اور صحیح ابن حبان میں ہے:

و اللفظ للاول: عن عائشة عن النبي قال: رفع القلم عن ثلاث: عن النائم حتى يستيقظ و عن الصغير حتى يكبر و عن المجنون حتى يعقل أو يفيق

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سونے والے سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے اور بچے سے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائےاور مجنون سے، یہاں تک کہ اس عقل آجائے یاوہ ہوش میں آجائے۔ (سننِ ترمذی، جلد 4، صفحہ 32، مطبوعہ مصر)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت فیض القدیر، مرقاۃ الصعود اور تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:

و اللفظ للاول: كناية عن عدم التكليف إذ التكليف يلزم منه الكتابة

ترجمہ: مکلف نہ ہونے سے کنایہ ہے، کیونکہ مکلف ہونے کی صورت میں (اعمال کی) لکھت پڑھت لازم ہوتی ہے۔ (فیض القدیر، جلد 4، صفحہ 35، مطبوعہ مصر)

علامہ ا بن عبد البر قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

ليس الصبي ممن خوطب به لقول النبي رفع القلم عن الصبي حتى يحتلم

ترجمہ: بچہ ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں مکلف بنایا گیا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچے سے قلم اٹھا لیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ (تمہید ابن عبد البر، جلد 1، صفحہ 107، مطبوعہ وزارۃ عموم الاوقاف و الشوون الاسلامیہ، مغرب)

شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

و من كان مرفوعا عنه القلم لا يتوجه عليه الخطاب

ترجمہ: اور جس شخص سے قلم اٹھا لیا گیا ہو، اس پر خطاب (شرعی احکام) لازم نہیں ہوتے۔ (المبسوط، جلد 3، صفحہ 87، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت، لبنان)

نابالغ کی نماز نفل کے حکم میں ہے:

شیخ الاسلام ابو الحسن على بن حسین السغدى حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ(سالِ وفات: 461ھ / 1068ء) لکھتے ہیں:

صلاة الصبيان كلها نقل لانه لا يكون من الصبيان فريضة و لا سنة و تكون منهم نافلة

ترجمہ: بچوں کی تمام نمازیں (بالغ کی نماز کی) نفل ہیں، کیونکہ بچوں پر نہ ہی کوئی نماز فرض ہے اور نہ ہی سنت، البتہ بچوں کیطرف سے پڑھی جانے والی نمازیں نفل ہوتی ہیں۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 1، صفحہ 112، 113، مطبوعہ مؤسسة الرسالہ، بيروت)

علامہ طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:

صلاة الصبي و لو نوى الفرض نفل

یعنی بچہ اگرچہ فرض کی نیت سے ہی نماز کیوں نہ شروع کرے، وہ نفل ہی ہوتی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 288، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بالغ ہونے پر نماز کی قضا لازم ہے:

شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں:

و هذه هي المسألة التي سمعها محمد رحمه الله تعالى من أبي حنيفة أولا على ما يحكي عنه أنه كان من أولاد بعض الأغنياء فمر يوما ببني حرام و وقف عند باب المسجد يسمع كلام أبي حنيفة كما يفعله الصبيان، و كان هو يعلم أصحابه هذه المسألة و كان محمد رحمه الله تعالى قد ابتلي بها في تلك الليلة فدخل المسجد وأعاد العشاء فدعاه أبو حنيفة و قال ما هذه الصلاة التي صليتها فأخبره بما ابتلي به فقال يا غلام: الزم مجلسنا فإنك تفلح فتفرس فيه خيرا حين رآه عمل بما تعلم من ساعته

ترجمہ: یہی وہ مسئلہ ہے جو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے پہلے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے سنا۔ (جیساکہ) امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں حکایت کیا جاتا ہے کہ آپ بعض مالدار لوگوں کی اولاد میں سے تھے، پس ایک دن بنی حرام (محلے) کے پاس سے گزرے اور مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں سننے لگے، جیسا کہ بچےکرتے ہیں، اس وقت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کو یہی مسئلہ سمجھا رہے تھے اور اسی رات امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کو اسی مسئلے کا سامنا پیش آیا تھا، پس آپ مسجد میں داخل ہوئے اور عشاء کی نماز دوبارہ ادا کی، تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں بلایا اور فرمایا: یہ کون سی نماز ہے جو تم نے پڑھی؟ پس امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے معاملہ بیان کردیا، تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اے لڑکے! ہماری مجلس کو لازم پکڑ لو، تم ضرور کامیاب ہوگے، پس امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھتے ہی ان میں بھلائی کے آثار دیکھ لیے تھے اس وجہ سے کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اسی لمحے سے اس علم پر عمل شروع کر دیا، جو انہوں نے سیکھا تھا۔ (المبسوط، جلد 2، صفحہ 95، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان)

محیط برھانی، فتح القدیر، فتاوی عالمگیری، خزانۃ المفتین اور بحر الرائق میں ہے:

و اللفظ للآخر: غلام احتلم بعدما صلى العشاء و لم يستيقظ حتى طلع الفجر ليس عليه قضاء العشاء و المختار أن عليه قضاء العشاء و إذا استيقظ قبل الطلوع عليه قضاء العشاء بالإجماع

ترجمہ: نابالغ لڑکے نے عشاء کی نماز پڑھ لی، پھر اسے احتلام ہو گیا، لیکن وہ فجر طلوع ہونے تک بیدار نہ ہوا، تو اس پر عشاء کی قضا نہیں ہے اور مختار قول یہ ہے کہ اس پر عشاء کی قضا لازم ہے اور اگر وہ فجر کے طلوع سے پہلے بیدار ہو گیا، تو اس پر عشاء کی قضاء بالاجماع لازم ہے۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 96، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

