logo logo
AI Search

بُچی کے بال کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بُچی کے بڑھے ہوئے بال کاٹنے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں، کہ وہ قدرتی طور پر مڑ گئے ہیں، اور منہ کے اندر چلے جاتے ہیں، ان پر کھانا اور مشروبات بھی لگ جاتے ہیں، کیا میں انہیں کاٹ سکتا ہوں؟

جواب

جی ہاں! بچی کے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے بالوں کو بقدرِ ضرورت کاٹ سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:

ہونٹوں کے نیچے، بُچی یا اس کے آس پاس کے بال بلا ضرورت مونڈنا یا منڈوانا ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ یہ بال داڑھی میں شامل ہیں، اور داڑھی مونڈنا یا منڈوانا، ناجائز و گناہ ہے، البتہ! اگر یہ بال اتنے بڑھ جائیں کہ کھانے، پینے اور کلی وغیرہ کرنے میں رکاوٹ بنیں، تو انہیں بقدرِ ضرورت کاٹ دینے میں حرج نہیں۔

بُچی یا اس کے آس پاس کے بال بلا حاجت مونڈنے یا کاٹنے کے متعلق فتاوٰی عالمگیری اور رد المحتار میں ہے

(واللفظ للاول) نتف الفنیکین بدعۃ و ھو جانبا العنفقۃ و ھی شعر الشفۃ السفلی

ترجمہ: دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ عنفقہ (بُچی) کے دونوں جانب کے بال ہیں اور عنفقہ نیچے والے ہونٹ کے بال ہیں۔ (فتاوٰی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 358، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوٰی رضویہ میں ہے یہ بال بداہۃً سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انھیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں۔ وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنھیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں۔ داخل ریش ہیں۔۔۔ تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنہیں عربی میں فنیکین، ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں، داڑھی کے باب میں حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:اعفو اللحی و اوفرو اللحی (داڑھیاں بڑھاؤاور زیادہ کرو۔ ت) ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 22، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے بُچی کے اغل بغل کے بال مونڈانا یا اکھیڑنا بدعت ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 585، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بُچی کے بال حد سے زیادہ بڑھ جانے پر کاٹنے کے بارے میں امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرماتے ہیں: ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہوں کہ کھانا کھانے، پانی پینے، کلی کرنے میں مزاحمت کریں، تو ان کا قینچی سے بقدرِ حاجت کم کر دینا روا ہے۔ خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے:

یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل او الشرب

(ترجمہ: زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں، جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔ ت) یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے، نہ کہ مونڈنا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 599، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4773
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک1447ھ /23 فروری2026ء