logo logo
AI Search

فالج کے مریض کیلئے نماز اور روزہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جو مریض جسم کا آدھا حصہ مفلوج ہونے کے سبب بیٹھ نہ سکتا ہو، اس کے لئے نماز و روزوں کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی بزرگ کو بائیں پوری طرف کا فالج ہو خود بیٹھ نہ سکتے ہوں تو ان کی نماز اور روزوں کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے چند نادر صورتوں کے علاوہ نماز کسی حالت میں معاف نہیں کی بلکہ یہ حکم دیا کہ مریض کو جس طرح ممکن ہو، نماز ادا کرے، اگر کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے،اگر بیٹھنا بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرے، مریض میں جب تک اشارے سے بھی نماز ادا کرنے کی طاقت باقی ہو اور پھر بھی نہ پڑھے، تو وہ ان سخت وعیدوں کا مستحق ہے جو احادیث میں تارکِ نماز کے لیے بیان کی گئی ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر مریض بیٹھنے پر قادر نہ ہو تو لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھے۔ یونہی اگرروزہ رکھنے سے بیماری میں اضافہ نہ ہو اور مریض برداشت کر سکتا ہو تو روزہ رکھنا بھی لازم ہوگا، اور اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے سے مرض بڑھ جائے گا یا دیر سے اچھا ہوگا تو اسے رخصت ہے کہ ابھی روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں جب صحت ملے تو اس کی قضا کرلے۔ البتہ یاد رہے کہ روزے کے بجائے اس کا فدیہ ادا کرنے کا حکم فقط شیخِ فانی کے لیے ہے، مطلق مریض کے لیے یہ حکم نہیں، شیخِ فانی وہ شخص ہوتا ہے کہ جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہوچکا ہو کہ حقیقتاً اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہ ہو، نہ سردی میں نہ گرمی میں، نہ لگاتار نہ متفرق طور پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو، ایسے شیخِ فانی کے لیے شرعاً حکم یہ ہوتا ہے کہ وہ روزے کا فدیہ ادا کرے۔

مریض کی نماز کے متعلق در مختار میں ہے:

(و إن تعذر القعود أو مأ مستلقيا) على ظهره (و رجلاه نحو القبلة) غير أنه ينصب ركبتيه لكراهة مد الرجل إلى القبلة و يرفع رأسه يسيرا ليصير وجهه إليها (أو على جنبه الأيمن) أو الأيسر و وجهه إليها (و الأول أفضل) على المعتمد، ملتقطاً

ترجمہ: اگر بیٹھنا مشکل ہو، تو پیٹھ کے بَل لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھے اور پاؤں قبلہ کی جانب کر دے، لیکن اپنے گھٹنے کھڑے رکھے کہ قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا، مکروہ ہے اور اپنے سر کو قدرے اونچا کرے تاکہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو جائے یا دائیں یا بائیں کروٹ لیٹ کر چہرہ قبلہ کی طرف کر کے نماز پڑھے اور معتمد قول کے مطابق پہلا طریقہ افضل ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 2، صفحہ 686، 687، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: اگر مریض بیٹھنے پر بھی قادر نہیں تو لیٹ کر اشارہ سے پڑھے، خواہ داہنی یا بائیں کروٹ پر لیٹ کر قبلہ کو مونھ کرے خواہ چت لیٹ کر قبلہ کو پاؤں کرے مگر پاؤں نہ پھیلائے، کہ قبلہ کو پاؤں پھیلانا مکروہ ہے بلکہ گھٹنے کھڑے رکھے اور سر کے نیچے تکیہ وغیرہ رکھ کر اونچا کر لے کہ مونھ قبلہ کو ہو جائے اور یہ صورت یعنی چت لیٹ کر پڑھنا افضل ہے۔ اگر سر سے اشارہ بھی نہ کرسکے تو نماز ساقط ہے، اس کی ضرورت نہیں کہ آنکھ یا بھوں یا دل کے اشارہ سے پڑھے پھر اگر چھ وقت اسی حالت میں گزر گئے تو ان کی قضا بھی ساقط، فدیہ کی بھی حاجت نہیں ورنہ بعد صحت ان نمازوں کی قضا لازم ہے اگرچہ اتنی ہی صحت ہو کہ سر کے اشارہ سے پڑھ سکے۔۔۔ شرع مطہرہ نے کسی حالت میں بھی سوا بعض نادر صورتوں کے نما زمعاف نہیں کی بلکہ یہ حکم دیا کہ جس طرح ممکن ہو پڑھے۔ آج کل جو بڑے نمازی کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت دیکھی جا رہی ہے کہ بخار آیا ذرا شدت ہوئی نماز چھوڑدی شدت کا درد ہوا نماز چھوڑدی کوئی پھڑیا نکل آئی نماز چھوڑدی، یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ دردِ سر و زکام میں نماز چھوڑ بیٹھتے ہیں حالانکہ جب تک اشارے سے بھی پڑھ سکتا ہو اور نہ پڑھے تو انھيں وعیدوں کا مستحق ہے جو شروع کتاب میں تارک الصلوٰۃ کے ليے احادیث سے بیان ہوئیں، و العیاذ باللہ تعالیٰ۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 4، صفحہ 722، 725، مکتبۃ المدینہ)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: جو ایسا مریض ہے کہ روزہ نہیں رکھ سکتا روزہ سے اُسے ضرر ہوگا، مرض بڑھے گا یا دن کھینچیں گے، اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہو تو جتنے دنوں یہ حالت رہے اگرچہ پُورا مہینہ وہ روزہ ناغہ کرسکتا ہے اور بعد صحت اس کی قضا رکھے، جتنے روزے چُھوٹے ہوں ایک سے تیس تک۔ اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل و بے معنی ہے، بدنی عبادت ایك کے کئے دوسرے پر سے نہیں اُتر سکتی، نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔ (فتاویٰ رضویہ ج 10، ص 520، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہر گز نہیں، فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو، اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو، بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے، اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَ جَل روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 521، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4854
تاریخ اجراء: 07 شوّال المکرم 1447ھ / 27 مارچ 2026ء