و لو احتلم الصبي ليلا ثم تنبه قبل طلوع الفجر قضى صلاة العشاء بلا خلاف لأنه حكم ببلوغه بالاحتلام و قد انتبه و الوقت قائم فيلزمه أن يؤديها

ترجمہ: اگر نابالغ لڑکے کو رات میں احتلام ہو جائے، پھر وہ فجر کے طلوع سے پہلے بیدار ہو جائے، تو بلا اختلاف اس پر عشاء کی نماز ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ احتلام سے اس کے بالغ ہونے کا حکم لگ چکا اور وہ بیدار بھی ہو گیا، جبکہ وقت باقی تھا، اس لیے اس پر نماز ادا کرنا لازم ہو گئی۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 3، صفحہ 574، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں:

تجب على۔۔۔ صبي بلغ، و مرتد أسلم و إن صليا في أول الوقت

ترجمہ: نماز واجب ہو جاتی ہے… اس بچہ پر جو بالغ ہو جائے، اور اس مرتد پر جو اسلام قبول کر لے، اگرچہ انہوں نے وقت کے شروع میں نماز پڑھ لی ہو۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 357، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (قوله: و صبي بلغ) کے تحت لکھتے ہیں:

أي و كان بين بلوغه و آخر الوقت ما يسع التحريمة أو أكثر

ترجمہ: یعنی اس کے بالغ ہونے اور وقت کے ختم ہونے کے درمیان اتنا وقت ہو کہ کم از کم تکبیرِ تحریمہ کہی جا سکے یا اس سے زیادہ۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 357، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

بچی حیض کے ساتھ بالغہ ہوئی، تو قضا لازم نہیں:

صحیح مسلم میں ہے:

عن معاذة أن امرأة سألت عائشة فقالت: أتقضي إحدانا الصلاة أيام محيضها؟ فقالت عائشة: أحرورية أنت؟ قد كانت إحدانا تحيض على عهد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ثم لا تؤمر بقضاء

ترجمہ: حضرت معاذہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (حیض کے بارے میں) سوال کرتے ہوئے عرض کی، کیا ہم میں سے کوئی اپنے حیض کے ایام سے فراغت کے بعد نماز کی قضا کرے گی؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ بے شک ہم میں سے جب کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حیض آتا، پھر (پاکی کے بعد) ان کو قضا کا حکم نہیں دیا جاتا۔ (صحیح المسلم، جلد 1، صفحه 182، مطبوعه دار الطوق النجاۃ، بیروت)

علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں:

و الحيض يسقط عن الحائض الصلاة و يحرم عليها الصوم و تقضي الصوم و لا تقضي الصلاة، لقول عائشة رضی اللہ عنھا كانت إحدانا على عهد رسول اللہ إذا طهرت من حيضها تقضي الصيام و لا تقضي الصلاة و لأن في قضاء الصلاة حرجا لتضاعفها و لا حرج في قضاء الصوم

ترجمہ: اور حیض حائضہ عورت سے نماز کو ساقط کردیتا ہے اور اس پر روزہ رکھنا حرام ہے اور وہ روزے کی قضا کرے گی، لیکن نماز کی قضا نہیں کرے گی، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ہم میں سے جب کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ اقدس میں حیض سے پاک ہوجاتی،تو وہ روزے کی قضا تو کرتی، لیکن نماز کی قضا نہ کرتی۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز کی قضا کرنے میں اس کے دُگنا (یعنی وقتی اور قضا نماز) ہونے کی وجہ سے حرج ہے، جبکہ روزے میں حرج نہیں۔ (الھدایۃ، کتاب الحج، جلد 1، صفحہ 33، مطبوعہ دار احياء التراث العربي)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

الصبية إذا بلغت بالحيض قبل طلوع الفجر لا يلزمها قضاء العشاء؛ لأن الحيض لو طرأ على الوجوب أسقط الوجوب فإذا قارنه أولى أن يمنع وإن بلغت بالسن تلزمها العشاء

ترجمہ: نابالغہ لڑکی جوحیض کے ذریعے طلوعِ فجر سے پہلے بالغہ ہو ئی، تو اس پر عشاء کی قضا لازم نہیں ہوگی، کیونکہ اگر حیض وجوب کے بعد لاحق ہو جائے، تو وجوب کو ساقط کر دیتا ہے، تو جب وجوب کے آغاز کے ساتھ ہی مقارن ہو، تو بدرجۂ اولیٰ وجوب کو روک دے گا۔ اور اگر وہ عمر کے اعتبار سے بالغ ہو، تو اس پر عشاء لازم ہوگی۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 121، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: لڑکی نماز عشا پڑھ کر یا بے پڑھے سوئی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ پہلا حیض آیا، تو اس پر وہ عشا فرض نہیں اور اگر احتلام سے بالغ ہوئی تو اس کا حکم وہ ہے جو لڑکے کا ہے، پَو پھٹنے سے پہلے آنکھ کھلی، تو اُس وقت کی نماز فرض ہے ،اگرچہ پڑھ کر سوئی اور پَو پھٹنے کے بعد آنکھ کھلی تو عشا کا اعادہ کرے اور عمر سے بالغ ہوئی یعنی اس کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوگئی تو جس وقت پورے پندرہ سال کی ہوئی، اس وقت کی نماز اس پر فرض ہے، اگرچہ پہلے پڑھ چکی ہو۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 703، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبد الرب شاکرعطاری مدنی
مصدق: ابو الصالح مفتی محمدقاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9782
تاریخ اجراء: 20 شعبان المعظم1445ھ / 09فروری2026ء